سوئی کے مقامی لوگ اپنے گھروں کا چولہا جلانے کے لیے لکڑیاں جلانے پر مجبور (رپورٹ)

رپورٹ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے تحصیل سوئی کے مختلف علاقوں میں گیس نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگ لکڑیا جلاکر گزارا کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی  سے ریپبلکن نیوز کے نمائندے نسیم بگٹی کے مطابق تحصیل سوئی جہاں 1952 میں گیس کے بڑے زخائر دریافت ہوئے تھے جو جسے بعد میں کچھ ہی سالوں میں بذریعہ پائپ لائنوں ہزاروں کلو میٹر دور پنجاب اور پاکستان کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں اور دہاتوں تک پہنچایا گیا۔ جس سے ناصرف لوگوں کے گھروں کے چولہے جلتے ہے بلکہ پنجاب اور پاکستان کے دیگر  علاقوں میں بڑے بڑے فیکٹریاں چلتی ہیں۔اور کاروباری حضرات اس سے مستفید ہورہے ہیں۔ لیکن سوئی کے مقامی باشندے اپنے ہی سرزمین سے نکلنے والی اس قدرتی نعمت سے محروم ہیں۔

سوئی گیس فیلڈ کے قریب چند ایسے علاقے ہیں جہاں پہلے گیس فرائم کی جاتی تھی، جن میں شیخ کالونی، عدل خان کالونی اور طوطا کالونی شامل ہیں۔ لیکن اب وہاں بھی گیس کی فرائمی کو ریک دیا گیا ہے جس سے مقامی افراد دور دراز علاقوں سے لکڑیاں لاکر اپنے گھروں کا چولہا جلاتے ہیں۔

تحصیل سوئی ایک ایسا علاقہ ہے جو قدرتی گیس سے تو مالامال ہے لیکن پھر بھی وہاں کے مقامی باشندے بدحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اور وہاں بیروزگاری کی شرع بھی کافی زیادہ ہے۔

سوئی کے پی پی ایل کے ریٹائرڈ شدہ ملازمین کے بچے گزشتہ چار مہینوں سے پی پی ایل کے گیٹ نمبر دو کے سامنے احتجاج پر بھیٹے ہیں تاکہ انہیں سن کوٹہ کے تحت نوکریوں پر لگا دیا جائے۔ لیکن احتجاج پر بھیٹے ان غریب باشندوں کے جائز مطالبات ماننے سے حکام انکاری ہیں۔

نواب اکبر خان بگٹی کے شہادت کے بعد ڈیرہ بگٹی اُس یتیم بچے کی طرح ہوگیا ہے جس کا کوئی بھی پرسان حال نہیں۔ وہاں کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے احتجاجی مظاہرے اور سوشل میڈیا کا بھی استعمال نہیں کرسکتے، کیونکہ ایسا کرنے سے انہیں پاکستانی عسکری ادارون سے خطرہ ہے۔

سوئی کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ پی پی ایل یا ڈیرہ بگٹی کے مقامی نمائندوں (جو فوج کے آشرواد سے بنے ہیں) کے خلاف سوشل میڈیا یا کسی بھی دیگر پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں راتوں رات اغوا کر کے غائب کردیا جاتا ہےیا قتل کردیا جاتاہے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close