فوج کے ہاتھوں بلوچ خواتین و بچوں کی جبری گمشدگیاں

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) پاکستانی فوج اورخفیہ ادارں کی افرادی قوت لاکھوں میں ہے۔ ان کے پاس جنگی سازوسامان اور وسائل بھی بہت زیادہ ہیں۔ ان کو مناسب حربی تربیت، وسائل و سہولتیں بھی میسر ہیں۔ یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ گزشتہ 69 سال سے امریکہ اور اس کے یورپی و عرب اتحادیوں اور چین کی طرف سے پاکستان کو پوری فراغ دلی کے ساتھ فوجی و اقتصادی امداد، خیرات اور قرضہ برابر ملتا رہا ہے۔

یہ بھی ایک کُھلی حقیقت ہے کہ پاکستان میں پارلیمنٹ، حکومت، عدلیہ، میڈیا اور سیاسی جماعتوں کی نااہلی کے باعث فوج اور خفیہ ادارے انتہائی طاقتور ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں آئین، قانون، سماجی و اخلاقی اقدار، انسانیت و انسانی حقوق اور اپنے پیشہ ورانہ نظم و ضبط کو پامال کرنے پر فوج کے صرف جرنلوں، میجروں و کیپٹنوں کو ہی نہیں بلکہ صوبیداروں اور عام سپاہیوں کو بھی کسی قسم کی احتساب و جواب دہی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے مگر ان سب کے باوجود پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے بلوچ عوام اور سرمچاروں کے مقابلے میں جنگ جیت نہیں رہے بلکہ ہارتا ہوا نظر آرہے ہیں۔ ماضی میں بلوچ تحریک کو مہینوں یا چند سالوں کے اندر ہی اندر پسپا کرنے کے اپنے تجربات کے پیش نظر موجودہ بلوچ تحریک کو جلد ہی کچلنے کی ان کے سارے فرعونی توقعات اور اندازے مٹی میں ملتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے توقعات اور احمقانہ اندازوں کے برعکس بلوچ تحریک آزادی اپنا 18 واں سال پورا کررہا ہے حالانکہ ان اٹھارہ سالوں میں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں نے ظلم، بربریت اور سفاکیت کی وہ داستانیں رقم کی ہیں کہ جن کو سُن کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جائے۔

اس طویل عرصے میں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں نے بڑے بڑے نامور سیاسی رہنماؤں، کیڈرز، کارکنوں اور دانشوروں کو چُن چُن کر شہید کیا ہے۔ سرمچار یا آزادی پسند سیاسی جماعتوں کے کا رکن اور حامی ہونے کے شُبہ میں ہزاروں بلوچ فرزندوں کو جبری لاپتہ کیا گیا ہے جن میں سے پانچ ہزار سے زائد کی تشدد سے مسخ کی گئی لاشیں ملی ہیں۔ ان کی یہ غیرانسانی کارروائیاں بلا تعطل اب بھی جاری ہیں۔ فوجی کارروائیوں کے ذریعے ہزاروں خاندانوں کو نقل مکانی پر مجبور کیاگیا ہے۔ ان کے گھروں کو نذر آتش کرکے ان کے مال مویشیوں کو لوٹاگیاہے اور ایسی انسانیت سوز کارروائیں اب بھی پورے زوروشور سے جاری ہیں۔ بعض بے ننگ بااثر افراد اور جرائم پیشہ گروہوں کو پاکستانی حب الوطنی اور جہاد کے نام پر مسلح کرکے درجن کے قریب پروکسیز proxies بلوچ تحریک آزادی کے خلاف کھڑی کی گئیں ہیں۔ دوردراز کی پہاڑی آبادیوں کو جبراً فوجی کیمپوں کے نزدیک منتقل کرنے کی حکمت عملی اور سول آبادیوں پر بلاامتیاز بمباری اور شیلنگ کے حربے بھی آزمائے جاتے رہے ہیں۔ مذہبی اور فرقہ وارانہ تفرقہ بازی، انتہا پسندی اور شدت پسندی کو ہوا دینے اور تحریک آزادی کے خلاف استعمال کرنے پر بھی پوری منصوبہ بندی کے تحت عمل کیا جاتا رہا ہے۔

