قبائل کو آپس میں لڑانے کی کوششیں!

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز)  بلوچستان میں قتل و غارت گیری کئی سالوں سے جاری ہے، بلوچ تعلیم آفتہ طبقے کی ریاستی افواج کے ہاتھوں جبری گمشدگیاں اور حراستی قتل و غارت گزشتہ بارہ سال سے جاری ہے اس سے قبل پانچ فوجی آپریشن کیئے گئے۔ اغراض و مقاصد وہی پرانے بلوچ وسائل کی لوٹ مار مگر ریاستی حکمت عملی میں معاضی کی طرح تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔

‎1971 میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کیا گیا ہزاروں بلوچ پیر و ورنا شہید کیئے گئے ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے پھر آپیشن میں کچھ وقت نرمی پھر دوبارہ فوجی جارحیت میں تیزی لائی جاتی رہی مگر شاید ریاستی عسکری ادارے اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوئے۔
پھر مختلف بلوچ قبائل کو آپس میں لڑایا گیا بگٹی رائیسانی کی جنگ جس میں نواب بگٹی شہید کے خاندان کو نشانہ بنایا گیا اور رائیسانی نواب خاندان کے لوگ بھی اس جنگ کی لپیٹ میں آگئے۔
پھر بگٹیوں کے اندر کلپر اور راہجہ کو لڑایا گیا یہ تمام حربوں کے باوجود ریاست کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مزاری بگٹی،مری بگٹی، جھکرانی بگٹی، بگٹی گلاٹو، سمیت قبائلی جنگیں ہوتی رہی ہیں اور کئی نہ کئی ان سب کے پیچھے حکومتی عسکری ادارے ہی پائے گئے۔

اب کچھ دنوں سے ایک بار پھر ریاست نے اپنے وہی گھسے پٹے پرانے ہتھکنڈوں کو استعمال کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔

ایک کارٹون نما انسان کو فیس بک پر چھوڑا گیا ہے اور وہ صاحب کہتے ہیں کہ براہویی الگ قوم ہے۔ حالانکہ یہ کوئی بحث کرنے والی بات نہیں بلکہ اس شخص کو خود زہنی طور پر مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ریاست وہی پرانے ہتھکنڈے کو استعمال کیئے تھے اور ناکام بھی رہا ایک بار پھر سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔

حال ہی میں نصیر آباد کے علاقے چھتر میں بگٹی اور مینگل قبائل کو زمین کے ایک ٹکڑے پر لڑانے کی کوشش کی گئی بلکہ ہنوز کوششیں جاری ہیں۔ چھتر میں ہزاروں ایکڑ کی زمین ہیں جس پر مینگل قبائل کا دعویٰ ہے کہ ان کے ہیں جبکہ بگٹی قبائل کے افراد ان کو اپنی ملکیت قرار دیتے ہیں۔ اس زمین کو لیکر کافی کشت و خون بھی ہوا ہے

مزید  مضامین:

بیشک اللّٰہ کی لاٹھی بے آواز ہے

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج اور جام کمال کی داڑھی

اب مقامی طور پر سرگرم ایجنسیوں نے مینگل قبیلہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو بلا کر انہیں مسلح ہونے اور اپنے طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ ان قبائل میں جنگ ہو اور ان لوگوں کو ریاستی ادارے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر سکے۔

اسی طرح ڈھا ڈر سے اطلاعات ہیں کہ رند و کرد قبائل کے درمیان بھی شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ڈھا ڈر میں سردار یار محمد رند اور عاصم کرد گیلو کے حامی ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں اور کسی بھی وقت ان کے درمیان جنگ چھڑ سکتی ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایک گروپ کو آئی ایس آئی کی حمایت حاصل ہے اور دوسری کو ایم آئی سپورٹ کررہی ہے۔

جبکہ دوسری طرف بگٹی اور جھکرانی قبائل کے درمیان بھی کشت و خون کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے دونوں طرف سے ابتک دو افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ابھی تک تصفیہ کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

قبائل کو آپس میں لڑانے کی کوششیں وقتی طور پر ریاستی ادارے اپنے ارادوں میں کامیاب رہا لیکن ریاست کوئی خاص حاصل نہیں کر پایا۔

اب تو بلوچ قوم بہت حد تک با شعور ہوگیا ہے پہلے کی نسبت تعلیم و آگاہی میں اضافہ ہوا ہے اب اس دور میں ریاست کی وہی پالیساں کامیاب ہونے والی نہیں ہیں۔

مگر پھر بھی بلوچ قبائلی رہنماؤں پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ دشمن کو ایسے چالوں کو سمجھے اور دانشمندی سے انہیں ناکام بنائیں۔

تحریر: زرکانی بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close