گروہی یا اصولی اختلاف۔! | ریپبلکن مضمون

گروہی یا اصولی اختلاف۔!

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) علامہ جرجانی اختلاف کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “حق کے اثبات اور باطل کے ابطال کے لیے دو فریقوں کے درمیان جو بحث ومباحثہ اور علمی داد وستد ہو اس کا نام اختلاف ہے”۔

ہمارے ہاں غیر علمی اور غیر حقیقی طرزِ عمل یہ ہے کہ ہم ایک نکتہ اور مسئلہ پہ اختلاف کی بنا پر شخصیت کے مکمل افکار و خیالات کو رد کرتے ہیں بنا یہ جانے کہ اس بات میں کیا سچائی ہے کتنی حقیقت یا وزن دار ہے۔ محض ایک ہی بات پورے قصے کو رد کرنے کیلئے کافی ہے کہ خیالات کا اظہار کرنے والا بندہ سیاسی رائے میں اختلاف رکھتا ہے۔ شاید اس لئیے کہ بلوچ سیاسی معاشرے میں برداشت کرنے کی سقط نہیں یا پھر ہمارے ہاں لاشعوری بے حد زیادہ ہے۔ 

بلوچ سیاسی تنظیموں میں اختلافات نئی بات نہیں ہے اور ہونے بھی چائیے لیکن طریقہ کار اور حکمت عملی پر مگر ان اختلافات کو اس حد تک پہنچنے نہ دیا جائے جہاں وہ دوریوں اور اجتماعی قومی نقصانات کا سبب بنیں ۔ بلوچ تنظیموں کے درمیان ایسے چند اختلافات اور ان کی وجہ سے پیش آنے والے نقصانات کا ذکر آج اس مضمون میں کیا جائے گا۔ 

بلوچ نیشنل فرنٹ کا قیام شہید جلیل ریکی، شہید ثنا سنگت، شہید واجہ غلام محمد سمیت ان تمام رہنماوں کی انتھک محنت اور جہد مسلسل کا ثمر تھا جن میں سے بیشتر آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن بی این ایف جیسے بڑے پلیٹ فارم کا زوال بی این ایم کی غیر زمہ دارنہ بیانات اور غیر سنجیدہ رویوں کی وجہ سے سامنے آیا۔ بی این ایم اور بی ایس او کی قیادت نے مسلسل بی این ایف کی پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے بی این پی مینگل کو غیر ضروری تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کا موقف یہی تھا کہ بی این پی سمیت تمام بلوچ پارٹیاں آزادی کی حمایت کریں دوسری صورت میں انہیں ریاست کی کٹ پتلی ہونے کا سند ارسال کردیا جائے گا  اور یہ بھی کہ بی این پی کا موقف آزادی نہیں بلکہ خق خود ارادیت ہے اور یہ رویہ بلوچ سیاسی ماحول میں  مزید انتشار کا سبب بنا .

بی این ایم کے رہنماوں کی اس پالیسی نے جہاں بلوچستان میں سیاسی کارکنان کیلئے نہ صرف کام کرنا ناممکن بنا دیا بلکہ ان کا سیاسی منظر نامے میں موجود رہنا بھی تقریباََ ناممکن سا ہوگیا تھا لیکن رویوں میں کوئی نرمی آنے کے آثار نہیں تھے اس تمام عرصے میں شاید انا اور ضد کارفرما نہیں تھے بلکہ اس میں حالات سے ناآشنائی، خطے اور بین الاقوامی دنیا کی قوانین اور حالات سے یکسر بے خبری کہا جائے تو بہتر ہوگا ۔ 

کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلاو آجاتا یے مگر بلوچ سیاسی منظرنامہ میں ایسی کوئی چیز دیکھنے کو نہیں ملی بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ جان بوجھ کر مزید تلخیاں پیدا کرنے کی دانستہ کوشش کی گئی اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ مسلح تنظیمیں ایک دوسرے کو توڑ کر کمزور کرنے کی کوششیں کرنے لگے . اس تمام بچگانہ سیاسی اچهل کود کے دوران دل کھول کر سوشل میڈیا میں ایک دوسرے کی کردار کشی کی گی جس میں ایسے راز افشا کیے گئے که جنہیں پانے کے لئے ریاست لاکه روپے خرچ کرتی ہے . ہمارے کچھ ‘انقلابی لیڈر’  بلوچ کو آزادی دینے کے نعره میں بلوچ کو مزید انتشار اور تقسیم کا ناسور اس دلیل پر دیا کہ اس سے ہمارا گروه مضبوط هوگا . اس رویہ کو کیا نام دیا جائے 