بلوچ تحریک آزادی سے منسلک سیاسی جماعتوں، طلبا تنظیموں اورگروہوں کی طرف سے جلسے جلوس، مظاہروں، سیمیناروں اور دیگر سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد ہے۔ عالمی میڈیا کو بلوچستان میں کوئی رسائی نہیں دی جارہی ہے جبکہ پاکستانی مقید میڈیاکیلئے مقبوضہ بلوچستان کے حالات پر تبصرہ، بیانات اور خبریں نشر کرنے کو عملاً ریاست سے غداری اور قابل گردن زنی جرم ٹھہرایا گیا ہے۔ بیرون بلوچستان اور سوشل میڈیا میں بلوچ آزادی پسندوں کی آواز کو دبانے کیلئے مقبوضہ بلوچستان کے لوٹ کھسوٹ میں اپنے شریک جرم چین کی اثرورسوخ کو پاکستان استعمال کررہا ہے۔ 18نومبر 2017 کو سوئزرلینڈ میں آزادی پسند بلوچ رہنماؤں کے ایک اجلاس کو روکنے اور حال ہی میں ٹوئیٹر و فیسبک پر بعض آزادی پسند رہنماؤں کے آئی ڈیز کو بند کرانے کیلئے بھی چینی اثر و رسوخ کو استعمال کیاگیا۔

مزید مضامین

سردار اخترمینگل کے نا م کھلا خط

بلوچ تاریخ میں خواتین کا احترام

شہید اکبر خان بگٹی ایک عہد ساز شخصیت 

متذکرہ بالا تمام تر غیر قانونی اور غیرانسانی پالیسی اقدامات کے باوجود بلوچ قومی تحریک آزادی کے خلاف فوج اور خفیہ اداروں کی کاؤنٹر انسرجنسی پالیسی بری طرح ناکامی سے دوچار ہے۔ اس ناکامی کی اصل سبب یعنی بلوچستان پر پاکستان کی جبری قبضہ اور نوآبادیاتی لوٹ کھسوٹ کے خلاف بلوچ عوام کے غم وغصہ و بیزاری کا ادراک و اعتراف کرنے اور مقبوضہ بلوچستان سے نکلنے کی حامی بھرنے کی بجائے پاکستانی فوج بلوچ قوم کے خلاف مزید نِت نئے غیر انسانی، غیر قانونی سفاکانہ ہتھکنڈے استعمال کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بلوچ بچوں و خواتین کو منظم منصوبہ بندی کے تحت ہدف بنانے کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی کاؤنٹر انسرجنسی پالیسی میں ایک نئے حربہ کے طورپر نظر آرہا ہے۔ اس پالیسی کے تحت فوج و خفیہ ادارے بلوچ آزادی پسند رہنماؤں، سیاسی کیڈرز و کارکنوں، سرمچاروں، ان کے رشتہ داروں، حامیوں اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے بلوچوں کے بچوں اور خواتین کو غیر قانونی طور پر اٹھاکر فوجی کیمپوں یا خفیہ مقامات پر جبری لاپتہ کرتے ہیں۔ اس گمشدگی کے دوران انھیں ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

27 اور 28 اکتوبر 2017 کی درمیانی شب رینجرز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے چادر اور چاردیواری کی تقدس کو پائمال کرتے ہوئے کراچی میں بعض آزادی پسند بلوچ رہنماؤں کے گھروں پر چھاپہ مارکر خواتین کو زد و کوب کیا جس کے نتیجے میں مشکے سے تعلق رکھنے والی محترمہ فرح بی بی کو کمر پر شدید چوٹ لگی۔ ان چھاپوں کے دوران 9 بلوچ طلبا کو جبری لاپتہ کیا گیا جن میں دس سالہ آفتاب یونس اور گیارہ سالہ الفت الطاف شامل تھے۔ دس سالہ آفتاب کو سات ماہ بعد اس کے والد کے حوالہ کیاگیا مگر گیارہ سالہ الفت آج بھی محمد عارف ولد محمد یوسف، الیاس ولد فیض محمد اور بلوچ ہیومن رائیٹس آرگنائزیشن کے سیکریٹری اطلاعات نواز عطا سمیت لاپتہ ہے۔ مذکورہ واقعہ کے تین دن بعد بلوچ آزادی پسند رہنماؤں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی اہلیہ اور اسلم بلوچ کی ہمشیرہ سمیت چار خواتین اور نصف درجن کے قریب بچوں کو گرفتار کرنے کا واقعہ پیش آیا۔

