سعودی عرب کا گوادر میں دنیا کی تیسری بڑی آئل ریفائنری بنانے کا اعلان

چین اور پاکستان کے بعد اب سعودی عرب بھی بلوچستان میں لوٹ مار میں حصہ لیگا، سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں دنیا کی تیسری بڑی آئل ریفائنری بنانا چاہتی ہے۔

 کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)  تفصیلات کے پاکستان کے دوست ملک اور دنیا میں سے زیادہ تیل کی پیداوار والے سعودی عرب نے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں دنیا کی تیسری بڑی آئل ریفائنری کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔  آئل ریفائنری کی تعمیر  کیلئے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

سعودی حکومت نے وزیراعظم عمران خان کے تاریخی دورہ سعودی عرب کے دوران 15 ارب ڈالرز کی لاگت سے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں آئل ریفائنری تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس آئل ریفائنری کی تعمیر کے پاکستان کی معیشت پر زبردست اثرات مرتب ہوں گے۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں جو آئل ریفائنری تعمیر کی جائے گی، وہ دنیا کی تیسری بڑی آئل ریفائنری ہوگی۔

اس سلسلے میں سعودی عرب کے وزیر توانائی، صنعت ومعدنی وسائل وفاقی خالد عبد العزیز الفلیح کی زیر قیادت سعودی وفد نے ہفتہ کو گوادر کا دورہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم ڈویژن غلام سرور خان نے سعودی وفدکا استقبال کیا۔ اس موقع پر غلام سرور خان نے کہاکہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں۔ سعودی وزیر گوادر میں آئل ریفائنری کی جگہ دیکھنے آئے ہیں۔ عنقریب گوادر میں جلد آ ئل ریفائنری قائم جائے گی۔ اگلے ماہ سعودی ولی عہد کی آمد پر آ ئل ریفائنری کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط متوقع ہیں۔ یہ منصوبہ سعودی عرب کی بلوچستان میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔ سعودی وفد میں البو ینین ابراہیم قاسم سی ای اوآرامکو ایسوسی ایٹ بھی شامل تھے۔

دوسری جانب بلوچ قومپرست سعودی عرب پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ چین کی طرح بلوچستان میں سرمایہ کر کے بلوچوں کی شناخت کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے چین اور سعودی عرب پاکستان کے ساتھ مل کو بلوچستان کے سائل اور وسائل پر قابض رہنا چاہتے ہیں اور بلوچوں کی مرضی و منشا کے بغیر انکی سرزمین سے نکلنے والی قدرتی معدنیات کو لوٹ کر اپنے ضروریات پورا کرنا چاہتے ہیں۔

جبکہ بلوچ مسلح تنظیموں نے متعدد بار چین اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کو تبنیہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں سرمایہ کرنے سے گریز کریں، انکا کہنا ہے کہ بلوچستان اس وقت حالتِ جنگ میں ہے اور جنگی حالات میں بلوچوں کی مرضی و منشا کے بغیر پاکستان سے کیئے گئے کسی بھی معاعدے کی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں