ماں مجھے ڈر لگا رہا ہے کئی میری ہمدردی تجھ سے تیرا بیٹا نہ چین لیے.!

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) جب ایک ہمدرد شخص دوسرے کو تکلیف یا مصیبت میں دیکھتا ہے تو وہ شخص فوری مصیبت زدہ انسان کی مدد میں پہنچتا ہے اور اسے ایک ہمدرد انسان، احساس مند اور اللّٰہ تعالیٰ کی طرف آیا ہوا ایک فرشتہ بھی کہا جاتا ہے،

بڑی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہمارے سماج اور معاشرے میں ایک ہمدرد، احساس مند اور فرشتہ کی مانند شخص کو دہشتگرد کرار دیا جاتا ہے جس کا جیتا جاگتا مثال ‘حسنین بلوچ ہے’

حسنین بلوچ ایک نو عمر بچہ ہے اور وہ ابھی طالب علم ہی ہیں جس کی اپنی زندگی کی شروعار ہی مشکلات سے کیا ہے

حسنین کوئٹہ سے لاپتہ ہوجاتا ہے اور کراچی میں ان کی گرفتاری ظاہر کی جاتی ہے حسنین بلوچ کا جرم صرف اتنا ہی تھا کہ وہ ایک ہمدرد انسان تھا جس نے لاپتہ افراد کے لواحقین کی سسکیاں اور سردی میں ٹھٹھرتی ہوئی دردِ کو محسوس کی اور یہی ہمدردی نے بلآخر اسے ہمارے ملکی اداروں کے لئیے دہشت گرد بنا دیا۔

مجھے نہیں لگتا کہ صرف بلوچ کے دل میں ان ماوں، بہنوں اور بچوں کیلئے درد اٹھتا ہے جو اس سرد موسم میں سیسکیاں لیتے ہوئے ہر اس شخس کی آنکھوں میں ایک امید کی کرن تلاس کرتے ہیں جو وہاں ان کی کیمپ کے وزٹ کو جاتا ہے۔ اس میں خیبر کا پشتون بھی شامل ہے انسانیت کے ناتے پنجاب کا پنجابی بھی اس درد کو محسوس کرتا ہے اس میں سندھ  کاباسی جو خود بھی اس درد کی لپیٹ میں ہے  بھی بخوبی آگاہ ہے۔

میرے خیال میں ہر مسلمان اور ہر انسان کا دل تڑپ اٹھتا ہوگا جو بھی ان معصوم بچوں کی آنکھوں میں بہتے آنسو دیکھے کا جن کے آنکھوں میں بس کی ایک سوال ہے کہ کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہے کیا ہمارے لئیے اس ملک کے قوانین لاگوں نہیں ہوتے؟

یہی انسانیت کا درد حسنین جیسے معصوم کے دل میں بھی اٹھا اور وہ ایک طالب علم ہونے کی حثیت سے بس یہی گناہ کر بیٹھا کہ اس نے لاپتہ افراد کے کیمپ میں ان تڑپتے ماں بہنوں سے اظہار یکجہتی کیا اور مقتدر حلقوں کی نظر میں دہشت گرد بن بیٹھا۔

اور ہمدردی تو میرے آقا محمد ﷺ کی پہچان ہے اور ایک مسلمان کی فرضِ ہے کہ دوسرے کے تکلیف میں انکی مدد کریں اس سماج سے دستبردار ہو کر اپیل ہے کہ ہم سے یہ حق نہ چینا جائے خدارا ہمیں اپنے آقا محمد ﷺ کے نقشے قدم پر چلنے دے

تحریر: نذر بلوچ قلندرانی

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button