جنوری 2018 میں مشکے، راغے اور گچک کے علاقوں میں ایک بڑے فوجی آپریشن کے دوران سرمچاروں سے تعاون کے شُبے میں گجلی مشکے کے رہائشی غوث بخش ولد شکاری عرض محمد کے گھر پر فوج نے بلا امتیاز بمباری و شیلنگ کی جس کے نتیجے میں غوث بخش، اس کی اہلیہ اور 14 سالہ بچی شہید ہوئے تھے جبکہ غوث بخش کے بھائیوں کو ان کے خواتین و بچوں سمیت حراست میں لے کر جیبری کے فوجی کیمپ میں منتقل کیاگیا۔ اسی آپریشن میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی ایک ہمشیرہ سمیت دو سو کے قریب خواتین، بچوں اور بزرگ افراد کو اٹھاکر ہیلی کاپٹرز کے ذریعے فوجی کیمپوں میں منتقل کیاگیا بعد میں ان میں سے بیشتر کو تو چھوڑ دیاگیا مگر پِیزگ،راغے کے رہائشی پیروں سے معذور 75 سالہ میر علی محمد اپنے خاندان کے لگ بھگ 30 کے قریب خواتین،بچوں اور بیٹوں سمیت فوج کے زیرنگرانی فوج کے مقامی آلہ کار علی حیدر محمد حسنی کی جبری غلامی میں رکھے گئے ہیں۔ اسی جبری غلامی کے دوران علی محمد کی ایک بہو نازگل زوجہ اقبال زچگی کے دوران علاج کی سہولت نہ ملنے کے سبب شہید ہوگئی۔ 

23 مارچ 2018 کو تربت میں ایک سرکاری جشن سے 14 سالہ بچہ عاصم امین کو فوج نے اغوا کیا اور چار ماہ بعد بچے کو چھوڑ دیا۔ 4 جون 2018 کو رخشان کے علاقہ ناگ سے بعض خواتین کو آرمی کیمپ منتقل کرنے کی خبریں آئیں اور اطلاعات کے مطابق رہائی کے بعد مذکورہ خواتین نے فوج پر اپنے ساتھ جسمانی تشدد اور جنسی حراسمنٹ کا الزام لگائی۔ 19جون 2018 کو آرمی نے ایک آپریشن کے دوران کوہ اسپیت مشکے سے محترمہ نور ملک زوجہ اللہ بخش، سکینہ دختر اللہ بخش، مہہ جان اور سہتی نامی خاتون کوحراست میں لے کر آرمی کیمپ منتقل کیاپھر دو دن کے بعد انھیں چھوڑ دیا۔ خواتین نے فوج پر جسمانی تشدد اور بدسلوکی کا الزام عائد کیا۔

