بلوچستان میں آبادیوں پر حملوں اور اغوا کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ بی این ایم

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں آبادیوں پر حملوں اور اغوا کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، جس سے لاپتہ افراد کی تعدد میں تیزی سے اضافہ ہو رہاہے۔ مگر کسی میڈیا، سول سوسائٹی یا انسانی حقوق کے ادارے کی طرف سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آرہا ہے۔ جبکہ کشمیر میں معمولی کشیدگی پر پاکستان کے کونے کونے میں مظاہرے کئے جارہے ہیں۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچ کے خون کی کوئی قیمت نہیں اور ان عناصر کی خاموشی پاکستانی فوج کے جرائم کو جائز قرار دینے اور ان میں شریک ہونے کے مترادف ہیں ۔ حالانکہ پاکستان اور اس کا پنجابی حکمران طبقہ کشمیر کیلئے جو چاہتے ہیں ، بلوچ بھی بلوچستان کیلئے وہی چاہتے ہیں۔ تو بلوچوں کے قتل کو کیسے جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ سول سوسائٹی، میڈیا اور انسانی حقوق کے ادارے اصل میں اپنے فرائض سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔ کشمیر کشیدگی کے خلاف نیودہلی میں مظاہرے ہوتے ہیں مگر اسلام آباد میں بلوچوں پر مظالم پر آہ تک نہیں کی جاتی ہے۔ یہی پاکستان اور اس کے باشندوں کو دوسری مہذب اور جمہوری ملک اور اقوام سے تفریق کرتا ہے۔ نیو دہلی کی طرح زندہ دلانِ لاہور نے کبھی بھی زندہ دلی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ بی این ایم اور بلوچ قوم کو کسی سے گلہ نہیں ہے، کیونکہ سات دہائی کی غلامی میں پنجاب سمیت دوسرے اقوام نے بلوچوں کے ساتھ ہمیشہ حکمران و اسٹیبلشمنٹ کا جیسا رویہ رکھا ہے۔ کشمیر کیلئے مظاہرے کرنے والے وہی مذہبی شدت پسند ہیں جو پاکستان کی پشت پناہی میں بھارت کشمیر، افغانستان اور کئی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ ایسے میں بھارت سمیت مہذب ممالک کو بلوچستان میں جاری آزادی کی جد و جہد کی حمایت اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرکے اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ آواران میں پاکستانی فوج کا آپریشن تین روز سے شدت سے جاری ہے جس میں اب تک درجنوں افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز دو درجن سے زائد گاڑیوں کے قافلے نے پیراندر کے مختلف علاقوں میں آپریشن کر کے 30 سے زائد افراد کو لاپتہ کیا۔آواران کے علاقوں پیراندر ،حسن گوٹھ، ندگو،ڈھل بیدی، کچ،زیارت ڈن اورزومدان سے تیس سے زائد افراد کو حراست میں لیا۔ جس میں21 کے نام تاحال سامنے آ سکے ہیں۔۱۔وزیر ولد مہم جان،۲۔اکبر ولد غلام حسین،۳۔میران ولد شفیع محمد،۴۔ہاشم ولد نواب،۵۔عابد ولد زرین،۶۔نزیر ولد بختیار،۷۔امام بخش ولد کار جان،۸۔تاج محمد ولد عصاء،۹۔اعظم ولد تاج محمد،۱۰۔طارق ولد مولا بخش،۱۱۔شعیب ولد مولا بخش،۱۲۔ظفر ولد واحد بخش،۱۳۔منیر ولد جمل،۱۴۔عارف ولد گل محمد،۱۵۔سدھیر ولد دودا،۱۶۔مہیم ولد شیر محمد،۱۷۔منیر ولد قادر بخش،۱۸۔ڈوگو ولد رشید،۱۹۔اعظم ولد گل محمد،۲۰۔غلام ولد محمد کریم،۲۱۔بہار ولد خدا بخش،جبکہ جمعرات کے روزپاکستانی فورسز نے 6افراد کو اغوا کے بعد لاپتہ کر دیااور ایک شخص اللہ داد کو نیم مردہ حالت میں سڑک کنارے پھینک دیا گیا۔ جن میں جمعہ بلوچ اور پیران سالہ اللہ بخش چار بیٹوں نیک محمد، صالح بلوچ ،برفی ، حاجی عبداللہ سمیت شامل ہیں۔ فوج نے آواران پیراندر کے علاقے جھکرو میں گھروں میں لوٹ مار کی اور کئی گھروں کو نذر آتش کر دیا ۔ جھکرو درمان بھینٹ میں عام آبادی کو نشانہ بنایا اور گھروں کو نذر آتش کرنے سے پہلے لوٹ لیا گیا ۔ تین موٹر سائیکل اور دیگر سامان اُٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ آپریشن سے واپسی پر راستے میں زیارت ڈن سے کریم جان نامی شخص جبکہ بدھ تیرہ جولائی کو آواران بزداد سے رشید ولد دادو کو بھی اُٹھا کر لاپتہ کیا گیا۔11 جولائی پیر کے روز کیچ کے علاقے بالیچہ میں فورسز نے آبادی پر حملہ کر کے کئی افراد کو لاپتہ کیااور کئی گھروں کو آگ لگا دی۔ جن میں اکیس سالہ طالب علم عثمان ولد ماسٹر گل محمد، کیبل آپریٹر بیس سالہ یاسر ولد جان محمد اور 65 سالہ غنی ولد قادر بخش کو اُن کے گھروں سے اُٹھا کر لاپتہ کیا گیا۔ اسی روز مشکے کے علاقے نوکجو بزی و مرماسی میں پاکستانی فوج نے آپریشن کر کے کئی گھر لوٹ مارکے بعد نذر آتش کر دئیے۔جب کہ آواران بزداد سے رشید نامی شخص کو اغوا کیا گیا۔ 12 جولائی کو آواران بازار سے بزداد کلی کے رہائشی جمیل احمد ولد محمد کو پاکستانی فوج نے اغوا کرکے لاپتہ کیا۔ بدھ کے روز کوئٹہ میں نیوکاہان ہزار گنجی کے رہائشی تین مری بلوچوں شمبو خان ولد محمد علی،انکے والد محمد علی اور شیر خان ولد بہار کو فورسز نے اغوا کیا، تھوڑی دور شیر خان ولد بہار کو چھوڑ دیا گیا لیکن دونوں باپ بیٹے تاحال لاپتہ ہیں۔ 9 جولائی کو ڈیرہ بگٹی سے مورو ولد ولیداد، دل مراد ولد شازین ، لنگا ولد نوزانی، احمد ولد مگسی اور گنجو ولد پیری سمیت کئی افراد کو اغوا کیا گیا جو تاحال لاپتہ ہیں۔ اسی روز گیشکور سے بلوچی زبان کے شاعر امجد وفا کو اغوا کیا گیا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close