کارواں چلتا رہتا ہے کتے بھونکتے رہتے ہیں۔ماما قدیر

MAMAکوئٹہ (ریپبلکن نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2344دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں خاران سے حیدر بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے بڑی تعداد میں لاپتہ افراد ، شہداء کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی اور انہوں نے کہاکہ اتنی طویل لمبی بھوکہڑتال عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی توجہ نہ پاسکی ۔ انہوں نے موجودہ انسانی حقوق کے ادارے بھی خاموش ہیں دوسرای جانب یہاں کے سول سوسائٹی کے نامپر مڈل کلا س کا قبضہ رہاہے جو پارٹ ٹائم یا پبلسٹی کے لئے سول سوسائٹی کا استعمال اور چھوٹے چھوٹے ادارے بنا کر کہیں این جی اوز کے ناماور کہیں ایک تو بینک بیلنس جمع کرنے میں لگے ہیں ۔ ووائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ چند دن کی خاموشی کے بعد مجھے پھر سے دھمکیاں آنے لگی ہیں میں یہاں بتاتا چلوں کہ مجھے 6جون 2016کو 76سال ہوگئے میں اب اس عمر میں نہ ڈرنے والا ہوں نہ سر جھکانے والا ہوں بلکہ سرکٹانے والا ہوں آپ مجھے جتنی بھی دھمکیاں دیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ماما نے مزید کہاکہ جن کے ذریعے ہزاروں فرزندوں کو اغواء کیا گیا اور سینکڑوں کی لاشیں ملیں اور ہزاروں آج تک لاپتہ ہیں۔ اور سینکڑوں کی اجتماعی قبریں دریافت ہوئے اور اب دوبارہ اجتماعی قبروں کی بارگش ہورہی ہے۔ ماما نے کہاکہ کارواں چلتا رہتا ہے کتے بھونکتے رہتے ہیں۔ قومی تحریک کسی کا نہیں مجھے کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close