ممکنہ جلا وطن حکومت کے بارے براہمدغ بگٹی کا موقف اور نائلہ قادری کی ون مین شو سولو فلائٹ

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز/مضمون) اطلاعات کے مطابق بی بی نائلہ قادری دو دن قبل کابل سے انڈیا پہنچ چکے ہیں اور جلا وطن حکومت بنانے کی کوششوں میں لگے ہوے ہیں۔ اس سے پہلے بی بی کابل میں جلا وطن حکومت بنانے کے بارے میں بھی ایک سیمنار کرچکے ہین۔۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے نائلہ ایک این جی او قسم کی ورلڈ بلوچ ویمن فورم سےسرگرم تھی۔ لیکن ابھی تین دنوں سے اخبارات میں اپنی نام سے جڑے ایک سیاسی پارٹی بنام بلوچستان فریڈم مومنٹ کے پلیٹ فارم سے سرگرم ہیں۔۔ بی بی نائلہ نے ابھی تک، شاید کسی خاص مقصد کے تحت، اس پارٹی کا منشور ، عہدہ دار وغیرہ مخفی رکھے ہوے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ بی بی ون مین شو کی طرح سولو فلائٹ کرنے کی نیت سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ملک ہندوستان کو قائل کررہی ہے کہ سنگل پرسن کی جلاوطن حکومت بن بھی سکتی ہے اور چل بھی سکتی ہے۔
نائلہ کی سرگرمیوں کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ نائلہ بلوچستان کی بات کرتی ہیں مگر اُس نے کسی بھی قدم اُٹھانے سے پہلے ایک بھی اسٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لینے کی ضروت محسوس نہیں کی ۔اگر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیرکوئی قدم اُٹھے گا اُسے یقیناً اُن قوتوں کی پشت پناہی حاصل نہیں ہوگی جو زمین پر موجود کسی نہ کسی پلیٹ فارم سے میدان جنگ میں شہادتیں دے رہی ہیں اس وقت بلوچستان مِیں بلوچ دو حصوں میں تقسیم ہیں اکثریت آزادی چاہتی ہے جو کسی نہ کسی آزاد ی پسند پارٹی یا لیڈر سے منسلک ہیں باقی اقلیت وہ ہیں جو اس وقت مجبوری یا کسی اور وجہ سے ریاست کے ساتھ ہیں جبکہ درمیان میں کوئی بلوچ طبقہ بچا ہی نہیں ہے جسکی نائلہ یا کوئی اور نماءندگی کی بات کرے اور اُس کی پشت پناہی میں جلاوطن حکومت بنائے۔
نائلہ کی انہی سرگرمیوں کو قومی کاز کے مفاد میں مضر سمجھتے ہوئے بلوچ رہنما و بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ نواب براہمدغ بگٹی نے ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا بلوچستان کی جلا وطن حکومت کا قیام ایک قومی مسئلہ ہے جو قوم کی نمائدہ تنظیموں کی جانب سے مشاورت اور مشترکہ فیصلے سے ہی طے ہوگا۔ بلوچ رہنما کا کہنا تھا کہ نائلہ قادری، قوم کی نمائدہ نہیں ہے بلکہ اس کے ایسے احمکانہ حرکات بلوچ قومی جہد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جبکہ بی این ایم نارتھ امریکہ کے رہنما ظفر بلوچ نے بھی اپنے ٹوئٹر پر نواب براہمدغ بگٹی کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فرد کو یہ حق حاصل نہیں اور نہ ہی بیانات کے زریعے حکومتیں قائم کئ جا سکتی ہے
