طورخم پر مزید نفری تعینات

Thor افغانستان (ریپبلکن نیوز) پاکستان اور افغانستان کے سرحدی مقام طورخم پر افغان اور پاکستانی فوجوں میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد دونوں ممالک نے طورخم کراسنگ پر فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ سرحد پرگیٹ کی تعمیر پر شروع ہونے والی کشیدگی تیسرے دن بھی برقرار ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق پاکستان کے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج نے طورخم سرحد پر پیر کی رات کو بھاری ہتھیار پہنچا دیے ہیں اور مزید نفری کو تعینات کیا گیا ہے۔

افغان بارڈر پولیس کے کمانڈر نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپوں کے بعد افغان بارڈر پولیس کی مزید نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

منگل کو افغانستان کے دفترِ خارجہ نے کابل میں پاکستان کے سفیر کو طلب کیا اور طورخم سرحد پر ہونے والی جھڑپوں پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔

ادھر طورخم پر افغان فوج کے ساتھ اتوار کی شب فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے پاکستانی فوج کےمیجر علی جواد ہسپتال میں دم توڑ گئے جن کے جنازے میں منگل کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے شرکت کی۔

ان جھڑپوں میں ایک افغان فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے جن کا جنازہ منگل کو جلال آباد میں ہوا۔ ان کے جنازے میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور پاکستانی پرچم کو آگ لگائی اور پاکستان کے خلاف نعرے لگائے۔

 

مزید خبریں اسی بارے میں

Close