سوشل میڈیا کی طاقت اور منقسم بلوچ کارکنان

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) اکیسویں صدی کی اہم ایجادات میں سے ایک اہم ایجاد سوشل میڈیا ہے جس سے ہر ملک کے باشندے مستفید ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صرف بات چیت کرنے کا زریعہ ہی نہیں بلکہ اس جدید ٹیکنالوجی سے بہت سے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ دنیا بھر کے اہم کاروباری ادارے، سیاسی حضرات، سماجی و انسانی حقوق کے اداروں سمیت کروڑوں کی تعداد میں لوگ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ اس جدید ٹیکنالوجی کو ہر کوئی اپنی ضرورت کے مطابق استعمال میں لاسکتا ہے۔

سوشل میڈیا اکیسویں صدی کا اس قدر طاقتور میڈیا ثابت ہوا ہے جس سے دنیا کی طاقتور ترین ملک امریکہ کے انتخابات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اور اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے عرب ممالک کے باشندوں نے انقلاب برپا کرتے ہوئے دہائیوں سے اقتدار پر براجمان آمر حکمرانوں کو گھٹنے ٹھیکنے پر مجبور کیا۔ ایران کے حالیہ پُرتشدد ملک گھیر مظاہروں کے پھیچے بھی سوشل میڈیا کا استعمال ہی کارفرما تھا جس نے ایرانی ریجیم کے ہوش اُڑا دیے۔

عرب انقلاب اور ایران میں ہوش اڑا دینے والے مظاہروں میں عام شہریوں نے جس قدر سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں کیں قابلِ ستائش ہے۔ کیونکہ ہم جس خطے میں آباد ہیں وہاں میڈیا کی آزادی صرف لفاظی ہے، اور بہت سے ممالک میں تو پرائیویٹ میڈیا وجود نہیں رکھتا، مطلب جو میڈیا موجود ہے وہ حکومت کی ترجمانی کرتی ہے۔ ایسے میں حقائق اور زمینی حالات کو دنیا تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کے مثبت استعمال سے حیرت انگیز فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

جہاں ملکی و غیر ملکی میڈٰیا ہمارے حق میں نہ ہو وہاں “Citizen Journalism”اہم کردار ادا کرتی ہے۔ عرب انقلاب میں شہری صحافت یا Citizen Journalismکا اہم کردار رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عام شہری خطے میں رونما ہونے والے واقعات کو سوشل میڈیا کے زریعے دنیا تک پہنچانے کا کردار ادا کرتے ہیں، جس کے لیے صرف انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کی ضرورت درکار ہوتی ہے۔ شہری صحافت میں عام لوگ صحافیوں کا کردار ادا کرتے ہوئے رونما ہونے والے واقعات کو اپنے کیمرے میں قید کرتے ہوئے سوشل میڈیا میں شائع کرتے ہیں اور پیش آنے والے واقعات کو سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے رکھتے ہیں۔ عرب انقلاب میں فیس بک، یوٹیوب اور ٹویٹر نے اہم کردار ادا کیا، جہاں عام شہریوں نے ریاستی مظالم کے تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہوئے سوشل میڈیا میں ڈال دیئے جنہیں دنیا بھر کے لوگوں نے دیکھا اور آگاہی حاصل کیں۔ جبکہ حال ہی میں ایران میں رونما ہونے والے ملک گھیر احتجاجی مظاہروں میں ٹیلی گرام ایپلی کیشن کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو اکھٹا کیا گیا اور مظاہروں کے تصاویر اور ویڈیوز اسی ایپلی کیشن کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل گئے۔ جس پر ایران کو ٹیلی گرام میسنجر کو ہی بند کرنا پڑا۔

بلوچ انقلاب میں سوشل میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے، بلوچ سیاسی کارکنان، رہنما، جرنلسٹ، انسانی حقوق سے وابستہ کارکنان سمیت مختلف مکتبَ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں، لیکن ہم اب تک اس ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال میں ناکام رہے ہیں۔ اسکی ایک بڑی وجہ اپنے مخالفین کو برداشت نہ کرنا ہے۔

بلوچ آزادی پسند کارکنان اور رہنماہان گزشتہ کئی سالوں سے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے آرہے ہیں، لیکن اب تک ہم دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کے استعمال سے کچھ فوائد حاصل نہیں ہوئے لیکن اگر ایک آواز ہوکر اور مثبت طریقے سے اس ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جائے تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

سوشل میڈیا میں بلوچوں کی تعداد بہت محدود ہے، اور افسوس اس بات کی ہے کہ کم تعداد کے باوجود دشمن کے بجائے ہم اپنے ہم خیال مخالفین کو ہی نشانہ بناتے ہیں ۔

بلوچ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے کارکنان اپنے موقف کی حقانیت پر اس قدر اصرار کرتے ہیں کہ جو ان کے نقطہ نظر سے متضاد ہو اس سے شدید نوعیت کی بدتمیزی اور گالم گلوچ سے بھی باز نہیں آتے۔ ہم میں ایک بُری عادت یہ ہے کہ ماضی سے ہم کچھ سیکھنے کو تیار نہیں، اور انہی غلطیوں کو ہم بار بار دہراتے ہیں جن کی وجہ سے سالوں تک ناراضگیاں پیدا ہوتی ہوں، اور اس سے فائدہ دشمن عناصروں کو ہوتا ہو۔

ہمیں چاہیے کہ شہری صحافت پر عمل کرتے ہوئے اپنے ارد گرد  رونما ہونے والے واقعات کو سوشل میڈیا کے زریعے دنیا تک پہنچائیں، ضروری نہیں کہ اپنی پہچان کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال کیا جاتا ہو، جو لوگ بلوچستان یا پاکستان کے دیگر شہروں میں موجود ہیں یا ریاستی اداروں سے خطرات محسوس کرتے ہوں تو انہیں چاہیے کہ جعلی ناموں سے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرتے ہوئے بلوچ قوم پر ہونے والے مظالم کو دنیا تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

تحریر: میر جان بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker