چینی قوم کو ایک اور انقلاب سے گزرنے کی ضرورت ہے (تحریر: عابد بلوچ)

کوئٹہ /مضمون(ریپبلکن نیوز)70 سال قبل چینی عوام نے ایک کمیونسٹ چین کے لیے جدوجہد کر تے ہوئے اُس کی بنیاد تو رکھ لی، لیکن کمیونسٹ نظام کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہے۔ چینی عوام نے ماؤ زے تنگ کی سربراہی میں جاپانی سامراج کے خلاف انقلاب کی صدا کو بلند کرتے ہوئے ایک کمیونسٹ چین کی خاطر ہر ظلم اور ستم کو سہتے ہوئے متعدد قربانیاں دیں۔ جس ماؤ کی سربراہی میں انہوں نے سب سے بڑے لانگ مارچ کو یقینی بنایا تھا، اُس کا ایک ہی خواب تھا کہ چینی عوام ایک آزاد اور خودمختار چین کے مالک ہوں ۔جہاں ہر شخص کو اپنی آزادی اور حقوق حاصل ہو، اور سکون و چین کی زندگی بسر کر سکیں اور دوسروں کو بھی سکون کی زندگی گزارنے دیں۔

لیکن اکیسویں صدی میں ماؤ کا وہی چین دنیا کے سب سے بڑے سامراجی ریاستوں میں شمار ہونے لگا۔ 1949میں جن غریب اور مظلوم چینی باشندوں نے لاکھوں جانیں نچاور کر کے جاپان اور چینی سرمایہ دار لیٹروں کے چنگل سے ایک آزاد کمیوسٹ چین کی بنیاد رکھی، آج پر سے چین اسی سامراجیت کی راہ پر گامزن ہے۔

آج چین میں چند سرمایہ داروں نے لاکھوں چینی باشندوں کی قربانیوں کو پاوں تلے روندھ کر کل کی کمیونسٹ چین کو سامراجی چین میں تبدیل کر دیا ہے۔ .جس کی مثال ہمیں بلوچستان میں ملتی ہے جہاں چین قابض ریاست پاکستان کے ساتھ مل کر بلوچ سرزمین کے ساحل اور وساہل کو ہتیانا چاہتا ہے۔ جس چین میں غریب عوام اپنی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہو، وہی چینی سرمایہ دار حکومت نے 50 بلین ڈالر کے لگ بگ رقم کی سرمایہ کاری کر کے نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری کے نام سے بلوچستان میں قبضہ گری شروع کر دی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہاں کی مظلوم قوم اپنی آزادی کے لیے پاکستانی ریاست سے برسر پیکار ہیں۔

چینی ریاست بلوچ قومی تحریک کو کچلنے کے لیے پاکستانی ریاست سے مل کر ہر ممکن کوشش کرتا آ رہا ہے لیکن چینی سرمایہ کاروں کو یہ بات زہن نشین کرلینے چاہیے کہ مظلوم قوموں پر مظالم کر کے انہیں انکےزمین پر قبضہ جمانے سے وقتی فوائد تو حاصل کیے جاسکتے ہیں لیکن وہ دن دور نہیں جب مظلوم قوم کا بچہ بچہ ان قابضین کے خلاف برسرپیکار ہوگا تب ان سرمایہ داروں کا انجام وہی ہوگا جو چینی انقلاب یا دیگر ممالک کے انقلاب میں ہوچکا ہے۔ چینی عوام کو چاہیے کہ اپنے ملک کی سامراجی سازشوں کے خلاف آواز اٹھائیں وگر نہ چین بڑی معاشی بحران سے گزر سکتا ہے جس کے اثرات چین میں بسنے والے چینی باشندوں کی زندگیوں پر پڑسکتے ہیں۔

تحریر: عابد بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوزنیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close