ہندوستان میں آزاد بلوچستان کا سیاسی دفتر کھول کر پاکستان کو بھرپور جواب دیا جائے۔ انڈین سیاستدان

کوئٹہ/رپورٹ (ریپبلکن نیوز) ہندوستانی زیر انتظام کشمیر میں کل ہونے والے حملے کے بعد انڈیا میں کافی غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے ، آج نئی دہلی میں مظاہرین نے پاکستانی سفارتخانے پر دھاوا بولنے کی بھی کوششیں کیں جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔ جبکہ سیاسی رہنما کشمیر میں پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملے کا زمہ دار پاکستان کو قرار دے رہے ہیں۔

کل کشمیر میں ہونے والے حملے میں 42 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے جس کی زمہ داری جیش محمد نے قبول کرلی تھی۔ یہ بات اب راض نہیں رہی کہ جیش محمد کو پاکستان کی مکمل حمایت اور مدد حاصل ہے جو پاکستان سے ہندوستان اور ہندوستانی زیرِ انتظام کشمیر میں حملے کرواتے ہیں۔

جب بھی ہندوستان پر حملہ ہوتا ہے تو وہاں کے سیاسی رہنماوں کو بلوچستان یاد آتا ہے، بالکل اسی طرح ایک بار پھر ہندوستان میں بلوچستان کی آزادی کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی ہے۔ ہندوستانی سیاسی رہنماوں کا کہنا ہے کہ پاکستان سے بدلہ لینے کا بہترین طریقہ بلوچستان کی آزادی ہے۔  کچھ انڈین رہنماوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں آزاد بلوچستان کا سیاسی دفتر کھولنا چایئے جو ایک بہترین بدلہ ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید رپورٹ پڑھیں:

راشد حسین کی پاکستان حوالگی کے خلاف ٹویٹر میں مہم چلائی جائیگی

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف بی آر پی لندن کی جانب سے سات روزہ آگاہی مہم کا آغاز

سوئی سے صادق آباد جانے والی گیس پائپ تباہ، پاکستان کی معشت کو زبردست دھچکہ

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انڈیا بلوچستان کو بطورِ پریشر ٹول استعمال کرنا چاہتا ہے، کیونکہ بلوچستان کے حوالے سے ہندوستان کی کوئی بھی مستقل پالیسی نہیں ہے۔ جس پر بلوچ قوم پرست رہنماوں نے متعدد بار خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

ہندوستانی وزیرِ اعظم نرندر مودی بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کر کے بہت بڑی غلطی کردی ہے، جس کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ مودی نے کہا ہے کہ تمام اداروں کو اجازت دے دی گئی ہے کہ کشمیر میں ہونےوالے حملے کے جواب میں وقت اور جگہ کا تعین کرے اور بہترین پلاننگ کرکے مجھے آگاہ کریں۔

یاد رہے کہ پندرہ اگست 2016 کو یومِ آزادی ہندوستان کے موقع پر نرندر مودی نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بلوچوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کا اظہار کیا تھا جس کے بعد ہندوستانی میڈیا میں بلوچستان کے مسئلے کو منظم انداز میں اجاگر کیا گیا تھا۔

لیکن کچھ ہی عرصے بعد اس مسئلہ کو مکمل طورپر نذر انداز کردیا گیا، کیونکہ ہندوستان بلوچستان کو صرف ایک پریشر ٹول کی حیثیت سے استعمال کرنا چاہتا ہے ، جب بھی ہندوستان کو تکلیف پہنچائی جاتی ہے تب انہیں بلوچستان یاد آجاتا ہے۔ اور معاملات ٹھنڈے پڑجانے پر بلوچستان کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button