دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر اب تک پانچ لاکھ لوگ مارے جاچکے ہیں۔ رپورٹ

کوئٹہ / رپورٹ(ریپبلکن نیوز) امریکہ میں نائن الیون کے بعد شروع کی گئی دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں عراق، پاکستان، افغانستان میں لاکھوں لوگ مارے جاچکے ہیں۔

ہفتے کے دن واٹسن یونیورسٹی فار انٹرنیشنل پبلک افیئرز کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی اس جنگ میں اب تک چار لاکھ اسی ہزار سے لیکر پانچ لاکھ سات ہزار کے قریب لوگ مارے جاچکے ہیں۔

مزید رپورٹس:

افغانستان ایک عظیم فرزند اور بلوچ ایک عظیم دوست سے محروم ہوگئے 

ڈیرہ بگٹی کے وسائل و مسائل 

بلوچستان میں بند انٹرنیٹ سروسز کی بحالی ریاستی سازش بھی ہوسکتی ہے 

مارے جانے والوں میں مسلح افراد، سیکیورٹی فورسز،مقامی پولیس، عام لوگ اور امریکہ و اسکے اتحادیوں کے مسلح افواج شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق میں 182,272 سے لیکر 204,575، افغانستان میں 38,480, جبکہ پاکستان میں 23,372 لوگ مارے گئے۔ جبکہ اسی دوران افغانستان اور عراق میں 7000 ہزار امریکی فوجی بھی مارے گئے۔

رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ اس دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ جنگی حالات کی وجہ سے جنگ زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کا عمل متاثر ہوتا ہے، اسی لیے مارے جانے والوں کی اصل تعداد معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جنگ کے دوران پیدا ہونے والی مختلف قسم کی بیماریوں سے ہلاک ہونے والوں کو اس لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں امریکی جنگ طویل ترین جنگ ہے جو سترہ سالوں سے جاری ہے جس میں اب تک امریکہ کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان ہے۔

پاکستانی عسکری ادارے افغانستان میں طالبان کی پشت پناہی کرتے ہیں تاکہ وہ افغانستان کو غیر مستحکم کرسکیں جس سے پاکستان اپنے فواہد حاصل کر سکے۔

دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر پاکستان نے امریکہ سے بلین ڈالرز لیئے اور دوسری جانب طالبان کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے انکی مدد کیں تاکہ یہ جنگ جاری رہے اور پاکستان کو امریکہ سے ڈالر ملتے رہے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان کی چالبازیوں کا بخوبی علم ہے اسی لیے اب پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close