بلوچستان میں نام نہاد عام انتخابات (تحریر: کمال بلوچ، وائس چیئرمین بی ایس او آزاد)

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) بلو چ سیاست ایک ایسے مقام میں   پہنچی ہے جہا ں نقصان اور فا ئدہ کو باریک بینی سے دیکھنے کی ضر ورت ہے کیو نکہ اند رونی اور بیرونی طاقتیں جو طاقت آزمائی کر رہے ہیں وہ سب کے سامنے عیاں ہیں۔ بلوچ تحر یک آزادی کو ختم کر نے اور کچلنے کیلئے ریاست پا کستان ہر طرح کی فو جی زور آزمائی کر تا آرہا ہے تا کہ بلو چوں کو دبا کر چھپ کر اسکیں۔ بلو چ تحر یک کوختم کر نے کیلئے پا کستان کے تما م ادارے فوجی، سیاسی اور عدلیہ سمت تما م ادارے بلوچ تحر یک کو ختم کرنے کیلئے ایک صفحے پر ہیں۔ حتیٰ کہ نام نہا دبلوچ قوم پر ستی کے دعویدار نیشنل پا رٹی ،بی این پی مینگل ،بی این پی عوامی ،بلوچستان نیشنل مو ومنٹ (حئی گر وپ )، باپ ، سمیت تما م گر وپ اس کام میں ایک ساتھ ہیں۔

وہ بلوچ انسر جنسی کو کنٹرول کر نے کیلئے ہر طر ح کے کو شش میں لگے ہو ئے ہیں۔ اس وقت بلو چستان کے مختلف علاقوں میں انہی کے سر بر اہی میں ریاستی ڈیتھ اسکو اڈ تشکیل دی گئی ہیں۔ انکو اجازت دی گئی ہے کہ وہ ہر طرح کی سما جی بر ائیوں میں ملوث رہ کر جو کر نا چاہتے ہیں کر یں مگربلوچ جد وجہد آزادی میں بر سر پیکار سیاسی کارکنو ں کی نشاندہی کر یں۔ نیشنل پا رٹی مکران میں سردار عزیز کے ذریعے اور جھالاوان ، سروان اور رخشان میں مختلف قبا ئلوں کی شکل میں اپنے سیاہ کارنامے سرانجام دے رہے ہیں۔

یہ سوا ل غور طلب ہے کہ بلو چ جد وجہد کی شروعات سے لے کر آج کی تحر یک پچھلی تحر یکوں سے بہت مختلف ہے۔ یہا ں جو خاص چیز نظر آتی ہے وہ ہے اس تحر یک میں بلوچ کی شمو لیت۔ تمام مکتبہ ہائے فکر کے لوگوں کی شمولیت۔ یہ صورت ضرور کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی سطح پر موجود ہیں۔ لیکن اس با ت سے بے خبر نہیں رہنا چا ہئے کہ اس دفعہ تحر یک آزادی کی لہر سے ریاست کو پہلے سے زیادہ تکلیف پہنچ رہی ہے کیونکہ ہر با شعور اس بات سے بخوبی آگا ہ ہو چکا ہے کہ بلوچ اور پاکستان ایک دوسرے کے تضا د ہیں۔ ایک کو ختم ہو نا ہے۔

کمال بلوچ کے مزید مضامین:

موجودہ صورتِ حال 

بلو چ طلبا قیاد ت کی گمشدگی، قومی جہد آزادی اور ہمار ی ذمہ داریاں

بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت اور سیاسی تبدیلیاں 

عالمی اصولو ں کو دیکھا جائے تو پا کستان ریا ست کے زمرے میں نہیں آتا ہے بلکہ چند لو گوں کا بنا یا ہو ا ایک پر یشر گروپ ہے جو انکی سیا سی مفادات کیلئے وجود میں لا یا گیا ہے۔ پا کستان کی تخلیق کرنے والے آج ضر ور خود پشیمان ہیں ۔ طالبان، القاعدہ، لشکر طیبہ، حقانی گروپ سمیت کئی دوسرے مذہبی شدت پسندوں کو محفوظ پناہیں فراہم کرنے والا پاکستان ہی ہے اور اسی وجہ سے عالمی طاقتیں خطے میں ایک مشکل اور پیچیدہ جنگ کا شکار ہوچکے ہیں۔