27 جون 2018 کو فوج نے لعل بازار،جھاؤ سے گل بانو بنت غلام حسین، اس کی بیٹی گنجل اور کوہڑو جھاؤ سے صائمہ زوجہ محمد انیس کو اغوا کرکے آرمی کیمپ منتقل کیا جن میں سے گل بانو اور گنجل کو اگلے روز چھوڑ دیاگیا۔ 27 جون کو جھاؤ ہی سے محترمہ آمنہ بنت محمود کی فوج کے ہاتھوں اٹھائے جانے کی خبر سوشل میڈیا میں پھیل گئی۔3 جولائی کو النگی مشکے سے ایک دس سالہ بچہ ضمیر ولد اللہ بخش کو فوج نے اٹھا کر لاپتہ کیا پھر 22 جولائی کو دوبارہ اسی اللہ بخش کے گھر پر چھاپہ مار کر فوج نے اللہ بخش کی بیوی محترمہ نورملک اور اس کی دو جوان بیٹیوں حسینہ اور ثمینہ کو اٹھاکر آرمی کیمپ مشکے منتقل کیا اور کچھ دن کے بعد مزکورہ خواتین کو آرمی کے ایک مقامی آلہ کار کی جبری غلامی میں دیاگیا جو کہ اطلاعات کے مطابق تادم تحریر ہذا جبری غلامی میں ہیں اور دس سالہ ضمیر فوج کے پاس لاپتہ ہے۔ 5جولائی کو محرابی میتھگ کھڈ کور، محمد رحیم میتھگ پیلار اور نور بخش میتھگ گواش، آواران سیدرجنوں خاندانوں کو خواتین و بچوں سمیت فوجی کیمپ منتقل کیاگیا پھر اگلے دن انھیں دھمکی دے کر اس شرط پر چھوڑ دیاگیا کہ وہ اپنے گاؤں کو چھوڑ کر آرمی کیمپ کے نزدیک رہائش اختیار کریں۔ 7 اگست 2018 کو آرمی نے خضدار کے علاقہ گریشہ سے محترمہ عدیلہ زوجہ ثنااللہ کو اس کی معصوم بچوں سمیت اٹھاکر غائب کیا۔ یاد رہے عدیلہ کا شوہر ثنااللہ پہلے سے ہی سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہے۔ ایسی ماورائے قانون گرفتاریوں میں زہنی حراسمنٹ تو ایک فطری بات ہے مگر ایسے واقعات میں خواتین پر جسمانی تشدد کی اطلاعات بھی آتی رہی ہیں۔

پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے ہاتھوں بلوچ خواتین و بچوں کی ایسی گرفتاریاں اور سویلین آبادیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جنگی یا عمومی قوانین اور اخلاقی لحاظ سے کسی بھی طرح جائز نہیں ہیں۔ پاکستانی فوج کی طرف سے بلوچ عوام کے خلاف ایسے اقدامات بلوچی اقدار اور چادر و چاردیواری کے تقدس کی کُھلم کھلا پائمالی پر مبنی ہیں۔ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف انسانیت، بنیادی انسانی حقوق اور آزادی سے متعلق مقامی اور عالمی قوانین و کنونشنز کی خلاف ورزی ہیں بلکہ بین عالمی قوانین کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ گوکہ قابض افواج کی طرف سے تحریک آزادی کے دوران محکوم قوم کے خلاف ایسی انسانیت سوز اور ماورائے قانون کارروائیاں قطعاً حیران کن نہیں ہیں بلکہ باریک بینی سے دیکھا جائے تو جنگ اور مسلح تصادم کی تاریخ کے مطالعہ سے صاف نظر آتا ہے کہ جنگوں میں ہمیشہ سے نہتے شہری اور سماج کے دیگر کمزور حصے خصوصاً خواتین، بچے اور بزرگ افراد زیادہ تر نشانہ بنتے رہے ہیں مگر جیسے جیسے انسانی سماج اپنے ارتقائی عمل کے دوران شعور،ترقی و تہذیب کی منزلیں طے کرتا رہا تو جنگ کا یہ سفاکانہ غیر انسانی پہلو اس کیلئے ناپسندیدہ بنتاگیا اور انسانی سماج نے جنگ کے اس غیر انسانی پہلو کو روکنے اور ختم کرنے کیلئے قوانین بنانے اور تدابیر اختیار کرنے پر توجہ دینے لگا۔بلوچی قوانین، روایات و اقدار اور جنگی اصولوں کے تحت خواتین، بچوں، بزرگوں، مذہبی اقلیتوں اور نہتے افراد کو مارنا معیوب مانا جاتا تھاچونکہ عالمی قوانین کی تشکیل میں یورپی قوانین اور روایات کو بنیاد بنایا گیا ہے اسلئے اسی زاویہ نظر سے قوانین پر نظر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو جنیوا کنونشنز کی ایک طویل فہرست ہمیں نظر آتا ہے جن کا آغاز 1864 کے جنیوا کنونشن سے ہوتا ہے جو کہ جنگ میں زخمیوں کی تحفظ اور علاج سے متعلق تھا پہلی اور دوسری عالمگیر جنگوں کی تباہ کاریوں نے انسانی ضمیر کو مزید جھنجھوڑا تو اقوام عالم نے جنگوں میں نہتے شہریوں، خواتین، بچوں، بزرگوں، زخمی، بیمار اور قیدی سپاہیوں اور امدادی تنظیموں کے رضاکاروں کی تحفظ کیلئے قوانین بنانے پر کافی سنجیدگی سے توجہ دینا شروع کیا۔ 12 اگست 1949 کے مشہور زمانہ جنیوا کنونشنز پر اتفاق اور ان کی منظوری کی صورت میں اقوام عالم کی یہ سنجیدگی ہمیں عملی صورت اختیار کرتے ہوئے نظر آتاہے۔

