اعلیٰ حکام شیعہ شدت‌پسندوں کو لگام لگائیں.شیخ‌الاسلام مولانا عبدالحمید

Abdul Hameedایران کے ممتاز سنی عالم دین نے تہران سمیت بعض بڑے شہروں میں اہل سنت کے نمازخانوں پر عائد پابندیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلی ایرانی حکام سے مطالبہ کیا شیعہ شدت پسندوں کو لگام لائیں جو بیک وقت قوت اور تعصب سے لیس ہیں۔

اہل‌سنت ایران کی آفیشل ویب‌سائٹ (سنی آن‌لائن) کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے دس جون دوہزار سولہ، چار رمضان المبارک، کے خطبہ جمعہ میں تہران میں سنی نمازیوں کے لیے عائد پابندی کے حوالے سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: حیرت کی بات ہے جس ملک میں اتحاد اور بھائی چارہ موجود ہے بعض شہروں میں نماز کو برداشت نہیں کی جاتی۔ حالاں کہ نماز اللہ تعالی سے رازونیاز ہے اور اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتاہے۔

انہوں نے مزیدکہا: دنیا کے کسی بھی علاقے میں نماز کے حوالے سے سختی نہیں کی جاتی ہے۔ اگر کسی مسلم یا غیر مسلم ملک میں کسی شیعہ یا سنی مسلمان کی نماز کے لیے سختی کا مظاہرہ کیا جائے، ہم ایسے تنگ نظروں کا گریباں پکڑ کر احتجاج کریں گے۔ افسوس کا مقام ہے ایران میں اسلامی جمہوریہ کی حکومت اور ہمارے قابل فخر وطن ہونے کے باوجود، بعض جگہوں میں رمضان المبارک مہینے کے دوران نماز قائم کرنے کے حوالے سے سختی کی جاتی ہے۔ پولیس کو سامنے لاکر نمازخانوں کے راستے بند کیے جاتے ہیں۔

شیخ‌الاسلام مولانا عبدالحمید نے سوال اٹھایا: کیا ہم بھائی نہیں ہیں؟ کیا ہم ایرانی نہیں ہیں؟ہم سب ایران ہی کے شہری ہیں اور زاہدان و تہران سمیت دیگر بڑے شہروں میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ اعلی حکام سے توقع ہے ہمیں آزاد رکھیں تاکہ ہم کسی خوف و ہراس کے بغیر اپنی نماز ادا کرسکیں۔ یہ ہمارا قانونی حق ہے اور قانون نافذ کرنے والوں کو اس کا نفاذ کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزیدکہا: ملک کے بڑوں اور چوٹی کے حکام بشمول مرشد اعلی اور صدر مملکت سے درخواست ہے شدت پسند اور تنگ نظر عناصر کو لگام لگائیں جو ہماری نماز کے لیے رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ ہمارے مسائل بہت ہیں لیکن ہم نے کبھی ان کا تذکرہ کیا نہ اشارہ تک کیا تاکہ دشمن غلط فائدہ نہ اٹھائے، لیکن نماز ایسا مسئلہ ہے جس پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: نماز کے حوالے سے ہم ہرگز چشم پوشی نہیں کرتے اور اس پر پابندی عائد کرنا ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے۔ یہ ہم سے برداشت نہیں ہوتا کہ سکیورٹی فورسز نمازخانے سیل کردیں اور نماز پڑھنے پر ہمیں دھمکی دی جائے۔ مرشد اعلی کہتے ہیں نماز کے وقت جہاں بھی ہوسکے حتی کہ پارکوں میں نماز پڑھیں۔

انہوں نے کہا: نماز کوئی ایسی چیز نہیں جس سے لوگوں کو منع کیا جائے۔ ہم ایک مرتبہ وزیر ثقافت سے ملنے گئے، ان سے کہا گیا ہمیں کہا جاتاہے آپ سے نماز کے اقامہ کے لیے اجازت حاصل کریں۔ انہوں نے مسکراکر کہا ملک میں کوئی ایسا قانون نہیں جو نماز قائم کرنے کے لیے اجازت نامہ جاری کرنے کا کہے، بلکہ سب کو جہاں ان کی مرضی ہو نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ لہذا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ عوام سے نماز کے بارے میں اجازت نامہ مانگے۔ نماز سے روکنا ایک غیراسلامی اور غیرآئینی اقدام ہے جو اتحاد کے سراسر خلاف ہے۔

صدر دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: ہماری توقع اعلی حکام سے یہ ہے کہ بڑے شہروں میں اپنے سنی بھائیوں پر مزید توجہ دیں اور ان کے مطالبات کا خیال رکھیں۔ ہم اطمینان سے رہتے ہیں کہ مرشد اعلی، صدر مملکت اور عدلیہ کے حکام اور دیگر ادارے ہماری آزادیوں سے دفاع کریں گے اور ہمارے مسائل کے حل کے لیے کوشش کریں گے۔

اپنے بیان کے ایک حصے میں شیخ‌الاسلام مولانا عبدالحمید نے عالم اسلام کے ابتر حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ہم جس حالات سے گزررہے ہیں، پوری دنیا میں اضطراب پایا جاتاہے۔ عالم اسلام میں استعماری طاقتیں اور قابض اسرائیلی اپنے مفادات کی خاطر مسلم فرقوں میں پھوٹ ڈالنے اور انہیں لڑانے کی کوشش میں مصروف ہیں تاکہ مسلم ممالک میں بدامنی پھیل جائے۔

انہوں نے مزید کہا: ایسے میں مسلمانوں کو چوکس رہنا چاہیے اور فرقہ واریت و شدت پسندی سے دوری کرنی چاہیے۔ شدت پسندوں کو لگام لگاکر انہیں اپنے حال پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ممتاز عالم دین نے کہا: الحمدللہ ہمارے ملک ایران میں امن قائم ہے۔ لیکن اس امن کی حفاظت ازحد ضروری ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتاہے کچھ تنگ نظر اور شدت پسند عناصر جو اندرون ملک ہیں، اس امن کی قدر نہیں جانتے ہیں اورامن کی صورتحال خراب کرنے کے لیے دن رات مصروف ہیں۔

انہوں نے اہل‌سنت کے مثبت اور موثر کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: اہل سنت ایران کے علمائے کرام، دانشور اور دیگر بااثر افراد نے اپنی حد تک اتحاد اور امن کے لیے محنت کی ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اہل سنت میں موجود انتہاپسندوں کو خاموش کیا گیاہے اور ملک کے اندر کوئی انتہاپسند سنی شخص نہیں جو اپنی آواز بلند کرسکے۔

مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: اہل سنت ایران کو ان کے جائزاور آئینی حقوق دلوانا چاہیے۔ مرشد اعلی سمیت تمام اعلی حکام سے درخواست ہے خیال رکھیں کہیں انتہاپسند عناصر اہل سنت کی آزادیوں پر قدغنیں نہ لگائیں۔ جو حق اور آزادی ہمیں قانون نے دیا ہے، ہم وہی چاہتے ہیں۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ایک بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: سپریم لیڈر کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ حال ہیں میں انہوں نے بیان دیا ہے کہ ازواج مطہرات کی شان میں گستاخی دراصل نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی شمار ہوگی۔ امید ہے تمام خطبا، لکھاری اور دیگر افراد رہبر انقلاب کی پیروی کریں اور ازواج مطہرات کی حرمت و عزت کا خیال رکھیں گے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close