پاکستان اچھے اور بُرے طالبان میں امتیاز برقرار رکھے ہوئے ہے۔صدر اشرف غنی

وارسا(ریپبلکن نیوز) اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ہمیں پڑوسی کے ساتھ تعلقات میں جو اہم مسئلہ درپیش ہے وہ متفقہ قوائد کا موجود نہ ہونا ہے، جن کے قیام کے لیے ہم علاقائی اور عالمی حمایت کے خواہاں ہیں، اور جو ہمیں مشترکہ سلامتی و ہم آہنگی کا پابند بنادیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی رہنماؤں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ افغانستان کو کئی طرح کے تنازعات کا سامنا ہے اور وہ القاعدہ، داعش اور طالبان سمیت مختلف دہشت گرد گروپوں سے جنگ لڑ رہا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف 2015 کے مکہ اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے اشرف غنی نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کے عرب مسلم کمیونٹی سے مذاکرات بھی مثبت رہے۔

مدینہ منورہ میں حالیہ دہشت گرد حملے کے حوالے سے افغان صدر نے کہا کہ اس حملے پر مسلم برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلنا چاہیے ہمیں اپنی تہذیب ہائی جیک کرنے والے چھوٹے سے گروہ کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔

انہوں نے افغان فورسز کے ہمراہ شدت پسندوں کے خلاف شانہ بشانہ لڑنے والے تمام نیٹو ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملوں کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال میں بھی اپنی افادیت کو برقرار رکھا اور ہماری ساڑھے 3 لاکھ سے زائد اہلکاروں پر مشتمل سیکیورٹی اور دفاعی فورسز کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے اپنے دور صدارت میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودہ تعداد برقرار رکھنے کے فیصلے پر امریکی صدر براک اوباما کا بھی شکریہ ادا کیا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close