پاکستان نے گزشتہ پانچ سالوں میں مختلف ممالک سے 17532 ملین ڈالر بھیک میں حاصل کیئے

2018 کا سال پاکستان کے لیے پریشانیوں کا پیغام لا چکا ہے

کوئٹہ/رپورٹ(ریپبلکن نیوز) ریاست پاکستان بیرونی امداد کے بغیر چلنے کے قابل نہیں اس بات سے سب ہی واقفیت رکھتے ہیں لیکن آج ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہ کون کون سے ممالک ہیں جو اس ناکارہ ریاست کو دھکا دیکر چلانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

پاکستان نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران نام نہاد ترقیاتی کاموں کے غرض سے دنیا کے دس اہم ممالک سے کربوں ڈالر بھیک میں لیے ہیں۔

امریکہ

پاکستان کو گزشتہ پانچ سالوں کے دوران سب سے زیادہ امداد امریکہ کی جانب سے دی گئی ہے جو 3935 ملین ڈالر بنتے ہیں۔ حالانکہ پاکستانی ہی وہ قوم ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ گالیاں امریکہ کو دیتے ہیں اور ملکی تمام مسائل کا زمہ دار بھی امریکہ کو قرار دیتے ہیں۔

برطانیہ

برطانیہ وہ ملک ہے جس نے اس غیر فطری ریاست (پاکستان) کو بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور ہندوستان کو تقسیم کرتے ہوئے پاکستان کو وجود میں لایا۔ برطانیہ اس ریاست کو بھیک فرائم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔  برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو پانچ سالوں کے دوران 2686 ملن ڈالرترقیاقی منصوبوں کے لیے ادا کئے گئے۔

جاپان

جاپان وہ ملک ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد مکمل طورپر برباد ہوگیا تھا جس پر امریکہ نے دو ایٹم بم حملے کئے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک اس ملک نے پھر سے خود کو منواتے ہوئے دنیا کے اہم ممالک میں اپنا نام شامل کر دیا ہے۔ حالانکہ جاپان پر ایٹمی حملوں اور پاکستان کے وجود میں آنے میں زیادہ فرق نہیں لیکن پھر بھی آج جاپان وہ تیسرا ملک ہے جو پاکستان کو سب سے زیادہ امداد فرائم کرتی ہے ۔ جاپان کی جانب سے پانچ سالوں میں پاکستان کو دی جانے والے امداد کی رقم 1303 ملین ڈالر بنتی ہے۔

یورپی یونین

یورپی یونین نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 867ملین ڈالر ادا کیے ہیں۔

جرمنی

جرمنی نے دو جنگ عظیم لڑی ہیں اور ان دونوں جنگوں کے دوران یہ ملک مکمل طورپر تباہ ہوچکا تھا اور اسکی معیشت مفلوج ہوکر رہہ گئئ تھی لیکن آج یہ ملک پاکستان کو امداد فرائم کرنے والا دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک ہے۔ جرمنی کی جانب سے پاکستان کو پانچ سالوں میں 544 ملین ڈالر امداد ادا کیے گئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات پاکستان کو ترقیانی منصوبوں کے لیےامداد فرائم کرنے والا چھٹا اہم ملک ہے جس نے پانچ سالوں میں پاکستان کو 473ملین ڈالر ادا کیے ہیں۔

آسٹریلیا

آسٹریلیاں کا شمار پاکستان کو ترقیاتی کاموں کے لیے امداد فرائم کرنے والے ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر ہے جس نے گزشتہ پانچ برسوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے پاکستانی ریاست کو 352 ملین ڈالر امداد فرائم کیں ہیں۔

کینیڈا

کینیڈا نے 2010 سے 2015 تک پاکستان کو ترقیانی منصوبوں کے لیے 262 ملین ڈالر ادا کیے اور اس کا شمار پاکستان کو امداد فرائم کرنے والے ممالک کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

ترکی

ترکی کا شمار پاکستانی ریاست کو امداد فرائم کرنے والے ممالک میں نویں نمبرہے۔ جس نے گزشتہ پانچ سالوں میں  ترقیانی منصوبوں کے لیے اس ریاست کو 236 ملین ڈالر ادا کیے ہیں۔

ناروے

یورپی ملک ناروے نے پاکستان کو 2010سے 2015 تک کے عرصے میں ترقیاتی کاموں کے لیے 126 ملین ڈالر امداد فرائم کیں ہیں۔ اس کا شمار دسویں نمبر پر ہے۔

چین

چین کا شمار پاکستان کو امداد فرائم کرنے والے ممالک میں نہیں ہوتا لیکن یہ ریاست قرضے دینے اور قرضے دیکر دوسروں کی سرزمین پر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں سب سے آگے ہے۔ صرف 2014 میں چین نے پاکستان کو 4600 ملین ڈالر قرضے ادا کئے ہیں۔

سعودی عرب

سعودی عرب کا شمار بھی ان ممالک میں نہیں ہوتا جو پاکستان کو امداد فرائم کرتے ہیں بلکہ یہ بھی چین کی طرح پاکستان کو قرضے ادا کرتی ہے۔ 1975 سے لیکر 2014 تک سعودی عرب نے پاکستان کو 2384 ملین ڈالر قرضے ادا کیے ہیں۔

خیال رہے کہ اس مضمون میں صرف ترقیاتی منصوبوں کے لیے دی جانے والی امداد کا زکر کیا گیا ہے جبکہ پاکستان دنیا بھر سے کربوں ڈالر عسکری امداد بھی حاصل کرتا رہا ہے۔ جبکہ حال ہی میں امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے امریکہ نے پاکستان کو 33 بلین ڈالر ادا کیئے ہیں۔

پاکستان دنیا بھر سے عسکری اور ملکی ترقیاقی منصوبوں کے نام پر کربوں ڈالر امداد حاصل کرنے کے باجود بھی اپنے ملکی مسائل کو ختم کرنے میں مکمل طورپر ناکامی کا شکار ہے۔ کیونکہ دہشتگردی کے نام پر حاصل کیئے گئے کربوں ڈالر پاکستانی فوجی جرنیلوں کے سوئس بینکوں میں جمع ہیں جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے حاصل کیئے گئے کربوں ڈالر پاکستانی کرپٹ سیاستدانوں کے سوئس بینک اکاونٹس میں محفوظ ہیں جن پر ان کی نسلیں عیاشیاں کر رہے ہیں۔

لیکن یہاں اچھی خبر یہ ہے کہ کئی سال گزر جانے کے بعد بالاخر امریکہ کو ہوش آیا اور سال 2018 کے پہلے پیغام میں امریکی صدر نے واضح کردیا ہے کہ اب امریکہ پاکستان کو مزید امداد فرائم نہیں کریگا کیونکہ پاکستان خود دہشتگردوں کو پناہ دیتا ہے اور امریکہ کو بے وقوف سمجھتا ہے۔

پاکستانی خفیہ ادارے اور ریاستی فوج افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے حقانی نیٹورک سمیت متعدد مذہبی تنظیموں کو بطور پراکسی استعمال کر رہے ہیں جو افغانستان میں حملوں میں ملوث ہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close