لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2374 دن ہوگئے۔ماما قدیر بلوچ

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2374 دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں محمد شہی کمیٹی کے صدر حاجی محمد ہاشم اپنے کابینہ کے ساتھ لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں لوگوں کو اٹھانے و لاپتہ کرنے ومسخ شہدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ ایک اعظیم انسانی المیہ ہے ۔ 1948 سے مختلف ریاستی حکمت عملیوں سے جاری ہے بلوچ قومی جہد کے اس دور میں چیئرمین غلام محمد بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی اغواء اور مسخ شدہ لاشوں کے ساتھ ایک اور حکمت عملی کے تحت قابض ریاست نے اس سلسلے میں کو شروع کیا جو تا ہنوز بے دردی کے ساتھ جاری ہے بلوچ قومی شاعروں ادبیوں دانشوروں صحافی اور اساتذہ وقت حالات کے ساتھ ریاست نے اس میں تیزی کے ساتھ بلوچ قومی و انقلابی دانشوروں کو ٹارگٹ دھمکا نے کے سلسلوں میں تیزی لائی گئی ۔ استاد صباء دشتیار ی و دیگر درجنوں قوم کے دانشور وں کو اس لئے نشانہ بنایا گیا ۔ کہ ان کے قلم آواز الفاظ کی طاقت پاکستان جیسے نام نہاد ایٹمی ملک کو بھی خوف زدہ کر چکی ہے شعراء ادباء دانشوروں صحافیوں استادوں کو ہرا دوار میں نشانہ بنایا گیا وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کر تے ہوئے کہاکہ بلوچ فرزندوں کی بے باک قربانیوں کی بدولت بلوچ قوم دنیا میں اپنی قومی شناخت و مقبوضہ ریاست کی حیثیت کو منوانے میں کامیاب ہوچکی ہے آئے روز سول آبادیوں پر بمباری گھروں کو جلانا قوم کی اجتماعی ناسل کشی کو قابض ریاست اپنی آخری قبضے کے دن تک بند نہیں کرے گی ، آپ کو دوسروں کے گھر کا خیال ہے تو اپنے گھر کا بھی خیال رکھیں بلوچستان میں فورسز اور خفیہ اداروں کی بلوچ آبادیوں پر سفاکانہ قتل مظالم ریاستی فورسز کو بھی نظر آنی چاہئے ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close