پاکستان دنیا کی امن کے لئے خطرہ کی گھنٹی بن چکا ہے۔بلوچستان بھی اسی خطے میں ایک اہم لوکیشن پر واقع ہے۔ اس پر پاکستان نے قبضہ کیا ہواہے۔ اس قبضے کے خلاف بلو چ جد وجہد کی آواز دنیا کے کو نے کو نے میں پہنچ چکاہے۔ ہماری جد وجہداور بلوچ جغرافیہ دونوں اہمیت کے حامل ہیں۔ اہم جغرافیہ کی خطے کی پیچیدہ صورتحال کی وجہ بلوچ قوم کو بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان کی طالبانائزیشن پالیسی کی وجہ سے عالمی طاقتیں بلیک میل ہوچکی ہیں۔ دوسری طرف بلوچ قوم پرستی کی سیاست کو کچلنے کیلئے اسی طالبانائزیشن کی پالیسی کو بلوچستان میں پھیلایا جا رہا ہے اور ریاستی سرپرستی میں کئی مذہبی انتہا پسندتنظیموں کو بلوچستان میں سرگرم کیا گیا ہے۔

ہم اپنے جد وجہد کو طویل کہیں یا ناکہ نو مو لود کہیں دونو ں الفا ظ منا سب نہیں ہیں لیکن جتنی بھی زند گی اس نئی دور کی جد وجہد کو ہے اس جد وجہد نے اپنی جڑیں عوام میں پیوست کر دی ہیں۔ اس سے جد ید دور کے تقاضے تو پو رے نہیں ہو سکتے ہیں لیکن اس کے باوجو د بھی اس وقت بلو چ جد وجہد اہم مقام پر آ پہنچا ہے جو اپنے دوست اور دشمن کو پہچاننے میں کا میاب ہو چکے ہیں۔بلوچ جد وجہد اتنی مختصر مد ت میں بہت سے کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ خاص کر وہ سما ج جو ہر وقت دشمن کے جبر کی سایہ میں دبی ہو ئی ہے ظلم و جبر شکار رہ چکا ہے، مگر کبھی بھی کو ئی طاقتور قبضہ گیر اپنی طاقت کے بل بو تے پر بلوچوں پر حکمرانی نہیں کر سکا ہے۔ اس بات کا گو اہ بلوچ تاریخ ہے مختلف طریقوں سے بلوچ قوم کو دھوکہ دیا گیا۔۔ کبھی قومی پر ستی کے نام پر تو کبھی اللہ اور مذہب کے نام پر ۔۔۔ یہ تمام حربے بلوچ قوم کو زیر نہیں کر سکیں اور غلامی کے خلاف جد و جہد رواں دواں ہے۔

جب بلوچ کی حقیقی طا قتوں نے یعنی وہ لو گ جو بلوچ جد وجہد بر ائے آزادی کے نعر ہ کی صدا بلند کرچکے تو بلوچ عوام بھی انکے ساتھ ہر جگہ پہلے ہی صفحہ پر موجود ملی۔ قابض ریاست نے ایک دفعہ پھر اپنی پرانی حربوں کا آزمانا شر وع کر دیا۔۔ طاقت کے استعمال کے باوجود بھی پاکستان کو ہر پہلو میں ناکامی کاسامنا کر نا پڑ رہا ہے کیو نکہ اس وقت بلوچ جد وجہد نے عوامی تحر یک کی شکل اختیا رکی ہے۔ اب بلوچ جد وجہد آزادی کے ساتھ پو ری بلوچ عوام کھڑی ہے۔

مزید مضامین:

ستائیس مارچ اور بلوچ قومی تحریک

بلوچستان پر قبضے کا دن وہ ہے جب ہمارے وطن کو تین ملکوں میں تقسیم کیا گیا

جس طر ح ہم 2008اور 2013کے انتخابات اور اس وقت 2017 کے مردم شمار ی سے جا ہز ہ لے سکتے ہیں۔ عو ام نے پا کستان کو مستر د کر دیا ہے۔ اب اسی خو ف کے مارے پا کستانی ریاست کو اپنے پالے ہو ئے بند وں پر بھی بھر وسہ نہیں ہے۔ پانچ سال میں بلوچستان کے نام نہا د صوبائی حکومت کو تین مرتبہ بد ل کیا گیا۔ اس سے اند ز ہ لگا یا جاسکتا ہے کہ ریا ست اب اپنے ہی پالے ہوئے پر بھروسہ نہیں کرتا۔

