بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام انسانی حقوق کے عالمی دن پر سیمینار منعقد

 کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنزکے جانب سے دس دسمبر یوم انسانی حقوق کے مناسبت سے کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں بلوچ ہیو من رائٹس آرگنائزیشن کے چیئرپرسن بی بی گل بلوچ ، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ ، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدید بلوچ ، زاہد بلوچ نائب امیر جماعت اسلامی بلوچستان، عبداللہ بلوچ صدر ہیومنڈیولپمنٹ آرگنائزیشن ،صمد مندوخیل نائب صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ،ملک ابراھیم خاصخیلی ضلعی صدر عوامی نیشنل پارٹی کوئٹہ ، موسیٰ بلوچ

ہیومن رائٹس سیکریٹری جنرل بی این پی مینگل ، شاہ محمد جتوئی صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بلوچستان میں انسانی حقوق کے پامالیوں پر اپنےخیالات کے اظہار کیے ۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دس دسمبر یوم انسانی حقوق گذشتہ کئی
دہائیوں سے تواتر کے ساتھ اس امید کے ساتھ دنیا بھر میں منایا جارہا ہےکہ انسان کو اپنے منشاء کے مطابق زندہ رہنے کا حق دیا جائے اور ہر شہریکو وہ حقوق حاصل ہوں لیکن یہ تلخ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ دنیاگلوبل ولیج میں تبدیل ہونے اور انسانی حقوق کے جدید قواتین متعارف ہونےکے باجود دنیا بھر میں انسانی حقوق کے پامالیاں کسی نہ کسی شکل میں جارہیہیں ان میں سے ایک بدقسمت خطہ بلوچستان بھی ہے جہاں گذشتہ کئی دہائیوں سےیہاں کے باسیوں کو بحیثیت انسان اپنے حقوق میسر نہیں تھے لیکن بدلتے وقتکے ساتھ دنیا جدیدیت کے طرف جانے لگا تو یہاں بلوچستان میں بھی بہت سیچیزیں تبدیل ہوئے پہلے یہاں انسانوں کو بنیادی حقوق میسر نہیں تھے لیکناب ان سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جارہا ہے ۔آج بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ ، ماروائے عدالت قتل عام اورشہریوں کا نقل مکانی کرنا سب سے اہم مسئلے ہیں یہ تمام مسائل فوری حل طلبہیں لیکن ریاستی ادارے کسی بھی قسم کے سنجیدگی دکھانے سے قاصر ہیں۔بلوچستان کے حوالے سے ریاست کی سنجیدگی کا اندازہ اس امر سے لگایا
جاسکتا ہے کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ جیسے بااختیار و اعلیٰ ادارے بھی بے بسہیں جبکہ صوبائی حکومت و لاپتہ افراد کیلئے بنائے کمیشن صرف اور صرفعسکری اداروں کے ترجمانی کا کردار ادا کررہے ہیں ۔ گذشتہ روز سینیٹ کیقائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہبلوچستان نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے بریفنگ دیتے جس قدردروغ گوئی کا سہارہ لیکر لاپتہ افرد کے وجود سے انکار کیا اس سے یہ خدشہیقین میں تبدیل ہوجاتا ہے کہ ریاستی ادارے دانستہ کسی منصوبے کے تحت
بلوچستان کے حالات کو سنگینی کی طرف لے جارہے ہیں ۔آج ہم اس سیمینار کے توسط سے ریاست کے بااختیار ادارے پارلیمنٹ اور عدلیہکو متوجہ کرکے کہتے ہیں بلوچستان کے سیاسی حالات انتائی حساس حدود میں
داخل ہوچکے ہیں اگر اب ریاست کے بااختیار ادارے لوگوں کو انصاف دینے میں ناکام رہے تو اس امکان کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ ٓانے والے دنوں میں حالات مزید خراب اور پیچیدہ شکل اختیار کرینگے اور انکی تمام تر ذمہ داری ان اداروں پر عائد ہوگی ہم ریاستی بالا ادارے سمیت اقوام متحدہکے ذیلی ادارہ برائے انسانی حقوق اور دنیا بھر کے انسانی حقوق کے تنظیموںسے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے سنگین پامالیوں کےروک تھام میں اپنا کردار ادا کرکے اپنے ذمہ داریوں سے انصاف کریں ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close