بلیدہ کا رہائشی جان محمد بلیدی گزشتہ پانچ سالوں سے لاپتہ ہے

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ سے لاپتہ نوجوان کے خاندان پانچ سال گزر جانے کے بعد بھی اپنے لاپتہ فرزند کی بازیابی کیلئے منتظر۔

بلیدہ سے ہمارے نامہ نگار نے اپنے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستانی افواج نے تیرہ مارچ 2013 کو کیچ کے علاقے بلیدہ میں  بٹ کے مقام سے جان محمد ولد اللہ داد بلیدی نامی ایک شخص کو اس کے گھر میں چھاپہ مار کر حراست میں لے کر لاپتہ کردیا تھا جس کا ہنوز کوئی پتہ نہیں ہے۔

خاندانی زرائع کا کہنا ہے کہ جان محمد بلیدی کے پانچ معصوم بچے ہیں جو پانچ سال گزر جانے کے بعد بھی اپنے والد کی رہائی کیلئے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لواحقین کو ریاستی اداروں کی جانب سے کوئی اطلاع نہیں دی جارہی  کہ انہیں کیوں اور کس جرم کے تحت لاپتہ رکھا ہوا ہے، اگر جان محمد سے کوئی جرم سرزد ہوئی ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق کاروائی کی جائے ۔

اس طرح ایک ہسنے بستے گھر سے ایک نواجوان کو اٹھانے سے پورے خاندان کی زندگی مفلوج ہو کر رہہ جاتی ہے۔لاپتہ جان محمد بلیدی کے خاندان نے  انسانی حقوق کے اداروں اور پاکستان کے سپریم کورٹ سے اپنے لاپتہ فرزند کی بازیابی کیلئے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close