شام میں سیدہ زینب کے مزار کے قریب دھماکا، 20 افراد ہلاک

Syrianعمان (ریپبلکن نیوز) شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں حضرب زینب کے مزار کے پاس ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے۔

شام کے ریاستی ٹیلیویژن کی فوٹیج میں دھماکے کے بعد کی تباہی کے مناظر دکھائے گئے ہیں جبکہ جگہ جگہ تباہ شدہ گاڑیاں اور منہدم دکانیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں جو حضرت سیدہ زینت کے مزار کے قریب ایک بازار میں واقع تھیں۔

اس کار بم دھماکے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ (داعش) نے قبول کی ہیں اور اس علاقے میں رواں برس یہ داعش کی جانب سے ہونے والا تیسرا بم حملہ تھا۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے تاہم سیئرین آبزرویٹری فار ہیومین رائٹس کا کہنا ہے کہ اموات کی تعداد کم از کم بیس ہیں جن میں 13 شہری بھی شامل ہیں جبکہ دیگر افراد کا تعلق حکومت کے حامی گروپس سے ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے کیونکہ بیشتر زخمی افراد کی حالت نازک ہے۔

دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑایا جبکہ اس کے حامیوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی کو اڑایا۔

سیدہ زینیب کے مزار کے قریب عراقی اور افغان ملیشیاءکی جانب سے ہزاروں افراد کو بھرتی کرکے رکھا گیا ہے جہاں وہ صدر بشارالاسد کے خلاف برسر پیکار باغی گروپس کے لڑائی کے لیے تربیت حاصل کرتے ہیں۔

یہ علاقہ لبنان کے طاقتور حزب اللہ گروپ کا مضبوط گڑھ بھی مانا جاتا ہے جو بشار الاسد کے بڑے حامیوں میں سے ایک ہے۔

دوسری جانب امریکی حمایت یافتہ شامی گروپس نے دولت اسلامیہ کے خلاف ہفتہ کو مزید کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہ داعش کے شمالی شام کے علاقوں کی جانب پیشقدمی کررہے ہیں۔

سیئرین آبزرویٹری فار ہیومین رائٹس کے مطابق سیئرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے جنگجو دولت اسلامیہ کے مضبوط گڑھ الباب نامی شہر سے سترہ کلومیٹر دور موجود ہیں جبکہ جمعہ اس گروپ نے الباب کے قصبے مینبیج کے آخری روٹ کو بھی کاٹ دیا تھا اور اسے چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close