پاکستان انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کو روکنے کے مؤثر اقدامات نہیں کر رہا، یورپی یونین

نیوز ڈیسک (ریپبلکن نیوز) یورپی کمیشن نے پاکستان سمیت 23 ملکوں کو اپنی مرتب کردہ اس مجوزہ فہرست میں شامل کرلیا ہے جنہوں نے کمیشن کے بقول انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کے تدارک کے لیے ناکافی اقدامات کیے ہیں۔

یورپی کمیشن کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق اس فہرست کا مقصد دہشت گردوں کو مالی وسائل کی فراہمی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کر کے یورپی یونین کے مالیاتی نظام کا تحفظ کرنا ہے۔

فہرست میں شامل ہونے کے بعد یورپی یونین کے تحت کام کرنے والے بینک اور ادارے ان ملکوں کے صارفین اور مالیاتی اداروں کے ساتھ لین دین کرتے ہوئے مناسب چھان بین اور نگرانی کے لیے مزید اقدامات کریں گے تاکہ ان ملکوں سے مشتبہ رقوم کی ترسیل کی نشاندہی کی جا سکے۔

یورپی کمیشن کی طرف سے مرتب کی جانے والی فہرست کی توثیق کے لیے یورپی یونین کے رکن ملکوں کے پاس ایک ماہ کا وقت ہے جس میں مزید ایک ماہ کی توسیع ہوسکتی ہے۔ رکن ممالک کثرتِ رائے سے اس فہرست کو مسترد بھی کر سکتے ہیں۔

یورپی یونین کی کمشنر برائے انصاف ویرا یوروا نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ یہ فہرست مسترد نہیں ہو گی۔

اپنے ایک بیان میں یورپی کمشنر نے کہا ہے کہ یورپی یونین نے دنیا میں انسدادِ منی لانڈرنگ کے لیے ٹھوس معیار مقرر کیے ہیں اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ دیگر ملکوں سے غیر قانونی یا غیر اخلاقی ذرائع سے حاصل ہونے والا پیسہ یورپ کے مالیاتی نظام تک نہ پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی یا غیر اخلاقی پیسہ منظم جرائم اور دہشت گردی کو فروغ دینے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

ویرا یوروا نے منی لانڈرنگ سے متعلق یورپی یونین کی فہرست میں شامل ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی مالیاتی نظام کی خامیوں کو فوری دور کریں۔

انہوں نے پیشکش کی ہے کہ یورپی یونین خامیوں کو دور کرنے کے لیے ان ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہے۔

ورپی یونین کی طرف سے بدھ کو جاری کی جانے والی فہرست میں 23 ممالک شامل ہیں جو یونین کے مطابق انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کو روکنے کے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔

فہرست میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، شمالی کوریا، ایتھوپیا، ایران، عراق، سری لنکا، تیونس، یمن اور سعودی عرب بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ دہشت گروپوں کے مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق بین الاقوامی ادارے ‘فنانشل ایکشن ٹاسک فورس’ (ایف اے ٹی ایف) نے بھی گزشتہ سال پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل کیا تھا جو ادارے کے بقول انسدادِ دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔

یورپی یونین کی فہرست میں پاکستان کو شامل کرنے پر تاحال اسلام آباد کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن حکام یہ کہتے رہے ہیں کہ پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے کئی مؤثر اقدامات کیے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین پاکستان کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور یورپی کمیشن کے تازہ اقدام کی وجہ سے یورپی یونین میں شامل ملکوں کے ساتھ پاکستانیوں کی تجارت اور مالیاتی لین دین کی چھان بین میں اضافہ ہو سکتا ہے جو کاروباری افراد کے لیے اضافی اخراجات کا سبب بنے گا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button