بلوچ تحریکِ آزادی میں پاکستانی طرز مخالفت

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) میرے نزدیک یہ بات بالکل سچ اور درست ہے ہے کہ کچھ عرصے قبل ہی بلوچ قومی تحریک آزادی میں پاکستانی طرز مخالفت کی شروعات ہو چلی ہے، البتہ مجھے میرا ضمیر اور دل و دماغ یہ کہنے کی اجازت نہیں دیتے، میرے دل و دماغ اور ضمیر کے نا ماننے سے یہ بات جھوٹ نہیں ہو سکتی، بات تو سچ ہے، مگر ہے رسوائی کی۔

ذرا آپ بھی اس پاکستانی طرز مخالفت کا باریک بینی و ٹھنڈے دل و دماغ سے تجزیہ کریں کہ پاکستانی حکومت،  پاکستانی فوج و اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی کہتے ہیں کہ بلوچ قبائلی معاشرہ پاکستان کا دشمن ہے، وہ بلوچ نواب و سردار جو پاکستان سے بلوچ قوم و بلوچ سرزمین کے لیے عملی جدوجہد میں ہمہ وقت سرگرم عمل ہیں، وہی بلوچ سردار اور نواب پاکستان اور اس کی سالمیت کے لیے سنگین خطرہ اور اصل صف اول کے ملک دشمن بھی ہیں۔

بلوچ قوم کے جن بہادر اور غیرت مند بلوچ نواب و سرداروں نے بلوچ گلزمین اور بلوچی ننگ و ناموس کی حفاظت کے لیے مخلصانہ جہدوجہد کیااور بغیر کسی خوف و جھجک کے اپنے جانوں کے نذرانے پیش کیے، تمام دنیا کے ساتھ ساتھ پوری بلوچ قوم اپنے بلوچ نواب و سرداروں کی بہادری و غیرت مندی و خودداری اور بلوچ دھرتی پر ان کی شہادت جیسی عظیم قربانیوں اور جدوجہد کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔

مگر یہ تو آپ محترم قارئین صاحبان اچھی طرح جانتے ہی ہیں کہ ان سب غیرت مند بلوچ نواب و سرداروں کو پاکستان کی طرف سے کس طرز کی گھناونی اور منافقت پر مبنی مخالفت کا سامنا رہا ہے اور تاحال روپ بدل بدل کر جاری ہے۔ پاکستان اور اس کے وفاداروں کی مخالفت اپنی جگہ بجا اور درست بھی ہے، کیونکہ بلوچ قوم کے ہیرو نواب و سردار بلوچستان سے پاکستان کی قبضہ گیریت کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔

میر بگٹی کے مزید مضامین:

بلوچ تحریک آزادی اور جدوجہد کے طریقے

کیا واقعی ہم یہ کلچر ڈے منا رہے ہیں ؟ 

راہِ آزادی اور رنگ بدلتے ساتھی

آپ کے ساتھ ساتھ ہر باشعور اور بلوچ گلزمین کی آزادی کے حقیقی متوالوں کو یہ سن کر حیرانگی ہوگی کہ بالکل سو فیصد اور ہو بہو وہی پاکستانی طرز مخالفت اب بلوچ قومی تحریک آزادی میں شامل چند ہمارے ہم خیال ساتھی (مڈل کلاس طبقہ) کر رہے ہیں، اور میرا ان میں سے کسی سے بھی کوئی زاتی اختلاف ہر گز  نہیں ہے،کیونکہ میں خود مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہوں۔

یہ صاحبان جو آج کل اس ورد میں لگے ہوئے ہیں کہ بلوچ قبائلیت اور بلوچ نواب و سردار آزادی کی تحریک کے لیے خطرہ ہیں، بلوچ قومی تحریک آزادی میں اب ان کی کوئی ضرورت نہیں، ویسے ایک عرض کرتا چلوں کہ پاکستان جن غیرت مند بلوچ نواب و سرداروں کا مخالف تھا وہ تو اپنے مادر وطن کی مٹی کے خاطر شہید ہوگئےہیں، ان کی شہادت کے بعد ان کا مشن ان کے بیٹوں و پوتوں یا نواسوں نے اپنے زمے لے لیا ہے، اور اپنے بزرگوں سے ملی مشن کو بخوبی نبھا بھی رہے ہیں۔

مزید مضامین:

بلوچستان میں نام نہاد عام انتخابات (تحریر: کمال بلوچ، وائس چیئرمین بی ایس او آزاد)

شہید کہری مری و انکے خاندان کے افراد نے بہادری کی مثال قائم کردی۔ (تحریر: میر ساول بلوچ)

سوشل میڈیا کی طاقت اور منقسم بلوچ کارکنان (تحریر: میر جان بلوچ)

جو بلوچ نواب و سردار شہید ہوگئے ان کی شہادت کے بعد پاکستانی ریاست نے ان کی مخالفت ترک کر تے ہوئے اب ان کے جانشینوں نشانہ بنانا شروع کیا ہے، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ بلوچ قومی تحریک آزادی میں شامل یہ چند مڈل کلاس و اعلی تعلیم یافتہ طبقہ پاکستانی طرز مخالفت سے بھی آ گے نکل چکا ہے۔

یہ صاحبان تو بلوچ قومی تحریک آزادی کے ان عظیم شہداء نواب و سرداروں کو بھی نہیں بخشتے جنہوں نے بلوچ گلزمین کے لیے زندگی کے تمام تر آسائشوں کو ترک کرتے ہوئے بلوچ قومی آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ سوشل میڈیا پر دن رات بھیٹ کر اپنی ہی لوگوں کے خلاف مصروفِ عمل رہتے ہیں۔

آخر میں میرا صرف باشعور اور غیرت مند بلوچ قوم سے دردمندانہ سوال ہے  کہ” بلوچ قومی تحریک آزادی میں پاکستانی طرز مخالفت )
کرنے والے ان حضرات اور ریاستی خفیہ اداروں، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستانی فوج میں کیا کوئی فرق رہہ جاتا ہے "؟

تحریر: میر بگٹی

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker