ہزارہ برادری نے بے شمار لاشیں اٹھائیں،کب تک سلسلہ چلے گا،بی این پی

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد لقمان کاکڑ نے سانحہ ہزار گنجی کی مذمت اور کہا کہ بلوچستان میں برسوں سے خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے ہزاروں کی تعداد میں پشتون، بلوچ ، ہزارہ ودیگر اقوام کا بہیمانہ قتل عام کیا گیا لیکن اس سے بھی المناک بات یہ ہے کہ آج تک کوئی قاتل نہیں پکڑا گیا جو پکڑے گئے وہ بھی رہا ہوئے یا پھر جیلوں سے فرار ہوئے،یا نامعلوم افراد کے خلاف پرچے درج کر کے کہا گیا کہ بیرونی مداخلت ہے ، دشمن ملک کی ترقی کو برداشت نہیں کرسکتا ، سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اگر بیرونی مداخلت ہے تو اسے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اجاگر کیوں نہیں کیا جا تایا بلوچستانیوں کے خون کو خون نہیں سمجھا جا تا ۔

گزشتہ 20 برس سے ہزارہ برادری نے بے شمار نہتے بے گناہ لاشیں اٹھائی ہیں آخر کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ بلوچستان کے ابتر حالات سمجھ سے بالاتر ہوتے جا رہے ہیں، یہاں تو پولیس کے اہلکار تک محفوظ نہیں، موجودہ حکومت بھی سابق حکومتوں کی طرح محض بیانا ت تک ہی محدود ہے، افسوس کہ صوبائی دارالحکومت میں ایک ہی رات میں 80 سے زائد دکانیں لوٹی جا تی ہیں یہاں نہ عام آدمی ، نہ تاجر اور نہ ہی کوئی ملازم محفوظ ہے، ریاست عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button