قبرص میں آزادی کے لیے ریفرنڈم متوقع 

جنیوا(ریپبلکن نیوز) قبرص کے رہنما جنیوا میں اہم امن مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں اور اقوامِ متحدہ اور سینیئر سفارتکاروں کو امید ہے کہ اب جزائر قبرص کے ایک ملک بننے کا عمل نزدیک ہے۔ جنیوا مذاکرات میں برطانوی سیکریٹری خارجہ بورس جانسن اور ان کے ترک اور یونانی ہم منصب شامل ہیں۔ ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم مذاکرات میں شرکت نہیں کر رہے، اگرچہ پہلے ایسی اطلاعات تھیں کہ وہ جنیوا آ رہے ہیں۔ جزائر قبرص دو حصوں میں تقسیم ہے اور اس کے دوبارہ اتحاد کی جانب پیش رفت کے اشارے ملے ہیں۔ خیال رہے کہ قبرص سنہ 1974 سے یونانی اور ترک حصوں میں تقسیم ہے۔ وزیراعظم بن علی یلدرم کی موجودگی بھی اس امر کی علامت نہیں ہو سکتی کہ کوئی معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔ کسی بھی معاہدے کے لیے دونوں جانب سے قبرص کے شہریوں کو علیحدہ علیحدہ ریفرینڈم کے ذریعے اس کی حمایت ظاہر کرنا ہوگی۔ یہ مذاکرات اقوام متحدہ کے زیرنگرانی منعقد ہو رہے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ یہ چار دہائیوں کے بعد اتحاد کا بہترین موقع ہے۔ اس کا مقصد دو ریاستی فیڈریشن میں دونوں جانب سے مشترکہ اقتدار ہے۔ ترک اور یونانی قبرصی رہنماؤں، صدر نکوس انستاسیاڈیس اور مصطفیٰ اکینجی، نے بدھ کو مجوزہ سرحدوں کے نقشوں کا تبادلہ کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایسا انھوں نے پہلی بار کیا ہے اور اس کو معاہدے کی جانب سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب انتونیو گتریس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر جنیوا مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں۔ 1955 – یونانی قبرصیوں نے یونان کے ساتھ الحاق کے لیے برطانوی حکومت کے خلاف گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔ 1960 – برطانیہ سے آزادی کے بعد یونانی قبرصی اکثریت اور ترک قبرصی اقلیت کے مابین اقتدار کی تقسیم ہوئی۔ 1963 اور 1964 – فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے۔ 1974 – قبرص کے صدر آرچ بشپ مکریوس کا تختہ یونانی فوج کے مدد سے الٹ دیا گیا۔ ترکی نے قبرص میں اپنی فوجیں بھیجیں جنھوں نے اس کے تین چوتھائی شمالی علاقے پر قبضہ کر لیا۔ 1983 – رؤف دینکتاش نے شمالی قبرص کو جمہوریہ ترکی سے الگ کردیا جسے صرف ترکی تسلیم کرتا ہے۔ 2004 – منقسم قبرص نے ترک قبرصیوں کی جانب سے پیش کیے گئے اقوام متحدہ کے امن معاہدے کے بعد یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی تاہم یونانی قبرصیوں نے اس کو مسترد کردیا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker