مستونگ دھماکے میں خون سے لت پت لاشیں بھی پنجابی میڈیا کا ضمیر جگانے میں ناکام رہے

کوئٹہ/ریپبلکن نیوز (ریپبلکن نیوز) گزشتہ دن بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ریاستی حمایتی یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ اور نومولود نام نہاد سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی(باپ ) کے انتخابی امیدوار سراج رئیسانی کے قافلے پر ہونے والے ایک خود کش حملے میں سراج رئیسانی سمیت 200 سے زاہد لوگ مارگ گئے جبکہ 400 سے زاہد لوگ زخمی ہوئے تھے جو تاحال بے یارو مددگار اپنی مدد آپ کے تحت اپنی سانسوں کو جاری رکھنے کی کوششوں میں ہیں۔

مستونگ میں ہونے والا خودکش حملہ اتنا شدید اور خوفناک تھا جس نے 200 سے زاہد لوگوں کی جانیں لے لیں اور 400 سے زاہد لوگوں کو شدید زخمی کردیا، لیکن پھر بھی پاکستانی میڈیا میں اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہا۔ کیونکہ جس سرزمین پر خون بہا وہ بلوچستان اور جن لوگوں کا خون بہا وہ بلوچ تھے۔اگر یہ دھماکہ پنجاب میں ہوتا شاید تب پاکستانی میڈیا نواز شریف کے چہرے پر مسکراہٹ کے بجائے اس دھماکے میں ہونے والے نقصانات سے عوام کو آگاہ کرتی۔

کل جس وقت مستونگ میں دھماکہ ہوا، بالکل اسی وقت پاکستانی میڈیا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف اور انکی صاحبزادی مریم نواز کی ملک واپس لوٹنے کے بارے میں خصوصی خبریں نشر کرنے میں مصروف تھی۔

پنجابی میڈیا کل پورا دن لاہور ایئرپورٹ اور لاہور شہر میں موجود تھا،جہاں وہ نواز شریف  اور مریم نوازکی ملک واپسی پر خبرےبنانے میں مگن رہے۔یہاں تک کہ میڈیا میں خصوصی پروگرام ترتیب دیئے گئے تھے جہاں مریم نواز اور نواز شریف کے چہروں کو پڑھنے کی کوششٰں کی جارہی تھیں، دوسری جانب بلوچستان میں  کھلے آسمان تلے بلوچ بچوں، جوانوں اور بزرگوں کی خون سے لت پت لاشیں پنجابی میڈیا کاضمیر جگانے میں ناکام نظر آئے۔

جائے دھماکہ پر نا ایمبولینس تھے، نہ دیگر طبی سہولیات جس سے زخمیوں کو بچایا جا سکتا تھا، مستونگ اور کوئٹہ کا فاصلہ قریب ایک گھنٹے کا ہے، اور زخمی بے یار و مددگار خون سے لت اپنی سانسیں رکھنے کے انتظار میں تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مستونگ پنجاب کا شہر تو ہے نہیں جہاں ریاست حرکت میں آئے گی اور زخمیوں کو بچانے کےلیےہیلی کاپٹر بھیجے جائیں گے۔

سوشل میڈیا میں مستونگ دھماکے کی ایک ویڈیو آنکھوں سے گزری جس میں صرف ایک ایمبولینس کو دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بغیر چت والی گاڑیوں پر زخمیوں کو کوئٹہ لے جانے میں مصروف تھے۔ ان بغیر چت والی گاڑیوں میں پنجاب میں شاید چینی کی بوریاں لادتے ہونگے۔

سراج رئیسانی پاکستانی ڈیتھ اسکواڈ کا سربراہ تھا جسے ریاستی عسکری ادارے آزادی پسند بلوچ فرزندوں کے خلاف استعمال کر رہے تھے،لیکن اس پر ہونے والے خودکش حملے میں ریاستی عسکری ادارےلوگوں کو بچانے میں کئی بھی نظر نہیں آئے، بلکہ ایف سی کے اہلکار دور کھڑے ہوکر بس نظارہ دیکھ رہے تھے۔

بلوچوں کو سمجھنا ہوگا کہ پنجابی ریاست کے عسکرے ادارے  کسی صورت بلوچ کا دوست نہیں ہوسکتے، جن مذہبی دہشتگردوں نے مستونگ میں دھماکہ کیا وہ بھی اسی پنجابی ریاست کے پیدا وار ہیں۔

تحریر: میر جان بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close