12جولائی کو اسلام آباد میں گوادر کی ترقی یا استحصال کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا جائے گا.بی این پی

کوئٹہ( ریپبلکن نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ 12جولائی کو اسلام آباد میں گوادر کی ترقی یا استحصال کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا جائے گا جس میں ملک بھر کے دانشور ، ادیب، صحافی و دیگر شخصیات شرکت کریں گے سی پیک کے حوالے سے یہ سیمینار سنگ میل ثابت ہوگا جس میں گوادر کے عوام کے مسائل اور مشکلات اور سی پیک کے حوالے سے بلوچوں کو درپیش خدشات و تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل 10جنوری 2016ء کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس جس میں ملک بھر کے تمام پارلیمانی مرکزی و قوم پرست جماعتوں نے شرکت کر کے متفقہ طور پر قراردادیں منظور کی گئیں تمام پارٹیوں کے اکابرین نے قراردادوں کی مکمل حمایت کی تھی اور اس حوالے سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی وہاں درج ذیل قراردادیں پیش کی گئیں گوادر پورٹ کا مکمل اختیار بلوچستان کو دیا جائے بلوچستان کے ساحل وسائل پر صوبے کا اختیار اور حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے ، گوادر کے بلوچوں اور بلوچستان کے عوام کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے روکنے کیلئے قانون سازی اور ٹھوس پالیسی تشکیل دی جائے تاکہ ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کو گوادر سے شناختی کارڈز ، لوکل سرٹیفکیٹ ، پاسپورٹ جاری کرنے پر مکمل پابندی ہو اور انتخابی فہرستوں میں ان کے ناموں کا اندراج نہ ہو سکے تاکہ ان کی وجہ سے ہماری آبادی احساس محرومی کا شکار نہ ہو جائے، گوادر کے عوام کو فوری طور پر صاف پانی ، انفراسٹرکچر ، ہسپتال ، سکول ، ٹیکنیکل کالجز اور پورٹ سے مکمل ہنر مند افراد کیلئے ٹریننگ سینٹر اور میرین یونیورسٹی تعمیر کی جائے ان میں مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے گوادر پورٹ اور میگا پروجیکٹ کے تمام ملازمتوں میں گوادر ، مکران اور بلوچستان کے باشندوں کو ترجیح دی جائے گوادر میں ماہی گیروں کو معاشی استحصال سے بچانے کیلئے متبادل روزگار اور ماہی گیروں کیلئے جی ٹی کا بندوبست کیا جائے گوادر کے مقامی لوگوں کو عائد پابندیوں کو ختم کر کے نقل و حرکت کی مکمل آزادی دی جائے گوادر کے لوگوں کو علاج و معالجے کی سہولت دی جائے ، گوادر کے لوگوں کو بیرون ملک ٹینیکل دی جائے گی ، ملک کے اعلیٖ تعلیم اداروں میں مفت تعلیم کیلئے سکالرشپ دی جائے ، گوادر کے مقامی عوام کی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے عوام کو مفت تعلیم ، صحت کی سہولیات کے ساتھ ساتھ ٹیکسز اور یوٹیلیٹی بلز کی مد میں تیس سالوں تک چھوٹ دی جائے گوادر کے مقامی لوگوں کی ہزاروں ایکڑ زمینوں کو سرکاری تحویل میں لینے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ زمینیں اصل مالکان کے حوالے کی جائے ۔ گوادر میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے مقامی لوگوں کی شراکت داری کو یقینی بنانے کیلئے قانون سازی کی جائے سیکورٹی فورسز کی آسامیوں میں مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کا عزت و نفس محفوظ رہے گوادر کے تاریخی شہر منتقل کرنے کی بجائے ترجیح بنیادوں پر ترقی دی جائے گوادر کے شہریوں کو انٹری کارڈز جاری کرنے کی مذمت کرتے ہیں مقامی لوگوں کے تقسیم کی پالیسی قابل قبول نہیں ، وزیراعظم کے آل پارٹیز کانفرنس کے قرارداد کے اعلامیئے پر من و عن عملدرآمد کرتے ہوئے اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کو پہلے مکمل کیا جائے اس روٹ پر پختونخواء ، پنجاب کے پسماندہ علاقوں اور بلوچستان کے عوام کو سی پیک کے تمام اجزاء سے فیض یاب کیا جائے بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کسی ترقی و خوشحالی کی مخالف نہیں لیکن اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ گوادر میگا پروجیکٹ سے بلوچستان اور بلوچوں کے سماجی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں رونما ہونی چاہئے اور اس سے ہماری ہزاروں سالوں کی تاریخ ملیامیٹ نہ ہو قانون سازی کی جائے تاکہ ہماری آبادی اقلیت میں تبدیل نہ ہو اس سے قبل جتنے بھی پروجیکٹ شروع کئے گئے ان میں بلوچستان کو نظر انداز کر دیا گیا آئینی رو سے بھی جو حصہ شراکت داری بنتی تھی اسے بھی نہیں دیا گیا پارٹی کی جانب سے بلوچستان کے جملہ مسائل کے حل کیلئے پارٹی ہمیشہ قومی اجتماعی اور غیر متزلزل انداز میں جدوجہد کررہی ہے اب بھی ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنے ساحل وسائل پر حق حاکمیت اور اختیار کو تسلیم کرائیں تاکہ نصف صدی سے احساس محرومی کا جو تسلسل ہے اس میں کسی حد تک کمی آ سکے ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close