دورانِ حراست نجیب مولداد نے اہم انکشافات کئے ہیں۔بی ایل اے

کوئٹہ ( ریپبلکن نیوز) بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جئیند بلوچ نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے زریعے کہا کہ کچھ عرصہ قبل تمپ سے بلوچ سرمچاروں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے ایجنٹ نجیب مولاداد نے دوران حراست مزید انکشافات کیے کہ نجیب کوہاڈ تمپ میں ایجنسی کے مخبراور اپنے ماما علی داد محمد عرف اوطمان کے سربراہی میں کام کررہا تھا۔ تمپ و کیچ میں انکا نیٹورک ہے جو بلوچ فرزندوں کے اغوا ء اور شہادتوں میں ملوث ہے ۔کوہاڈ میں نجیب کا اپنا ایک گروہ ہے جس میں امجد بنتی عرف شاہ داد، باقر عرف بیبگر، مسعود ولی اوراسکے علاوہ زالبول نور بی بی، باقر کی والدہ شہروک بھی نجیب کے لئے علاقے میں مخبری کا کام کیا کرتے تھے۔ 2012 میں امجد بنتی کے مارے جانے اور علاقے میں مشہور ہونے کے بعد نجیب عرف جہانگیر نے اپنے طریقہ کار تبدیل کردیا نجیب کے رشتہ دار جو بی ایل ایف میں تھے یجنسی کے کہنے پر انکے قریب ہوا۔ نجیب نے انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی نے ہمیں بلوچ سرمچاروں سے نزدیکی اور انکے ساتھ شامل ہونے کا ٹاسک دیا ایجنسی کے اہلکارنے مجھ سے کہاکہ لازمی نہیں آپ لوگ بڑے کام کریں بس سرمچاروں کا انفارمیشن دیا کریں ہم کام کریں گے۔ شاہ بخش شاہو عرف گچکی نے سب سے پہلے مجھے تربت میں ایجنسی کے دفتر میں اہلکار سے ملاقات کروائی جس نے میرا کوڈ نام جہانگیر رکھا۔ بلوچ سرمچاروں سے تعلق رکھنے کے بعد میں نے اپنے چھوٹے بھائی میران کو سرمچاروں کے ساتھ شامل کیا جو مجھے اورشاہ بخش شاہو کومعلومات دیاکرتا تھااسکے بعد میران کو بھی شاہ بخش شاہو نے تربت میں ایجنسی کے دفتر لے گیا جہاں میران کاکوڈ نام جلال رکھاگیا۔ سرمچار کئی بار میرے گھر میں رہے ہیں اور سرمچاروں کے ٹھکانوں کا بھی معلومات رکھتا تھا لیکن کئی بار میرے قریبی رشتہ داراور میرا بھائی بھی انکے ساتھ ہوتا تھاجس کی وجہ سے معلومات آگے فراہم نہیں کرتا تھا بعد میں شاہو نے مجھے سمجھایا کہ زیادہ تر سرمچاروں کو اپنے گھر نہیں بلاو اور ان سے زیادہ قریب نہ ر ہواگرکسی دوسرے مخبرنے ایجنسی کو انفارمیشن دے کر آپریشن کروایا تو نقصان ہوسکتا ہے پھر میں نے اور میرے بھائی میران نے سرمچاروں کے نزدیکی سے گریز کرنا شروع کیانجیب عرف جہانگیر نے مزید انکشاف کیا کہ تربت میں مسلم لیگ ن کے سابقہ مشیر کے گھر میں زمنی الیکشن کے وقت ایجنسی کے اہلکار سے ملاقات کی جہاں مجھ سے علاقے کے حوالے سے پوچھا گیا حاجی نے مجھ سے کہا کہ علاقے میں کہیں بھی سرمچاروں کے معلومات ہوں توہمیں فوراًاطلاع دیا کرو کیونکہ میرے رشتہ دار گومازی کے رہائشی یونس کو ان لوگوں نے مارا ہے۔ میر ا حاجی کے ساتھ اچھاخاصہ تعلقات ہیں اسکے علاوہ تمپ ک فورسزکیمپ میں موجود ایجنسی کے اہلکار سے رابطہ بھی ہے ان سے تمپ پولیس کے ایس ایچ او حکیم کے گھر میں ملاقات ہوئی جس سے زیادہ تر ایس ایچ اوتمپ کے گھر میں ہی ملاقات ہوتی رہتی تھی فورسز کے ہر چیک پوسٹ پر ایجنسی کا ایک سپاہی بیٹھا ہوا ہے تمپ فورسزکیمپ کے اہلکار سے بھی ایس ایچ او حکیم کے گھر میں ملاقات کرکے ان سے رابطہ قائم کیااور اہلکار نے مجھ سے کہا کہ ہمیں معلومات ملی ہیں کہ بی ایل ایف کے سرمچار استاد سنجر مراد اور ریحان اپنے ساتھیوں کے ساتھ تمپ نہنگ کور میں رات کو سوتے ہیں لیکن کنفرم نہیں ہونے پر ہم اپریشن نہیں کرسکتے ہیں اسلئے نجیب آپ ہمیں معلومات دیں کئی بارمجھے ریحان کے حوالے سے معلومات حاصل ہوئیں لیکن میرا بھائی انکے ساتھ ہوا کرتا تھاجس کی وجہ سے میں معلومات آگے نہیں دیتا تھااسکے علاوہ رودبن چیک پوسٹ پر اہلکاراور آسیہ باد چیک پوسٹ پر اہلکار سے بھی ہر وقت رابطے میں تھا تربت میں ایجنسی کے دفتر میں شاہ بخش شاہو اور میں نے اہلکار سے بھی ملاقات کرکے اسے بی ایل ایف کے سرمچار ریحان، حیبتان اور مراد کے موبائل نمبر کو ٹریس کرنے کے لئے دیااسکے علاوہ ہمیں جب بھی پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی ایجنسی سے وصول کرتے تھے۔