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بلوچ قومی رہنما نواب براہمدغ بگٹی نے ایک پاکستانی نیوز چینل پر اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر پاکستان حکومت دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہی ہے کہ بلوچ قوم پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتی ہے اور بقول ریاست کے محض چند لوگ وہاں انتشار پھلانے کی کوشش کررہے ہیں تو بہتر ہے آپ اقوام متحدہ کے قوانین کا احترام کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کی زیر نگرانی میں بلوچستان میں ایک ریفرینڈم کرائے پھر جو بھی فیصلہ ہوگا وہ پاکستان قبول کرے ہم بھی تسلیم کرینگے ۔ اس بیان کے بعد تو جیسے آسمان ٹوٹ پڑا بی این ایم اور اس کی مسلح اور طلبہ ونگ نے سوشل میڈیا پر جو زہر اگلا وہ تاریخ کا حصہ ہیں اس بات کو محض بی این ایم نے اپنے گروہی مقاصد کیلئے استعمال کیا جس کا مقصد بی آر پی کو کمزور کرنا تھا ، اس عمل کو بچگانہ گروہی مقاصد کہنا بھی شاید غلط ہوگا کیونکہ بی این ایم کی قیادت کو گروہ کی حد تک بھی کم سے کم اپنے مفادات کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کیونکہ گروہ بھی خود کو منظم کرنے کی کوشش میں رہتا ہے اور وہ کوشش تب کامیاب ہوتی ہے جب اس کی عوام اور وطن کے ہر کونے میں موجودگی اور حمایت ہو۔ کہتے ہیں کہ نیم حکیم خطرہ جان است یہ محاورہ یہاں اس لیئے کارآمد ہوتا ہے کہ بی این ایم کی قیادت آج بھی مکران نہیں بلکہ ایک دو اضلع تک اپنی سوچ کو محدود کیے ہوئے ہیں 

جناب یہاں جنگ بلوچستان کیلئے ہورہی ہے اور آپ کو تمام اقوام کو اپنے ساتھ لیکر چلنا ہے، اگر بی این ایم مکران کو فتح کر بھی لے تو وہ بلوچستان نہیں ہے اگر آپ بگٹی، مری، مینگل، مگسی، رائیسانی سمیت اور دوسرے بلوچ قبائل کو نفرت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور ان کے رسم و روایات فرسوده کہہ کر گالی دینگے تو کیسے کوئی بلوچ قبیلہ آپ کو تسلیم کرنے کو تیار ہوگا تو یہ بلوچستان کی جنگ کہاں سے ہوئی ؟ . اس حوالے سے ان بلوچ سیاسی قایدین کو اپنے طرزے فکر میں بڑی تبدیلی کی ضرورت هے . میں اس بحث کو یہاں روکتے ہوئے  اپنے اصل موضع کی طرف آنا چاہوں گا کہ آج چھ سال بعد بی این ایم وہی آکر کھڑی ہے جہاں بی آر پی چھ سال قبل کھڑی تھی اور وہ ہے خق خودارادیت ، یہاں پر میں یہ کہونگا کہ دیر آمد دست آمد ۔

اب حق خود ارادیت کی بات آتی ہے تو 27 مارچ کا کیا بنے گا ؟ کیونکہ بی این ایم تو کہتی رہی ہے کہ بلوچستان مقبوضہ ریاست ہے اور مارچ 1948 کو قبضہ ہوا ہے اگر قبضہ ہوا ہے تو وہاں حق خود ارادیت کہاں سے نازل ہوتی ہے؟ شاید بی این ایم کو حق خود ارادیت، آزادی اور مقبوضہ ریاست کے درمیان فرق کو سمجھنے میں مزید چھ سے چھتیس سال لگیں گے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ چند لڑکوں پر مشتمل ایک موقع پرست گروہ ہیں جو کہ بی آر پی سے یہ کہہ کر الگ ہوئے کہ پارٹی کا آزادی کے حوالے سے موقف واضع نہیں ہے اور آج وہی گروپ بی این ایم کو آزادی سے خود ارادیت کی پٹھڑی پر لے آیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ بی این ایم کی قیادت کو ایسے لوگوں کو سمجھنے کیلئے شاید چھتیس نہیں چہیتر سال لگیں گے اور اس میں قیادت کا قصور بھی نہیں ہے کیونکہ اسطرح کی سیاسی زندگی میں ایسا تو ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اسطرح تو ہوتا ہے اسطرح کے کاموں میں۔

تحریر؛ مرید بگٹی

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button