نائلہ بی بی کی ان تمام سرگرمیوں کے بارے میں نے بی این ایم اور فری بلوچستان مومنٹ کے رہنماؤں سے رابطہ کیا اور ان سے اس بارے ان کا موئقف جاننے کی کوشش کی، اس حوالے فری بلوچستان مومنٹ کی پلیٹ فارم پر سرگرم سیاسی رہنما اور دانشور سنگت شبیر بلوچ نے قومی رہنما نواب براہمدغ بگٹی کی نائلہ قادری بابت دئے گئے موقف کو سراہتے ہوے کہا بلوچ قومی تحریک سے جڑے تینوں اسٹاک ہولڈروں، فری بلوچستان مومنٹ ، بی آر پی اور بی این ایم کو چاہیے کہ وہ ایسے موقع پرستوں کو قومی تحریک کی مقبول عوامی حمایت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دیں اور خود اتحاد کی طرف آگے بڑھتے ہوئے ایک نمائندہ قومی پلیٹ فارم تشکیل دیں اور باہمی اعتماد کے ساتھ دنیا کے سامنے اپنی کاز کی خود نمائندگی کریں۔
کینڈا میں مقیم بی این ایم کی رہنما ڈاکٹر ظفر بلوچ نے ٹویٹر پر براہمدغ بگٹی کی موقف کا تائید کرتے لکھا ہے کہ کسی فرد کے پاس یہ اختیارنہیں کہ وہ بلوچ قومی ہم آھنگی کے بغیر انفرادی طورپر جلاوطن حکومت قائم کرنے کا قدم اٹھاے۔
یورپ میں بی این ایم کے کنوینر ڈاکٹر نسیم بلوچ نے جلاوطن حکومت قائم کرنے کے بارے کہا کہ ان کی ذاتی رائے یہ ہے کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے چلانے کیلئے بلوچ تنظیموں کے پاس صلاحیت اور افرادی قوت موجود ہے مگر اس کیلئے مناسب وقت اور وقتِ ضرورت کا انتخاب غلط نہیں ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر اِس کا خیال آج کل زوروں پر ہے جو پہلے اتنا نہیں تھا۔ مگر اِس کے بارے میں کسی نے اسٹڈی اور طریقہ کار کسی پیش نہیں کی ہے۔ جہاں تک بی این ایم کا تعلق ہے، ہم نے اِس بات کی چہ میگوئیاں شروع ہونے کے بعد سینئر دوستوں کے ساتھ ڈسکس بھی کیا۔ نتیجہ یہی آیا کہ اگر موقع ملے تو بی این ایم کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ وہ تنہا ایک ایگزائل گورنمنٹ چلا سکے، مگر ہم یا بی این ایم ایسا قدم نہیں اُٹھائیں گے۔ کیونکہ بی این ایم بلوچ قومی جد و جہد آزادی میں تمام حصہ داروں کا احترام کرتا ہے۔
سب سے پہلے ہمیں ایک مشترکہ لائحہ عمل اور منتخب نمائندوں کی ضرورت ہوگی، جو تمام حصہ داروں سے ہوں اور ایک مضبوط اسٹرکچر اور مکینزم mechanism ہو جس کے تحت سب ساتھ چل سکیں اور بلوچ قوم اعتماد کرسکے ۔ بصورت دیگر اس کی ناکامی کے امکانات بہت زیادہ ہونگے۔ ایک ایسے عمل کی ناکامی ہمیں وہ نقصان دیگا جو چار سال کی آپسی چپقلش نے بھی نہ دی ہیں۔ کیونکہ یہ ناکامی عالمی سطح کی ہوگی اور عوام مایوسی اور نا امیدی کی طرف چلا جائیگا۔
ایک اور اہم نقطہ اس بار ے میں یہ ہے کہ اس میں سیاسی دکانداروں اور پیدا گیروں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔ کسی کا نام لینا شاید مناسب نہیں کیونکہ حالات سے فائدہ اُٹھا کر بلوچ کے نام پر سیاست کرنے والے بہت ہیں جو کسی بھی وقت یو ٹرن  u turn لے سکتے ہیں ۔ یوٹرن لینا دور کی بات ، سب دیکھ رہے ہیں کہ وہ آج بھی دو کشتیوں کے سواری دکھائی دیتے ہیں میرا مقصد، کہ آنے والے وقتوں میں اگر گورنمنٹ اِن ایگزائل کا قیام عمل میں آتا ہے تو ایسے کرداروں کو ساتھ نہیں ملانا چاہئے۔ بلکہ سب سے بہتر اور بحث کو ایک آسان نتیجے پر لانے کیلئے ضروری ہے کہ تمام موجودہ سرفیس سیاسی اور مسلح سیاسی آزادی پسند جماعتوں کے باہمی اعتماد ، ہم آہنگی اور رضامندی کے بعد یہ عمل سامنے لانا چاہئے۔ اور وہ جو NGO یا چند فردی جماعتوں کے نام پر ہمارے درمیان موجود ہیں ایسے موقع پرستوں کی نشاندہی پر کسی پارٹی کو نہیں ڈرنا چاہئے۔

تحریر : ارچن بلوچ

مزید خبریں اسی بارے میں

Close