بلوچستان میں بند انٹرنیٹ سروسز کی بحالی ریاستی سازش بھی ہوسکتی ہے ۔ ریپبلکن رپورٹ

کوئٹہ/رپورٹ(ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ کئی عرصوں سے بند انٹر نیٹ سروسز بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں، جو پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی سازش بھی  ہوسکتی ہے،  کیونکہ بلوچستان میں آزادی پسند کارکنان کے مقامات کو ٹریک کر کے نشانہ بنانے کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔

ریپبلکن نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے چند علاقوں میں انٹر نیٹ سروسز کو بحال کردیا گیا ہے، جو آزادی پسند دوستوں کے لیے مثبت اور منفی بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ کیونکہ یہ ریاستی خفیہ اداروں کی ایک سازش بھی ہوسکتی ہے، تاکہ آزادی پسند ساتھیوں کے ٹھکانوں کا پتہ لگاکر انہیں نشانہ بنایاجائے۔

ریاستی اداروں کے لیے ایک موبائل فون کو ٹریک کرنا اور فون استعمال کرنے والے شخص کے ٹھکانے کا پتہ چلانا بہت ہی آسان کام ہے۔ جبکہ کم آبادی والے علاقے اس کام کو مزید آسان بنا دیتے ہیں۔ 

آزادی پسند ساتھیوں کو چاہیے کہ احتیاط برتنے کے ساتھ ساتھ موبائل فون کا جتنا کم استعمال ممکن ہوسکے کریں۔اور موبائل فون میں حساس نوعیت کے گفتگوں کرنے سے گریزاں رہیں۔ کیونکہ ریاستی اداروں کی باقاعدہ ٹیم بلوچستان میں بلوچوں کے فون کالز سننے میں ہر وقت مصروف رہتی ہے، تاکہ آزادی پسندساتھیوں کے بارے میں معلومات اکھٹا کر کے انہیں نشانہ بنایا جاسکے۔

مزید رپورٹیں:

طالبان پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر کو کیوں مارنا چاہتے ہیں؟

ایک ایسی خاتون جس نے اپنی زندگی بلوچستان میں تعلیم عام کرنے میں لگا دی لیکن!

لیاری آپریشن، گینگ وار اور بلوچ نسل کشی

ریاستی ادارے لوگوں کو ٹریس کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں، ایسا ہی ایک حربہ آپ کے موبائل فون میں انسٹال کوئی ایپلی کیشن بھی ہوسکتی ہے۔کیونکہ موبائل فون میں کوئی بھی ایپلی کیشن انسٹال کرنے سے پہلے (Permission) ضرور چیک کیاکریں۔ بہت سے غیر ضروری ایپس کو انسٹال کرتے وقت جی پی ایس، گالری، کیمرہ اور  کانٹیکٹ وغیرہ سمیت مختلف چیزوں کے بارے میں غیر ضروری طور پر اجازت درکار ہوتی ہے، جسے قبول کرنے پر آپ ایپلی کیشن کو یہ اختیار دے دیتے ہیں  کہ وہ آپ کے موبائل فون میں موجود کیمرہ، وائس ریکورڈر، موجودہ ایڈریس، گالری سمیت مختلف آپشنز کو آپ کو بتائے بغیر استعمال کرے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا موبائل فون آپ کو بتائے بغیر آپ کی وائس ریکورڈ کرسکتا ہے اور آپ کے موبائل میں موجود مختلف فیچرز کو استعمال کرسکتا ہے۔ یعنی آپ کا موبائل فون آپ کو بتائے بغیر آپ کے موبائل میں موجود معلومات (ڈیٹا) کو (ایپ ڈوولوپر) ایپلی کیشن بنانے والے کو منتقل کرسکتا ہے، یا اسکے بنائے گئے ڈیٹا بیس میں محفوظ رکھ سکتا ہے۔

جبکہ جدید جیو فینسنگ )Geofencing) ٹیکنالوجی کے ذریعےریاستی ادارے باقاعدہ لوگوں کی باونڈریز کو بھی مانیٹر کرسکتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی ادارے ہمارے لیے ایک مخصوص علاقہ (زون) کا تعین کرتے ہیں جب ہم اس زون یا علاقے سے باہر قدم رکھتے ہیں تو انہیں فوراََ نوٹیفیکشن کی صورت میں ہمارا لوکیشن چلا جاتا ہے۔یعنی ہم مکمل طورپر انکی نگرانی یا قید میں ہوتے ہیں۔

جبکہ ان سے بچنے کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ (تھرڈ پارٹی ایپلی کیشز) یعنی ایسے ایپلی کیشنز کو اپنے موبائل فون یا ٹیب میں انسٹال بالکل نہ کریں جو قابلِ بھروسہ زرائع سے حاصل نہ کئے ہوں، یعنی ایسے ایپس جو کسی ویب سائٹ سے انسٹال کیے ہوں۔جبکہ پاکستانی ایپلی کیشنز کو بالکل بھی اپنے موبائل فون میں انسٹال نہ کریں۔

جہاں تک ممکن ہو، صرف ان ایپس کو ہی اپنے موبائل فون میں انسٹال کریں جو قابلِ بھروسہ ہوں، جیسے کہ وٹس ایپ، اسکائپ، فیس بک، ٹویٹر وغیرہ وغیرہ۔  جبکہ بہت سے لوگ ایک موبائل فون میں دو وٹس ایپ استعمال کرتے ہیں جبکہ دوسرے وٹس ایپ کے لیے تھرڈ پارٹی ایپس کا استعمال کیا جاتا ہے جو آپ کی پرائیویسی کے لیے نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے۔

نوٹ: اس مختصر رپورٹ کو زیادہ سے زیادہ بلوچ حلقوں میں عام کریں تاکہ ریاستی اداروں کے حربوں اور سازشوں سے آزادی پسند ساتھی محفوظ رہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close