نجیب مولاداد نے اپنے مزید جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حفیظ ولد نصرت اور 2011میں شہید کریم جان کے اغواء اور شہادت میں نجیب بذات خود، عبداللہ مندی، شریف ،احمد شاہ، داد محمد موکھی، نثار موکھی اور اکرم برائے راست شہید حفیظ کے اغواء میں ملوث تھے شہید حفیظ کو کیچ میں حاجی حسن ایرانی کے گھر میں شاہ بخش عرف شاہو، احمد شاہ اور میں نے شدید جسمانی ازیتیں دے کر پھرفورسزکے حوالے کردیا جسکے بعد شہید حفیظ کی لاش برآمد ہوئی جبکہ شہید کریم جان کو اسکے علاوہ 2011میں کوہاڈ کے پہاڑوں میں شکار کے لئے جانے والے بی ایس او آزاد تمپ کے رکن صالح ولد حمزہ کوبھی میں نے،احمد شاہ ، شریف، امجد بنتی ، باقر قاضی نے اغوا کرنے کی کوشش کی لیکن گرفتاری نا دینے پر پہاڑی سے دھکا دے کر نیچے پھینک دیا جسکے باعث وہ شہید ہوگئے جبکہ رودبن کے رہائشی عاظم کی مخبری بھی میرے گروہ سے تعلق رکھنے والے احمد شاہ نے کرکے اسے زیروپوائنٹ سے اغوا کروایا۔نجیب نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ 2013میں تربت کے قریب ایجنسی کے ہاتھوں اغوا ہونے والے عاصم فقیر کو تربت میں ڈاکٹر برکت کے گھر میں رکھا گیا جہاں میں نے، شاہ بخش عرف شاہو ڈاکٹر برکت کا بیٹا نیاز ، ہاشم اور پٹیل نے عاصم فقیر کو شدید ازیت دینے کے بعد فورسزکیمپ پہنچادیا جسکے بعد عاصم فقیر کی لاش برآمد ہوئی جبکہ مرگاپ سے ملنے والی تمام لاشوں کا ذمہ دار ڈاکٹر برکت اور اسکا گروہ ہے۔نجیب نے مزید اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پل آباد کے پہاڑی جمی میں بی ایل ایف کے سرمچار ریحان کے ٹھکانے پرآپریشن شاہ بخش عر ف شاہو اور میں نے کروایاجس میں میرے بھائی میران نے فورسز کو بلوچ سرمچاروں کے ٹھکانے کا راستہ پل آباد میں واٹر سپلائی کے قریب دکھا کر خود واپس چلا گیا جبکہ فورسزکے گاڑیوں میں مخبر اظہر اور جلیل بھی شامل تھے فورسزنے سرمچاروں کے سازوسامان کو جلا کر انکے موٹر سائیکل لے گئے لیکن اس آپریشن میں سرمچار خود بحفاطت نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔جئیند بلوچ نے مزید کہا کہ نجیب مولاداد کے اعترافی بیان نے ماضی میں پیش آنے والے تمام واقعات میں مخبری کے لئے نجیب مولاداد کے مجرمانہ عمل و کردار کو ثابت کردیا اعترافی بیان اور تمام واقعات کو مدنظر رکھ کر تنظیم نے نجیب مولاداد کو مخبر غدار اور قاتل قرار دے کر اسے سزائے موت کا حقدار قرار دیا ہے اور سزاپر جلد از جلد عملدرآمد کی ہدایت جاری کیے ہیں۔ ہماری تنظیم نجیب مولاداد کے بچوں اور عزیزواقارب کی جذبات واحساسات کی قدر کرتے ہوئے یہ وضاحت کرتی ہے کسی بھی ناقابل معافی جرم میں ملوث کسی بھی شخص سے کسی بھی وجہ سے رعایت ازخود اس جرم میں ملوث ہونے جیسا ہے ہم نجیب مولاداد کے بچوں اور عزیز واقاراب کو بلوچ قوم کا حصہ سمجھتے ہیں جو ہم میں سے ہیں جنکا نجیب مولاداد کے مجرمانہ عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم یہ امید کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی ایسے عمل کی پشت پناہی نہیں کرینگے جس سے غداری و قومی تحریک و قومی مفادات کو نقصان پہنچتا ہو۔ چند ٹکوں و معمولی مراعات کے لئے دوسروں کو نقصان پہنچانے والے ساتھ ہی ساتھ اپنے بچوں وخاندان والوں کے احساسات و جذبات اور عزت کی پرواہ بھی نہیں کرتے ہیں ایسے افراد سیدھی طرح سے غیرانسانی فعل کا مرتکب ہوتے ہیں جو کسی صورت بھی معافی کا مستحق نہیں ہوسکتے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close