ماما قدیر بلوچ کا ویڈیو بیان حقائق کے خلاف ہے۔بی ایس او آزاد

BSOکوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے آرگنائزنگ باڑی کی جانب سے ماما قدیر بلوچ کی ویڈیو بیان کو غیر سنجیدہ اور حقائق کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ماما قدیر بلوچ نے جہاں اپنے بیان میں دیگر متضاد باتیں کی ہیں وہیں انہوں نے بی ایس او آزاد کے اندرونی اختلافات کو سازش قرار دیتے ہوئے ان تمام حقائق سے چشم پوشی کی ہے جن کا ماما قدیر خود بطور ثالث حصہ رہے ہیں بی اس او آزاد میں اندرونی اختلافات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے آئینی بحران کے ابتدائی دنوں سے ہی تنظیمی مسائل پر آواز اٹھانے والے کارکن ماما قدیر بلوچ سے باضابطہ رابطے میں رہے ہیں اوراپنے بیانات میں بھی عوامی سطح پر اور مصالحتی کمیٹی کے زریعے ماما قدیرکی جانب سے کی جانے والے کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا گیاتھا لیکن ماما قدیر بلوچ تنظیمی مسائل پر آواز اٹھانے والے دوستوں اور تنظیمی اداروں کو یرغمال بنانے والے گروہ سے ملاقات کرتے ہوئے خود یہ اقرار کیا کر چکے ہیں کہ مزکورہ گروہ تنظیمی مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا جس کے بعد تنظیمی دوستوں نے مصالحتی کوششیں ترک کرتے ہوئے آرگنائزنگ کمیٹی کے تحت تنظیمی سرگرمیاں آئینی طور پر بحا ل کر دی تھیں لیکن آج وہی ماما قدیر تمام حقائق کو پس پشت ڈال کر اسی گروہ کی زبان استعمال کرتے ہوئے بی ایس او آزاد کے تاریخی آئینی بحران کیلئے صرف ایک شخصیت کو زمہ دار ٹہرارہے ہیں بیان میں کہا گیا کہ بی ایس او آزاد ماما قدیر بلوچ کے ساتھ ان کے بلوچ اسیران کی بازیابی کیلئے اد ا کی گئی کردار کی وجہ سے ہمدردی رکھتی ہے اور ان کے اس کردار کو قومی تحریک کیلئے بے مثا ل قرار دیتی ہے لیکن ماما قدیر کی حالیہ ویڈیو بیان اور اس سے قبل کی گئی متعدد متنازعہ اقدامات نہ تو بلوچ اسیران کیلئے ان کی جد و جہد سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی اس مینڈیٹ سے مطابقت رکھتے ہیں جو کہ بلوچ اسیران کی بازیابی کی جد و جہد میں ماما قدیر کو حاصل رہی ہے بلکہ حالیہ ویڈیو بیان اور اس سے قبل کے متنازعہ اقدامات نہ صرف بلوچ اسیران کی بازیابی کی جدو جہد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے ہیں بلکہ ماما قدیر کی اس طرح کی اقدامات بلوچ اسیران کے لواحقین کیلئے بھی مایوسی کا باعث بن رہی ہیں جنہوں نے ماما قدیر کو اپنا ترجمان بناتے ہوئے ان کے پیچھے ایک طویل سفر طے کیاہے بیان میں کہا گیا کہ بلوچ اسیران کی بازیابی کی جد و جہد میں ماما قدیر کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے بی ایس او آزاد کی جانب سے ماما قدیر کے متعدد متنازعہ اقدامات کو نظر انداز کیاجاتا رہاہے لیکن دوسال بعد نواب خیر بخش مری کے پیغام کے نام پر متنازعہ ویڈیوبیان منظر عام پر لانا اور اس پر اپنے تضادات سے پر زاتی تبصرے کے بعد ماما قدیر کی بلوچ اسیران کے لیئے جد وجہد کی ترجمانی متنازعہ ہو چکی ہے اگرچہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پلیٹ فارم پر نصر اللہ اور فرزانہ مجید کی محتاط کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے بی ایس او آزاد اب بھی بلوچ اسیران کی بازیابی کی جد و جہد پر یقین رکھتی ہے لیکن اس تمام تر جد و جہد سے ماما قدیر بلوچ کا حالیہ ویڈیو بیان مطابقت نہیں رکھتا جسے سامنے رکھتے ہوئے بی ایس او آزاد ماما قدیر بلوچ سے تمام تر تنظیمی تعاون ختم کرنے کا اعلان کر تے ہوئے نصر اللہ بلوچ اور فرزانہ مجید سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ماما قدیر کے متنازعہ ویڈیو بیان کے بعد وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے حوالے سے اپنے موقف کی وضاحت کریں تا کہ بی ایس او آزاد کے سطح پر بلوچ اسیران کی بازیابی کی جد وجہد سے متعلق وائس فار مسنگ فرسنز کے لیئے کوئی حتمی پالیسی وضع کی جا سکے ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close