پورے بلوچستان میں پچھلے پانچ سالو ں سے بلا ناغہ فو جی آپر یشن جاری ہے۔ دوسری طر ف پا کستان اپنی نئی 2018کی الیکشن کا اعلان کر چکا ہے۔ اب ہم اس عمل کو عوامی الیکشن کا نام دیں تو میرے خیال میں غلط ہو گا کیو نکہ بلوچستان ایک disputedعلا قہ ہے جس پر قابض کے جبر سے حکمرانی برقرار ہے تو یہا ں عوامی رائے کا کبھی بھی احترا م نہیں کیا جائے گا۔ عوامی رائے تو 1948کو بلوچ پا رلیمنٹ نے دی تھی لیکن اس کے برعکس پاکستان فو ج نے بلوچستان پر فوج کشی کی اور قبضہ کر لیا۔ میں کہتا ہو ں یہاں پاکستان کی نام نہاد الیکشن کچھ اہمیت نہیں رکھتے ہیں کیو نکہ جب تک پا کستانی فو جی چھا ئیا ں بلوچستان میں مو جو دہیں ، وہاں بند وق کے زور پر حکمرانی اور جبر جاری ہے ۔۔ جبری طور پر گھر وں سے بلوچ کے بچوں کو اغوا کر کے غائب کر تے ہیں۔۔۔ اس بدلے میں پاکستان فوج کچھ بھی کرانے کیلئے لوگوں مجبور کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اس وقت 40ہزار بلوچ فرزند غائب ہیں جنہیں پا کستانی فو ج نے اغوا کیا ہے۔

اس وقت پا کستان نہتے بلوچوں کو اغو اکر کے ان سے اغوا برائے تاوان کی طرح پیسے لیتا ہے یا انکے رشتہ داریوں کو مجبور کیا جا تا ہے کہ رہائی کے بدلے ان کیلئے مخبری کا کام کیا جائے۔ پا کستان کی فو جی کسی گا ؤ ں میں آپر یشن کر تا ہے تو وہا ں سے کسی نہ کسی کو اٹھا کر غائب کی جاتی ہے اور اس کے خاندان کو کسی معتبر، سردار یا وزیر کا نام کہہ کر اس سے سفارش کیلئے مجبور کی جاتی ہے تاکہ وہ اس شخص کے پاس جا کر اس کا احسان مند رہیں کیونکہ وہ شخص پاکستان کا پسندیدہ ہے۔ یہ جبر کا قانون اور جبر کی حکمرانی ہے۔ پاکستانی کی معروف صحافی حامد میر ایک ٹی وی پروگرام میں کہتے ہیں کہ ایک فوجی کیپٹن کو مچھ میں ایک بلوچ کی گا ڑی پسند آتی ہے تو وہ اسے گاڑی کے ساتھ اغوا کر لیتا تا کہ وہ اس کی گا ڑی حاصل کر سکے۔ یہ وہ قصے ہیں جو پا کستانی میڈیا میں آچکے ہیں۔ یوں تو اس طرح کی کہانیاں بہت ہیں۔

ہر سیاسی کا رکن اور بلوچ عوام کو چاہئے کہ وہ وقت اور حالات کو سمجھنے کی کو شش کر یں اور حالا ت کا مقابلہ کر یں تو بہتر انداز میں بلوچ تحر یک آزادی کو دنیا کے سامنے واضح کر سکتے ہیں۔ کوئی لالچ اور خو ف کا شکار نہ رہے بلکہ دشمن کے سامنے بکنے اور جھکنے سے بہتر ہے سرخروہ ہو کر تاریخ میں امر ہو جائیں،تاکہ بلوچ کی آنے والی نسل ریاست کے جبر کے سایہ میں زندگی بسر نہ کرے ۔

تحریر: کمال بلوچ، وائس چیئرمین بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker