ہزارہ مظاہرین جزباتی ہیں، مظاہرہ ختم کیا جائے ۔ جام کمال

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)   وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیا م کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے ، سکیورٹی کا مسئلہ کسی ایک برداری یا طبقے کا نہیں بلکہ صوبے بھر میں دہشتگردی کے واقعات رو نما ہوئے ہیں ،مغربی بائی پاس پر موجود چند عناصر جذباتی ہیں لیکن سڑک کو بلاک کر نا مناسب نہیں ، دھرنے والے لوگ حکومت کی نیک نیتی کو مد نظر رکھتے ہوئے دھرنا ختم کریں اگر میرے دور میں کسی قسم کی لاپرواہی کا جان بوجھ کر کوتاہی برتی گئی ہے تو اسکی ذمہ داری لوں گا، بلوچستان کے تمام بڑے شہروں میں سیف اینڈ سمارٹ سٹی منصوبے شروع کیے جائیں گے ۔

یہ بات انہوں نے ہفتہ کو بوائز اسکاؤئٹ ایسوسی ایشن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ،وزیراعلیٰ جام کمال نے کہا کہ گزشتہ روز پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے اس میں ہر برداری کے لوگ شہید ہوئے ہیں ،دھماکے کے فورا بعد صوبائی وزراء میر ضیاء لانگو اور میر نصیب اللہ مری تمام ہسپتالوں ، اور کیمپ میں گئے جبکہ انہوں نے نماز جنازہ میں بھی شرکت ہے ۔

حکومت اپنی جانب سے احتجاجی مظاہرین کو یقین دہانی کروانے کی کوشش کر رہی ہے ،میں خود بھی آج فاتحہ خوانی کر نے گیا اور شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا ہے لیکن احتجاجی کیمپ میں موجودچند عناصر جذباتی ہیں بائی پاس بندکرنا مناسب نہیں ہے ہم مانتے ہیں کہ بہت بڑا نقصان ہوا ہے لیکن حکومت امن و امان قائم کر نے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے حکومت کی نیک نیتی کو دیکھتے ہوئے دھرنا ختم کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں ،چمن،کوئٹہ ، سنجاوی میں بھی دہشتگردی کے واقعات ہوئے جو کسی نہ کسی صورت میں صوبے میں رونما ہوتے رہتے ہیں ہم نے انکاتدارک کرنا ہے ، زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن عوام کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button