جرمنی میں بلوچ دوست لانگ مارچ وقت کی ضرورت اور مثبت تاریخی عمل ہے. بی ایس ایف

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلو چ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں بلوچ دوست رہنماء میر حیر بیار مری اور ہم فکر دوستوں کی جانب سے بلوچ وطن پر بلجبر ریاستی تسلط اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے حوالہ سے یورپین ممالک مین آگاہی و احتجاجی سرگرمیوں اور جرمنی میں بلوچ دوست لانگ مارچ کو وقت کی ضرورت اور مثبت تاریخی عمل قرار دیتے ہوئے کہاکہ عالمی سطح پر کی قومی آزادی کے حوالہ سے موبلائزیشن کے سلسلوں میں تیزی آذادی کی تحریک کو نئی جہت فرائم کریگی اس طرح کے اقدامات تحریک کے لئے سنگ میل ثابت ہوں گے ترجمان نے کہاکہ اس سے نہ صرف بین الاقوامی میڈیا متوجہ ہوسکے گا بلکہ انسان دوست ممالک اور انسانی حقوق کے عالمی تنظیمیں بلوچ نسل کشی اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگ خلاف ورزیوں سے براہ راست باخبر ہوں گے جو بلوچستان کی آزادی کے لئے بین الاقومی سفارت کاری کو موثر بناکر عالمی سطح پر بلوچستان کی آزادی کے لئے عالمی رائے عامہ کے سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت میں اضافہ کریں گے ترجمان نے کہاکہ یورپی یونین سمیت دیگر ممالک میں مقیم بلوچ تاریخی لانگ مارچ اور بلوچ دوست کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور جرمن پارلیمنٹ کے طرف جانے والے16جولائی سے شروع کی جانے والے لانگ مارچ میں براہ راست شریک ہوکر عالمی دنیا کو بلوچ قومی آزادی کے مسئلہ پر متوجہ کرنے کی کوششوں کو آزادی کے حق میں بار آور ثابت کریں ترجمان نے کہاکہ یورپ کی سطح پر شروع کی جانے والی موبلائزیشن سے عالمی برادری پر مثبت اثر پڑیگا جس سے نہ صرف بلوچ قومی آزادی کے مطالبہ کو وسیع پیمانے پر پزیرائی ملے گی بلکہ بلوچ نسل کشی کے زریعہ انسانی بحران پیدا کرنیوالے انسانی حقوق کی خلاف ورزیان دنیا کے نظروں میں نمایاں انداز میں آجائیں گے اور بلوچ قومی تحریک کے خلاف ریاستی پروپیگنڈہ مہم اور سبوتاژی عمل کو واضح دھچکہ لگے گا ترجمان نے کہاکہ بیرونی ممالک مقیم بلوچ آزادی دوست فکر و جذبہ سے لیس ہوکر اس بین الاقوامی موبلائزیشن کے سلسلہ کوپر جوش انداز میں کامیاب بنائیں فیصلہ کن کامیابی کا انحصار بلوچ قوم کے اپنے سفارتی سرگرمیوں پر منحصر ہے اگر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے تو کوئی ہماری حمایت کو نہیں آئے گا اگرہاتھ پھیر ماریں گے اور ہماری آواز عالمی ایوانوں تک جائے گی تو ہم انہیں متوجہ کرسکیں گے پوری دنیا سفارت کاری کررہاہے دنیا کے آزاد قوموں اور طاقتور ممالک کو بھی سفارت کاری کی ضرورت پڑتی ہے تو ہم کیوں اپنی آزادی کے حوالہ سے سفارت کاری نہ کریں اگربلوچ قوم عالمی سفارت کاری کو اپنی حق میں جیت جائے گا تو وہ دن دور نہیں کہ بلوچ غلامی کی اس ازیت ناک زندگی کو ہمیشہ کے لئے خیر آباد کریں

مزید خبریں اسی بارے میں

Close