عروج یونہی کسی کو نہیں ملا کرتا لہو میں ڈوب کر روشن ہوا نامِ اکبر

تحریر: گوہر بگٹی

12 جولائی کلینڈر میں لکھی محض ایک تاریخ نہیں یہ وہ دن ہے جب ایک ماں نے ایک ایسا بیٹا جنا جس کی کوکھ پر لاکھوں مائیں فخر کرتی ہیں ، ہر ماں کی یہ خواہش ہوگی کہ اس کی گود میں ایسا بیٹا پلے جو پوری قوم کے فرذندان کے لیے ایک مثال بن جائے۔ ۲۱ جولاء ۷۲۹۱ کو کوہلو کے علاقے بارکھان میں میں نواب محراب خان کے گھرانے میں آنکھیں کھولیں ایک امیر کبیر گھرانے میں پیدا ہوئے زندگی میں کبھی دولت کی کمی نہیں دیکھی بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بے پناھ دولت دیکھی۔ امیروں اور نوابوں کے بچوں کے برعکس تعلیم سے انتہائی لگاؤ تھا بچپن سے ہی بہت ذہین اور فطین بچہ تھا پڑھنے لکھنے سے بہت زیادہ شگف تھا اور یہ شوق آخر تک ساتھ رہا بیک وقت تین چار کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے علم کا خزانہ تھے تاریخ سے بے حد لگاؤ تھا زندہ قوموں کا شیوہ ہے کہ کوئی قوم بھی اس وقت تک زندہ نہیں رہ سکتی جب تک وہ اپنی سرزمین اور نظریئے کی جان و مال سے بڑھ کر حفاظت نہیں کرتی۔ قومیں جب تک اپنی تاریخ کو یاد رکھتی ہیں کوئی بھی جارح انہیں شکست سے دوچار نہیں کر سکتا۔ دْنیا کی ہر قوم پر کٹھن وقت آیا ہوگا لیکن زندہ قومیں اتحاد، یکجہتی اور بے مثال جذبے سے تاریخ میں لازوال نقوش قائم کرتی ہیں جنہیں صدیاں بھی ختم کرنے سے قاصر ہوتی ہیں نواب اکبر بگٹی کو انتہائی کم عمری میں بگٹی قبیلے کا سردار بنا دیا گیا بگٹی قبیلہ ان کی بہت زیادہ عزت و احترام کرتا تھا نواب صاحب کے پسینے پرخون بہانا اپنی سرفرازی سمجھتے تھے اور نواب صاحب بھی اپنا دھن اپنی دولت یہاں تک کہ اپنا سر بھی اپنی قوم کے مفادات پر قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ نواب اکبر خان بگٹی اپنی راست بازی اور مردانگی سے نہ صرف بگٹی قبیلہ بلکہ پوری بلوچ قوم ان پر فخر کرتی ہے آپ فخر بلوچستان ہیں نواب اکبر خان بگٹی پرکشش شخصیت کے مالک تھے ان کی شخصیت میں رعب و دبدبہ ، جاہ وجلال اس قدر تھا کہ بڑی قد آور شخصیات ان کے آگے خاموش رہتی تھی۔ دراز قد، باریش روشن چہرہ انتہائی خوبرو شخصیت کے مالک تھے۔ 80 سال کی عمر میں بھی ان کی خوبصورتی میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ مزید اضافہ ہوا جو ان کو ایک نظر دیکھتا متاثر ہوتے بغیر نہیں رہ سکتا تھا اور وہ خود حسن پرست تھے۔ انتہاء سخت گیر اور اپنے موقف پر ڈٹ جانے والے شخص تھے آپ نے کبھی کسی کے آگے سر نہیں جھکایا نواب اکبر خان بگٹی کی نظریات متاثر کن، تضادات سے خالی، پرزوراو رپُراثر تھے۔ان میں وقت کے دھارے کے خلاف چلنے کی ہمت تھی۔ سیاست میں وسیع تجربہ رکھتے رکھتے آپ نے بلوچستان کے گورنر کے عہدے سے استعفی دیا کیونکہ وہ بلوچ قوم کے خلاف طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں تھے آپ بطور وزیراعلی بلوچستان کے بغیر تنخواھ کے اپنے لوگوں کے لئے کام کیا۔ اپنے لئے پیسے کا کوئی لالچ نہ تھا ہاں یہ ضرور تھا کہ اپنے لوگوں کے حق کی بات ضرور کرتے تھے۔اور بندوق بھی لوگوں کو ان کا حق دلوانے کے لیئے اٹھائی۔ قول وفعل کا پکے ہر خطرے اور مصیبت کا جوانمردی اور استقلال سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے نڈر بلوچ تھے۔ آپ پنجاب کی اجارہ داری کے سخت مخالفت تھے کیونکہ پاکستان کی تمام پالیسی بنانے والا پنجاب تھا اور بلوچ قوم کے استحصال کی وجہ بھی پنجاب اور پنجابی سامراج تھے۔ بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں نوابوں اور سرداروں نے اپنی عوام کے ساتھ مل کر مزاحمت جاری رکھی پانچ دہائیوں کی طویل سیاسی جنگی حالات میں جہاں کافی نشیب و فراز دیکھے وہی انھوں نے سیاست میں وسیع تجربہ حاصل کیا آپ نے ہمیشہ بلوچ ساحل و وسائل پہ بلوچ کے حق و حاکمیت کی بات کی یہی وہ اسباب ہے جس کی وجہ سے نواب اکبرخان بگٹی سن 2000کے اوائل سے ہی بلوچ قوم کو بیدار کرنے اور انھہیں یک مشت کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں ان کے جائز حقوق کے بارے میں آگاہی اور ان کے حصول کیلئے باقائدہ مہم کا آغاز کردیا۔ ڈیرہ بگٹی میں بہت بڑے جلسے کر کے اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جس سے پاکستان کی طاقتور قوتوں کی نیندیں حرام ہو گئیں جلسوں کا خاص مقصد تھا کہ بلوچ عوام کو متحد کرنا اور ان کو آگاہ کرنا کہ ان کی سرزمیں پر کتنے وسائل و زخائر موجود ہیں اور انھہیں کس طرح قابض ریاست لوٹ کر لے جارہا ہے نہ صرف ساحل و وسائل پر قبضہ کر رہا ہے بلکہ فوجی چھاؤنیاں اور چیک پوسٹس بنا کر بلوچ قوم کی غلامی میں مزید زنجیروں کا اضافہ کرنے کی سازش ہے۔ آپ نے الاعلان ان چھاؤنیوں کی مخالفت کی اور بلوچ رہنماؤں کو بھی متحد کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی ریاست نے نواب اکبر خان بگٹی کے حمایت میں ابھرتے ویسیع عوامی طاقت کو دیکھ کر ڈیرہ بگٹی میں فوج کشی کا آغاز کردیا جبکہ دوسری طرف نواب اکبر بگٹی کی بعید النظری کے باعث وہ پاکستان کی سازش سمجھ چکے تھے آپ اپنی قوم کو ہر قسم کے حالات کے لیئے تیار کر چکے تھے 2003 اور 2004میں ہی اپنے جوانوں کی تربیت شروع کر چکے تھے کیونکہ پِیٹھ پھیرنے کو مصلحتاً بھی ناجائز سمجھتے تھے لہٰذا قوم نے بھی اپنی مسلح مزاحمت کی تیاری کر لی تھی۔ فوج نے ڈیرہ بگٹی کے پہاڑوں پر مورچے قائم کرنے شروع کیے۔ نواب صاحب جنگی حکمت عملی سے واقف تھے ان کے ساتھ بگٹی قبائل نے بھی بھر پور بلوچ طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر چوکی کے پیچھے اپنی چوکیاں قائم کرنا شروع کی اسی طرح بگٹی قبائل اور فوج کے درمیان جھڑپیں روز کا معمول بن گئی 17 مارچ 2005 کے دن فوج نے ڈیرہ بگٹی شہر کا پانی بند کیا اور تمام پانی اپنے فوجی قلعے کی طرف موڑ دیا تو بگٹی قبائل نے شدید ردعمل دکھایا اور فوج پر حملے کر کے پانی کھول دیا تو فوج نے ڈیرہ بگٹی شہر پر اور خاص کر نواب اکبر بگٹی کے گھر کو ہیلی کاپٹروں، جنگی طیاروں اور دور مار کرنے والے میزائلوں سے حملے کیئے جس میں سیکنڑوں لوگ شہید ہوئے فوج کا مقصد تھا کہ کسی طرح نواب اکبر بگٹی کو راستے سے ہٹایا جائے کیونکہ وہ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اگر نواب اکبر خان بگٹی کو راستے سے ہٹایا گیا تو بلوچستان کی سب سے بڑی بغاوت جو بلوچستان کو الگ کرنے کی باتیں دم توڑ دیں گی۔ مارچ 2005 کے بعد نواب اکبر خان بگٹی نے پہاڑوں کا رخ کیا اور اس دوران پاکستانی فوج کو ایسا مشکل ٹائم دیا جو انھوں نے سوچا بھی نہ ہو گا پاکستانی ادارے ، فوج اور اسٹیبلشمنٹ سمجھتے تھے ایک ہی حملے میں نواب اکبر بگٹی کو ختم کر دینگے یہ ان کی بھول تھی تقریباً سترہ مہینے تک ڈیرہ بگٹی کے پہاڑوں میں نواب اکبر بگٹی نہ صرف اپنا دفاع کرتے رہے بلکہ دشمن کو منہ توڑ جواب بھی دیتے رہے دو ہیلی کاپڑ بلوچ نوجوانوں نے مار گرائے اور تین ہیلی کاپڑز کو شدید نقصان پہنچایا اور بڑی تعداد میں حملہ آور فوجیں مارے گئے اور کئی چوکیوں پر قبضے کر لیئے اور سینکڑوں فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ جنگ کا میدان وسیع ہوتا گیا 26 اگست 2006 کو کیمکل ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کر کے نواب اکبر خان بگٹی کو شہید کر دیاگیا۔ ان کے 32ساتھیوں سمیت سرکاری موقف مسلسل کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کرتے رہے اگر ایسا تھا تو ان کا جسد خاکی ان کے گھر والوں کے حوالے کیوں نہیں کیا؟ اور دوسرا سوال ڈی این اے ٹیسٹ کی اجازت کیوں نہیں دے رہے ہیں کیونکہ کیمیائی ہتھیاروں کا پول جو کھل جائے گا حکمرانوں کی سوچ کہ نواب اکبر بگٹی کی موت سے آزادی کی باتیں اور ساحل و وسائل پر حق و حاکمیت کی باتیں ماضی کا حصہ بن جائینگی مگر جس طرح نواب اکبر خان نے اپنی تیاری کر لی تھی اس طرح اپنے متبادل کے طور پر ہ نواب براہمدغ بگٹی کو بھی تیار کرلیا تھا نواب اکبر بگٹی کی شہادت نے حقوق کی جنگ کو آزادی کی تحریک میں بدل دیا اب تو بچہ بچہ اس تحریک سے واقف اور اس کا حامی ہے نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد کے واقعات نے فوجی جرنیلوں اور ان کے پٹھو حکمرانوں کو احساس دلایا کہ ” مردہ بگٹی زندہ بگٹی سے زیادہ خطرناک ہے” کیونکہ نواب اکبر بگٹی ایک فرد نہیں ایک سوچ، ایک فکر ، ایک نظریے کا نام ہے جو دنیا بھر کے انقلابیوں کے لیے ایک منظم ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close