پہلی اور دوسری عالمگیرجنگوں کی تباہ کاریوں نے جب سامراجی قوتوں کو کمزور کردیا تو زوال پزیر اور سڑاند نوآبادیاتی نظام کے خلاف ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے محکوم اقوام نے قومی آزادی کی تحریکیں شروع کیں۔ غیر اقوام کی قبضہ گیری، جبری مسلط کردہ حاکمیت اور بوسیدہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف اٹھنے والی آزادی کی ان تحاریک کا راستہ روکنے اور حریت پسندوں پر دباؤ ڈالنے کیلئے استعماری افواج نے ایک بار پھر محکوم اقوام کے نہتے شہریوں خصوصاً خواتین و بچوں کو نشانہ بنانیکی وحشیانہ کارروائیوں کو بڑے پیمانے پر بطور جنگی حربہ استعمال کرنا شروع کیا۔ اس وقت موجود عالمی قوانین ان کی سفاکیت کو روکنے میں غیر موثر اور ناکافی نظر آنے لگے تو اقوام عالم نے ایسے غیرانسانی، ظالمانہ اور سفاکانہ جنگی جرائم کی سدباب کیلئے تنظیم اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے متعدد قرار دادیں، اعلان نامے، کنونشنز، پروٹوکولز، ایڈیشنل پروٹوکولز اور قوانین وضع کئے جن میں ایمرجنسی اور مسلح تصادم میں خواتین و بچوں کی تحفظ کااعلان نامہ1974،، ازیت رسانی اور دیگر ظالمانہ،غیرانسانی یا تضحیک آمیز سلوک یا سزا کے خلاف اقوام متحدہ کا کنونشن 2008، اور جبری گمشدگی سے تحفظ کا اقوام متحدہ کا عالمی کنوشن 2010، بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ 

اقوام عالم نے جنگی جرائم کی سدباب کیلئے نہ صرف قوانین بنائے ہیں بلکہ انٹرنیشنل کریمینل کورٹ جیسا ادارہ بھی بنائے اورعملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ بوسنیا میں جنگی جرائم کے مرتکب متعدد سرب فوجی جرنیلوں پر مقدمات چلاکر ان کو سزائیں بھی دی گئی ہیں۔ سوڈان کے تنازع سمیت مختلف تنازعات میں جنگی یا انسانیت کے خلاف جرائم کے پاداش میں مختلف لیڈروں اور فوجی افسروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن نے میانمار میں روہنگیا قوم کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث فوجی افسروں کے خلاف تحقیقات اور مقدمات درج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ درست ہے کہ دنیا کے مختلف خطہ ہا میں نیکی اور بدی کی قوتوں کے درمیان رسہ کشی اب بھی بڑی شدت کے ساتھ جاری ہے۔ مقبوضہ بلوچستان بھی دنیا کے انہی جنگ زدہ خطہ ہا میں سے ایک ہے جہاں بلوچ عوام اپنے وطن بلوچستان پر پاکستان کے جبری قبضہ، اس کی مسلط کردہ نوآبادیاتی نظام اور اپنے قومی وسائل کی بیدریغ لوٹ کھسوٹ کے خلاف قومی آزادی کی منصفانہ جدوجہد کررہے ہیں۔ اسی جدوجہد کا راستہ روکنے کیلئے پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے بلوچ قومی رہنماؤں، سیاسی کارکنوں،دانشوروں، طلبا اور نوجوانوں کو چُن چُن کر ماورائے عدالت قتل اور جبری لاپتہ کررہے ہیں۔ سویلین آبادیوں پر یلغار کررہے ہیں۔

