نائلہ قادری کی بھارت میں بلوچوں کی جلاوطن فردی حکومت

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز/مضمون)گزشتہ کچھ عرصے سے نائلہ قادری اور ان کا بیٹا مزدک بلوچ ہندوستان میں کافی سرگرم ہیں اوربہت اچھی طرح بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔جو ایک مثبت عمل ہے لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ انہیں یہ اختیار دیا جائے کو وہ بلوچ قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے ہندوستان میں بلوچوں کی جلا وطن فردی حکومت قائم کرے۔

نائلہ قادری بلوچستان نیشنل پارٹی کی رکن اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کی رکن رہہ چکی ہے اور کافی عرصے سے بلوچ قومی جدوجہد سے وابستہ ہے انہیں بی آر پی سے کیو ں نکا لا گیا وہ ایک الگ بحث ہے۔ اگر بات حقائق پر کی جائے تو بلوچ آزادی پسند رہنماؤں میں اختلافات کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ فردوں کو یہ اختیار نہ دیا جائے کہ وہ قوم کی نمائندگی کریں ۔

ہمیں اچھی طرح یاد ہے جب بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب سے نوابزادہ حیربیار مری کو بیرون ممالک بلوچ قومی سفیر کا درجہ دیا گیا تھا تو اس پر سب سے پہلے بلوچ ریپبلکن پارٹی اور پھر بلوچ نیشنل موومنٹ سمیت دیگر آزادی پسند جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلہ کو رد کر دیا۔اگر دیکھا جائے توحیر بیار مری بلوچستان میں اسٹیک ہولڈر کی حیثیت رکھتا ہے لیکن جب بات قوم کی نمائندگی کی آگئی تو سب نے اسے رد کر دیا۔ کیونکہ قومی فیصلے فرد نہیں بلکہ منظم ادارے کرتے ہیں آج بلوچ قوم کے پاس ایسے ادارے موجود ہیں جو اس طرح اہمیت کے حامل فیصلے کر بھی سکتے ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی کر سکتے ہیں۔

لیکن نائلہ قادری نے سب پر بازی لے جانے کی جلد بازی میں بلوچ قومی مسئلے کو ہندوستان سمیت دنیا بھر میں نقصان سے دو چار کر دیا ہے۔ جس جلد بازی میں نائلہ قادری بھارت یاترا پر نکل پڑی اور وہاں پہنچ کر یہ اعلان کر دیا کہ وہ بلوچوں کی جلاوطن حکومت قائم کرنے آئی ہے نے سب کو حیران کر دیا۔آج سے کچھ سال پہلے اسی طرز کا ایک فیصلہ ایک فرد کی جانب سے کیا گیا تھا جس میں چارٹر نامی ایک بلا کو بلوچ قوم پر مسلط کرنے کی ناکام کوشش کی گئی جسے تمام آزادی پسند حلقوں نے رد کر دیا تھا ۔ چارٹر کو رد کرتے ہوئے آزادی پسند حلقوں نے واضح پیغام دیا تھا کہ قومی فیصلے فرد نہیں ادارے کرتے ہیں ۔

چارٹر بنانے والوں میں اب ایک اچھی تبدیلی یہ آگئی ہے کہ اب وہ بھی اداروں پر یقین کرنے لگے ہیں۔سبب سوال یہ اٹھتا ہے کہ بلوچ قوم نے حیربیار کے دیئے گئے چارٹر کو اس بنیاد پر رد کر دیا کہ وہ ایک فرد تھا تو نائلہ قادری صاحبہ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ وہ وقت و حالات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں اس حد تک بھی جا سکتی ہے۔۔۔؟

میں سمجھتا ہوں نائلہ قادری ہی نہیں بلکہ کسی کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ تنہا بلوچ قوم کی نمائندگی کرے ، بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد میں مصروف بلوچ قومی اداروں کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اکیلے اس طرح کے فیصلے کر سکیں۔بلکہ اس طرح کے قومی فیصلوں میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر چلنا پڑتا ہے ۔ انہی اداروں اور بلوچ شہداء کی بدولت آج بلوچ قومی مسئلہ دنیا بھر میں گھونج رہا ہے۔

آج نائلہ قادری نے ہندوستان میں بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹر ویو میں کہا کہ براہمدغ بگٹی کو بلوچ قوم کا مینڈیٹ حاصل ہے اسے وہ کس طرح ثابت کر سکتے ہیں۔تو میرا انکے لیے جواب یہی ہے کہ براہمدغ بگٹی ایک سوچ ایک نظریے کا نام ہے جسے بلوچستان میں ہر پیر و ورنا ء عزت کی نگاء سے دیکھتا ہے اور سب سے بڑی بات کہ وہ ایک سیاسی پارٹی کے صدر ہیں جس کے بلوچستان بھر اور بیرون ممالک میں چیپٹرز موجود ہیں جو بہت اچھی طرح بلوچ قومی مسئلے کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

نائلہ قادری ایک ایسے جماعت سے تعلق رکھتی ہے جس کاصدر سے لیکر مرکزی کابینہ اور کارکن تک وہ خود ہے جس کے آئین و منشور سے کوئی واقف نہیں۔اگر نائلہ قادری کو بیرون ممالک بلوچوں کی جلاوطن حکومت قائم کرنا ہے تو سب سے پہلے انہیں ایک آزادی پسند ادارے سے جڑنا ہوگا کیونک اس طرح کے فیصلے غیر سیاسی لوگ نہیں کرسکتے۔نائلہ قادری کے اس حرکت کوبلوچ آزادی پسند جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو ایک مثبت عمل ہے۔کیونکہ فرد اور ادارے میں فرق ہونا چایئے۔

تحریر: خالد بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close