انقرہ میں امریکی سفیر کو تسلیم نہیں کرتے: ایردوآن

نیوزڈیسک(ریپبلکن نیوز) امریکا اور ترکی کے درمیان ویزوں کا اجرا روک دینے کے پس منظر میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیان بازی کی حالیہ جنگ میں تازہ ترین حملہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کا بیان ہے جو منگل کے روز سربیا کے صدر کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران سامنے آیا۔

اس موقع پر ایردوآن نے انقرہ میں امریکی سفیر جان باس کو اپنے ملک کی عدم نمائندگی سے متصف کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ” میں اور میرے وزراء بھی اب انہیں اپنے ملک کا نمائندہ شمار نہیں کرتے”۔

ترکی کے صدر نے کہا کہ "اگر ویزوں کا اجرا رو ک دینے کا فیصلہ امریکی سفیر کا ہے تو ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے منصب کو چھوڑ دیں”۔ ایردوآن کے مطابق "ہم آج انقرہ میں امریکی سفیر کے استقبال کے لیے تیار نہیں اور تُرک ذمے داران بھی ان کے ساتھ ملاقاتوں کا بائیکاٹ کریں گے”۔ امریکا کے ساتھ ویزوں کی معطلی کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے ترکی کے صدر نے کہا کہ "اس بحران کو ہم نے جنم نہیں دیا۔ اس کا ذمے دار امریکا ہے”۔

یاد رہے کہ ترکی میں امریکی سفارتی مشن نے اتوار 8 اكتوبر کو امیگریشن کے سوا باقی تمام ویزوں کا اجرا روک دیا تھا۔ اس فیصلے کا اطلاق ترکی میں تمام سفارتی دفاتر پر کیا گیا۔

انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ اس وقت بڑھنا شروع ہوا جب ترکی کے حکام نے گزشتہ ہفتے استنبول میں امریکی قونصل خانے کے ایک ملازم کو ترک مذہبی شخصیت فتح اللہ گولن کے ساتھ تعلق کے الزام میں حراست میں لے لیا۔ گولن اس وقت امریکا میں مقیم ہیں اور انقرہ حکومت ان پر گزشتہ برس جولائی میں ہونے والی فوجی انقلاب کی کوشش کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرتی ہے۔

واشنگٹن حکومت نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا اورکہا کہ اس سے نیٹو کے دو رکن ممالک کے باہمی تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close