بلوچستان میں پاکستانی فوج کی بربریت سے لوگوں کا ہجرت کرکے اپنے آبائی علاقوں کو خالی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بی این ایم

BNMکوئٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچ فرزندوں کی اغوا، حراستی قتل عام،آباددیوں کو بزوز طاقت قابض فورسز کی جانب سے نقل مکانی پہ مجبور کرنا روز کا معمول بن چکا ہے،ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں پاکستانی فوج کی بربریت سے لوگوں کا ہجرت کرکے اپنے آبائی علاقوں کو خالی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ مہینے کیچ کے علاقے دشت میں عام آبادی پر یلغار، گھروں کے لوٹ مار اور کئی نہتے بلوچوں کو اغوا کرنے کے بعد علاقہ مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کی دھمکی دیدی گئی، جس کا میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کو مطلع کیا گیا تھا۔ لیکن ماضی کی طرح اس دفعہ بھی پاکستانی فوج کو استثنیٰ حاصل رہا،اور دشت زرین بگ اور دوسرے قریبی علاقوں کے مکین نقل مکانی پر مجبور کیے جاچکے ہیں ۔اس سے پہلے ضلع کیچ میں سامی، شاپک، شہرک، ہوشاپ، بالگتر ، ڈنڈار اور تجابان سمیت کئی علاقوں سے پاکستانی فوج نے مقامی لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا تھا۔ ضلع آواران میں مشکے، گیشکور، کولواہ اور جھاؤ بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔ جہاں سے ہزاروں خاندانوں کو بے دخل کرکے در بدر کی زندگی گزارنے پر مجبور کی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں جھاؤ کوہڑو میں بچے ہوئے چند گھروں کو پاکستانی فوج نے فوری طور پر خالی کرنے کی دھمکی دی ہے۔ جبکہ اس کے قرب و جوار کے علاقے پہلے ہی خالی کرائے جاچکے ہیں۔ جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کوہلوو ڈیرہ بگٹی سمیت بلوچستان میں تین لاکھ سے زائد افراد زبردستی بے گھر کئے گئے ہیں ۔ ترجمان نے کہا کہ ضلع آواران میں ستمبر 2013 کو آنے والی قیامت خیز زلزلے کے بعد پاکستان فوج کی ایک بہت بڑی تعداد نے امدادی کاموں کے نام پر یہاں پہنچ کر مقامی لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی۔ دوسری طرف فوج خود امدادی کاموں کے سامنے رکاوٹ بنا رہا۔ دو پاکستانی مذہبی جماعتوں کے علاوہ کسی بیرونی تنظیم کو امدادی کاموں کی اجازت نہیں دی گئی۔ کئی چوکیاں بنا کر لوگوں کے اغوا و قتل کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ آواران سے اغوا شدہ دو بھائیوں نصیر اور عمر کی لاشیں توتک خضدار کی اجتماعی قبروں سے برامد ہوئیں۔ جنہیں زلزلہ ریلیف کے نام پر موجود پاکستانی فوج نے اغوا کیا تھا۔ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں فوجی آپریشن روز کا معمول بن چکی ہیں۔گزشتہ سال 18 جولائی عید الفطر کو کولواہ کے کئی دیہاتوں پر جیٹ بمباری کرکے کئی لوگوں کو شہید، زخمی یا اغوا کیا گیا۔ اس بمباری کے بعد زمینی فوج نے ایک مہینے تک علاقے کا گھیراؤ کرکے نشانات مٹانے کی کوشش کی اور ساتھ ہی قریبی تمام دیہاتوں پر یلغار کرکے دو درجن دیہاتوں کو خالی کرایا گیا۔ جن کے مکین بیلہ، اوتھل، وندر اور حب و گرد و نواع میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان آپریشنوں میں تیزی چین کے ساتھ معاہدات کے بعد زور پکڑ چکی ہیں۔ کیونکہ ان بیشتر علاقوں سے چین پاکستان رہداری کی روٹ گزرتی ہے۔ اس روٹ کی راہ میں آنے آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دشت کے مختلف سے لوگوں کی نقل مکانی اسی کا تسلسل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ 7 جون کو پاکستانی فوج نے آواران زیلگ کوچہ میں آپریشن کرکے ساٹھ سالہ محمد عرف قومی کو اغوا کیا، جو ایک صوفی صفت عام آدمی تھے ۔ 12 جون کو ان کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔ آواران زیلگ میں گھروں پر یلغار کے دوران پاکستانی فوج پٹرول، ڈیزل اور دوسرے قیمتی سامان اُٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ ترجمان نے کہا کہ کچھ ہفتوں سے پاکستان بیرونی سرمایہ کاروں اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے اپنے زرخرید پارلیمانی جماعتوں اور مذہبی شدت پسندوں کے ذریعے ریلی اور جلسے منعقد کرارہا ہے، تاکہ دنیا کو باور کرایا جاسکے کہ بلوچستان میں امن ہے اور بلوچ پاکستان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ لیکن بلوچ قوم اپنی آزادی کی جد و جہد کو جاری رکھ کر کسی سرمایہ کار کو بلوچ قوم کی مرضی و منشا کے بغیر سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دے سکتا۔ مستونگ میں مذہبی شدت پسند نفاذ امن کے سراج رئیسانی و اس کے کارندوں کی ریلی بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینے کی علامت ہے، کیچ، نوشکی اورپنجگور میں اسی طرح مذہبی اور پارلیمانی جماعتوں کے ذریعے بلوچ آزادی پسندوں کو تنگ کیا جا رہاہے۔ یہی جماعتیں بلوچ قوم کی غلامی کو طول دینے اور بلوچ نسل کشی میں پاکستانی فوج کا معاون بن رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ ریاستی ریلیوں میں پاکستانی فوج کی گاڑیاں اور انکے فوجی اہلکار سول لباس میں بہ آسانی دیکھے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب بلوچستان میں میڈیا پر غیر اعلانیہ پابندی نافذ ہے۔ اندرون بلوچستان کا کوئی بھی خبر میڈیا تک نہیں پہنچتا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close