ان کے مال مویشیوں کو لوٹ رہے ہیں۔ ان کے گھروں اور فصلوں کو نذرآتش کر رہے ہیں۔ ازیت رسانی کے خلاف عالمی قوانین کو پائمال کرتے ہوئے ریاستی عقوبت خانوں میں ان پر انسانیت سوز تشدد کرتے رہے ہیں۔ زیر حراست بلوچوں کو ماورائے قانون قتل کرکے ان کی مسخ لاشیں پھینک رہے ہیں یا ان کو اجتماعی قبروں میں دفن کر رہے ہیں۔ اب جنگی حربہ کے طور پر باقاعدہ ایک حکمت عملی کے تحت خواتین و بچوں کو اپنی سفاکیت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کاؤنٹر انسرجنسی اور ریاستی سلامتی کے نام پر پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے مذکورہ بالا سارے سفاکانہ اقدامات عالمی قوانین کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ بلوچ قوم کے مجرم پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے اہلکار اور ضمیر فروش ان کے مقامی آلہ کار اپنے جرائم کیلئے ایک نہ ایک دن ضرور انصاف کے کٹہرے میں لاکر کھڑے کر دیئے جائیں گے۔ گوکہ جسطرح انصاف کے مقامی نظام کے تحت ایک بااثر مجرم کو گرفت میں لینا مشکل ہوتا ہے اسی طرح انصاف کے عالمی نظام میں بہت سے سقم ہیں مگر پھر بھی مجرم آخر کار قانون کے شکنجے میں آہی جاتے ہیں۔ آزادی پسند بلوچ عوام اور فرسودہ نوآبادیاتی قبضہ گیری کے علمبردار پاکستان کے درمیان اس جدوجہد، جنگ اور کشمکش میں کامیابی بلوچ قوم کا مقدر ہے کیونکہ بلوچ قوم کی آزادی کی جدوجہد عالمی قوانین کے مطابق حق اور سچائی پر مبنی ہے۔

قومی آزادی کیلئے بلوچ عوام اور جہد کاروں کی عظیم قربانیوں کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ بلوچ قوم اپنے قومی آزادی کیلئے پُرعزم ہے۔ بلوچ خواتین و بچوں کو نشانہ بنانے یا پورے خاندانوں کو اجتماعی سزا دینے سے بلوچ عوام خوفزدہ ہوکر پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ ایسے ظالمانہ اقدامات سے بلوچوں میں قومی زیردستی اور غلامی کا احساس مزید شدیدتر ہوگا اور اس تضحیک آمیز نظام سے چھٹکارہ پانے کیلئے ان کے اندر عملی میدان میں اتر نے کے شعور اور جذبات کو مہمیز ملے گا۔ بلوچ قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں پاکستان کے شریک جرم چینی انجینیئرز پر 11 اگست 2018 کو دالبندین میں ریحان بلوچ کا فدائی حملہ بلوچ قومی عزم کا آئینہ دار ہے۔ جب پرتگال، اسپین، اٹلی، برطانیہ اور سلطنت عثمانیہ جیسے بڑی بڑی سامراجی سلطنتیں نوآبادیات پر اپنا قبضہ برقرار نہ رکھ سکے تو بیرونی خیرات، امداد اور قرضوں پر پلنے والا پاکستان کیسے بلوچستان پر اپنا جبری قبضہ برقرار رکھ سکے گا؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ تاریخ پر نظر دوڑانے سے پتہ چلتا ہے کہ طاقتور تاریخ سے نہیں سیکھتا کیونکہ اس کی عقل پر طاقت کا پردہ پڑا ہوتا ہے۔ مظلوم اور محکوم قوم کے ہاتھوں چِت ہونے کے بعد ہی اس کا ہوش ٹھکانے آجاتا ہے۔

تحریر : رحیم بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close