جب تک باہر بھیٹے رہنماوں سے مزاکرات نہیں ہونگے لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہونگے ۔ ڈاکٹر مالک

نوشکی (ریپبلکن نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء وسابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی بدحالی اور بدامنی ہے جب تک صوبے میں امن نہیں ہوگا ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ،مذاکرات کے ذریعے امن و امان کی بحالی کی کوشش کی جائے ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز نوشکی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے سب جانتے ہے کہ الیکشن کس طرح ہوئے نیشنل پارٹی کو جمہوری قوتوں کے ساتھ دینے کی سزا دی گئی ہماری خواہش ہے کہ حکومت مدت پوری کریں ہم مجموعی طور پر اپوزیشن کے حصہ ہیں۔

اپوزیشن کے ہر فیصلے کے پابند ہیں، بلوچستان حکومت کو چاہیئے کہ وہ غربت کے خاتمے ، تعلیم کے فروغ اور امن و امان کی بحالی پر توجہ دیں۔ ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ جب تک مزاکرات نہیں ہونگے لاپتہ افراد کے بازیابی ممکن نہیں۔ اختر مینگل کے چھ نکات میں مزاکرات شامل ہی نہیں تو لاپتہ افراد کے بازیابی ممکن نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت مزاکرات کا راستہ اپنائے اور ملک سے باہر بیٹھے بلوچ رہنماوں سے مزاکرات کریں تاکہ پائیدار حل نکل سکیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ الیکشن میں حصہ نہ لینا دوسرے کارکنوں کو موقع فراہم کرنا تھا ۔

میں گزشتہ 30 سالوں سے پارلیمنٹ کا حصہ ہوں پارٹی کے دیگر رہنماوں اور کارکنوں کو موقع فراہم کرنے کیلئے الیکشن کا حصہ نہیں بنا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی جمہوری پارٹی ہے جمہوریت کے بحالی کیلئے ہماری جدوجہد جاری رہیگی۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close