لاپتہ بلوچ اسیران کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2343دن ہوگئے

VBMPکوئٹہ (ریپبلکن نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران و شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2343دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک وفد نے اظہار یکجہتی کی اورلاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے ہمدردی کی اور انہوں نے کہاکہ عالی دشہت قلات میں ڈیتھ اسکوارڈ کا ریک گرو کوئی مینگل کے سربراہی میں موجود ہے اور لوگوں کو لاپتہ اغواء ٹارگٹ کلنگ میں سرگرم ہے دو سال پہلے ہمارے دو آدمی ایک لڑکا اور ایک لڑکی اغواء کیا تھا انوہں نے کسی ذرایع سے ہمیں اطلاع دیا تھا کہ ہم اسی گرو پ کے قبضے میں ہیں اور ان کے پاس اور بھی بہت سے بلوچ لوگ بھی ہیں ان کو خفیہ اداروں اور فورسز کے علاوہ ایک سردار کا پشت پناہی بھی حاصل ہیں دو دہفتہ پہلے یہی لڑکا اور لڑکی کسی طرح ان کے چنگل سے بھاگ گئے راستے کا ان کو پتہ نہیں تھا وہ کسی اور راستے سے اسکلکوپہنچ گئے ڈیتھ اسکوارٹ کا گرو ان پیچا کرتے ہوئے پاؤں کے نشات کے ذریعے ان کو پکڑ لیا اور اون کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کرکے ان کی لاشوں کو وہیں پھینک دیا قلات کے انتظامیہ کو اطلاع دی گئی تو انتظامیہ نے بغیر کارروائی کے ان کی تدفین وہی قلات میں کردی اور انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ اجتماعی قبروں کا خطرہ بھی ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے کہاکہ اجتماعی قبروں کا ہر جگہ سے انکشافات ہو رہے ہیں۔ لیکن سابقہ ڈاکٹر مالک کی حکومت کی طرح موجودہ صوبائی حکومت کی بے حسی اور خاموشی سانحہ تو تک کی یاد تازہ کر رہی ہے ماما قدیر نے مزید کہاکہ تاریخ انسانی میں جب سے انسان پر انسان کے بالا دستی غلامی محکومی اور استحصال کا آغاز ہوا ہے تب سے نو ع انسان اور جنگ و جدل اور قتل و غارت کے خون ریز مناظر سے دوچار ہے بلوچ تحریک یہی صلاحیت اور اثر انگیزی ریاستی مقتدرہ اور اس کے پشت بانوں کی آنکھومیں بری طرح کٹھک رہی ہے بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی کے ہتھیار کو پہلے سے زیادہ بھیانک انداز استعمال میں لایا جا رہاہے جو ایک تیر سے کئی شکار کے اہداف کے حامل ہیں لہذا قومی تحریک کو مضبوط و منظم بنانے کے علاوہ بلو چ سما ج اور سر زمین کو بدی کی طاقتوں سے بچانے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ایجنسی بلوچ آزادی پسندوں کی صفوں میں داخل ہوچکے ہیں وقت آگیا ہے کہ قیادت اس کی چھان بین اور تطیر کریں ماما نے مزید کہاکہ اگر اس دفع ڈیتھ اسکوارڈ اور اجتماعی قبروں کی عالی دشت قلات میں چھان بین نہیں کی گئی تو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز سیدھا اقوام متحدہ سے رابطہ کریے گی اور اگلا پچھلا اجتماعی قبروں کی تحقیقات کرائے گی ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close