قومی سوچ سے متصادم قومی تحریک | ریپبلکن مضمون

قومی سوچ سے متصادم قومی تحریک 

کوئٹہ / مضمون (ریپبلکن نیوز) اگر کہا جائے کہ بلوچ قومی تحریک اِس وقت آئی سی یو ( I C U ) وارڈ میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ موجودہ تحریک کی سُنہری دور اُس وقت اختتام پزیر ہوا۔ جب اِس قوم نے تین اہم شہید قومی رہنماؤں کےجنازے پڑے۔ جی ہاں شہید نواب اکبر خان بگٹی، شہید بالاچ خان مری اور شہید غلام محمد بلوچ جیسے قومی سوچ رکھنے والے رہنماؤں کی شہادت کے بعد بلوچ قومی تحریک کئی سانحات سے ٹکرا ٹکرا کر اِس قدر کمزور و ناتواں ہوگئی کہ دم_تحریر تک سنبھلنے کی نام نہیں لے رہی۔
شہید نواب اکبر خان کی شہادت کے بعد اُنکے قبائل کی شیرازہ بکھرنے سمیت خاندان بھی انتشار کی شکار ہوگئی۔ گھر کے افراد کسی ایک جانشین کی انتخاب پر متحد و متفق نہ ہونے کی سبب آپس میں تقسیم ہوگئے۔ جسکے بُرے اثرات قبائل کیساتھ ساتھ بلوچ قومی تحریک پر بھی پڑ گئے۔ کیونکہ بگٹی قبائل جو سالہا سال اپنے اندرونی خلفشارکے علاوہ دیگر ہم پّلہ قبائل کیساتھ مصروف_جنگ رہی ہے۔ اِس لیے پرویز مشرف نے بلوچ قومی تحریک کو دبانے اور بگٹی قبائل کو مزید نقصان پہنچانے کیلئے حمدان بگٹی اور مسوری شاخ کے وڈیروں کو منظم کرنا شروع کر دیا۔ اُسکے بعد کیا ہوا سب قوم کے سامنے ہے۔ اِسی طرح جسٹس نواز مری قتل کیس کو بہانہ بنا کر مری قبائل کو تقسیم کرنے کا ساماں کیا گیا۔ جسکی ابتدا قتل کیس میں نواب خیربخش خان مری کو نامزد کرکے گرفتار کرنا، بجارانی شاخ کے سربراہ اور سابق گوریلا کمانڈر ہزار خان بجارانی کو ایک ہزار کی نفری کیساتھ مسلح کرکے نا صرف نواب خیر بخش خان کی سرداری کو چیلنج کرکے اُنکا گھیرا تنگ کیا بلکہ اُسی کی آڈ میں بی ایل اے کو کاؤنٹر کرنے کیلئے فوجی آپریشن کو مکمل جواز فراہم کرکے کوہلو و کاہان میں تحریک کے ہمدرد و ہمنواؤں کی پکڑ دھکڑ اور قتل عام شروع کر دیا۔ جِس میں شہید بالاچ خان سمیت اہم مری جنگجو کمانڈر بھی قوم و وطن پر نثار ہو گئے۔
وہاں مکران میں شہید غلام محمد بلوچ نے پہلی بار مکران کے قوم دوست و قوم پرست حلقوں کی ایک بھاری تعداد کو پارلیمانی و طبقاتی سیاست سے کاٹ کر قومی سوچ کے تحت منظم کرکے بی این ایم کو بلوچستان کے چپے چپے میں پھیلا دیا۔ جو بعد میں بی آر پی، بی ایس او اور دیگر چھوٹے چھوٹے تنظیموں کی اتحاد بی این ایف کی شکل میں بلوچستان بھر میں متحرک رہی۔ مگر وائے شومی_قسمت کے شہید غلام محمد کی شہادت کے بعد بی این ایم پر شب خون مار کر گروہی و طبقاتی سوچ کے تنگ نظر و موقع پرست لیڈروں نے ایک بار پھر قومی تحریک پر کاری ضرب لگا کر دشمن کے عزائم کی تکمیل کر دی۔ شہید غلام محمد جو ایک مضبوط اعصاب کے مالک نڈر رہنما تھے۔ جو کبھی بھی کسی کی دباؤ میں نہیں آتا تھا۔ کے خلاف سازشیں رچائی گئی۔ بی این ایم کے انتخابات میں اُنکے خلاف لابنگ سمیت جھوٹے الزامات اور بے جا تنقید کی ایک نہ رُکنے والا سلسلہ شروع کی گئی لیکن اُنکو قومی سوچ سے علیحدہ کرنے کی ہر چال ناکام ہوگئی۔ سازشی ٹولے کو اُس وقت بڑی کامیابی ملی جب شہید غلام محمد کی شہادت کے بعد قیادت کی بھاگ ڈور عصا ظفرکو منتقل ہو گئی۔ عصا ظفر جو قدرے نرم مزاج اور لڑ جھگڑ سے احتیاط برتنے والے شخصیت ہیں ایک مسلح تنظیم کے کمانڈر اور بی این ایم میں موجود شہید غلام محمد کے بدترین مخالف کی دھونس دھمکیوں میں آکر بی این ایم قیادت سے دستبردار ہو گئے۔ اور پھر یہاں سے تحریک کے بُرے دن بھی شروع ہو گئے۔ مسلح تنظیم بی ایل ایف کمانڈر نے سرفیس کی سیاست کو اپنے تابع رکھنے کیلئے اپنے پسندیدہ لوگوں کو بی این ایم پر مسلط کر دیا۔ مکران میں سنجیدہ سیاست اور گوریلا طرز _جنگ کی جگہ نمود و نمائش اور بھڑک بازی کی سیاست کو متعارف کرائی گئی۔ جس سے علاقے میں بد امنی، غیر رواداری، سیلفی سرمچاری کی ایک لہر دوڑ گئی۔ دشمن نے حالات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے تیزی کیساتھ اپنے ایجنٹ اور کاریندے مسلح تنظیموں میں ڈال دیئے۔ یہاں آتے ہی بلوچستان کی آزادی کے حلف اُٹھانے والے سرمچار اپنے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے لگے۔ قوم و وطن کی آزادی کی قسمیں کھانے والے قوم کے گلے پڑ گئے۔ زاتی و خاندانی دشمنیاں نمٹائے گئے۔ مضبوط قوانین اور سخت ڈسپلین کی عدم موجودگی نے سرمچاروں کو چوری چکاری، بھتہ گیری اور قتل و غارت جیسے تحریک دشمن اقدامات کی طرف راغب کر دیا۔ انسداد_منشیات کے نام پر گلی کوچوں پر قائم چھوٹے پیمانے کے ساقی خانے جلانے اور حالات کے ستائے گئے غریب نوجوانوں کو مجمع کے سامنے طالبانی قوانین کے عین مطابق سزائیں دی گئیں۔ ہر دوسرے شریف اور عزت دار شخص کو دھمکیاں دے کر عوامی خدمات سے دور رکھا گیا۔ گاؤں دیہاتوں میں قافلے کی شکل میں داخل ہو کر عوامی شکایات سُنکر لوگوں کی زاتی و خاندانی معاملات میں مداخلت کرکے اپنے مرضی کے فیصلے تھونپے گئے۔ اب تو سُنا ہے کہ لوگوں کو اغوا کرکے تاوان مانگا جاتا ہے۔ کرائے پر لوگوں کی جان لیا جاتا ہے۔ اِن حالات میں اگر کوئی خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ قومی تحریک تندرست و توانا شکل میں موجود ہے تو میرے خیال میں اُس کو تحریک اور قوم کی فکر کرنے کے بجائے کسی ماہر_نفسیات سے اپنی علاج کروانے کی زیادہ ضرورت ہے۔
ساتھیو یہ جو ہم تم روز روتے پیٹتے دشمن کی ظلم و جبر اور تباہ کاریوں کی داستانیں ایک دوسرے کو سُناتے پھرتے ہیں اِس سے بہتر ہے کہ ہم اِس غیر مہذب و بلوچ کُش دشمن کی ظلم و زیادتیوں کی گلے شکوے کرنے کے بجائے دشمن کیلیے آسانیاں پیدا کرنے والے تحریک دشمنوں کا محاسبہ کریں۔ کیونکہ قوم کو تحریک سے بدظن و بد اعتماد کرنے اور دشمن کے طرف دھکیلنے میں انہی موقع پرست و مفاد پرست ٹولے کی ہاتھ ہے ۔ جو اپنےزاتی، خاندانی، سیاسی و گروہی مفادات کی خاطر طبقاتی سیاست کو پروان چھڑا کر قومی سوچ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
جس طرح بی ایل ایف نے بی ایل اے کے معطل شدہ ساتھیوں کو اپنے اندر پناہ دے کر یا ان سے غیر قانونی اتحاد کرکے قومی تحریک کے اصولوں کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ اُسی طرح بی آر اے کے منحرف و باغی کمانڈر کو بی آر اے کے نام پر اُن سے اتحاد کرکے تحریک دشمن جرم کا ارتکاب کیا ہے۔۔
ہم سب کا ماننا ہے کہ تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے اتحاد و اشتراک _عمل ضروری ہے۔ اور سوشل میڈیا میں اتحاد اتحاد کا رونا دھونا روز کا معمول بن چکا ہے۔ مگر کیا ایسے حالات میں بی ایل ایف کے ساتھ اتحاد کی باتیں مناسب ہیں۔ ؟؟
کیا غلطیوں ، کوتاہیوں ، اور قومی جرائم کو قومی رائے لیئے بغیر معاف کرنا جائز ہے۔۔۔۔؟؟
کیا یہ اختیار کسی سیاسی، عسکری تنظیم یا اُسکے قاہدین کو حاصل ہے کہ وہ قوم کے بیگناہ قتل کیئے گئے فرزندوں کی خون معاف کر دیں ۔؟؟
کیا عسکری تنظیموں کو بلوچستان اور بلوچ قوم کی سیاہ و سفید اور حال و مستقبل کی قسمت کے فیصلے کا حق حاصل ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
میرے خیال میں کہیں بھی اکثریت پر اقلیت کی سوچ یا قانون مسلط کرنے کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ اِس لیئے ضروری ہے کہ ہمارے آزادی پسند دوست اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کرکے خود کو عوامی عدالت کیلئے پیش کریں ۔ اور تحریک کو اِز سر نو قومی سوچ کے مطابق استوار کرکے طبقاتی و گروہی سوچ کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکیں۔
کیونکہ طبقاتی سوچ کے پیچھے دشمن کے آلہ کار و معاونوں کی ہاتھ کار فرما ہے۔۔۔

تحریک کو آئی سی یو سے نکال کر وارڈ منتقل کرنے کیلئے بہت جلد مگر سخت فیصلوں کا وقت آگیا ہے۔ ہم ایف بی ایم کے لیڈر جناب حیربیار مری اور بی آر پی کے لیڈر جناب براہمدغ بگٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اہم قومی مفادات اور کمزور قومی تحریک میں نئی روح پھونکنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کی آغاز کریں ورنہ تحریک اور جنگ سے فرار کے راستے ڈھونڈنے والے موقع پرست ، شہدا کی عظیم شہادت اور لاپتہ افراد کی قربانیوں کو خدا نخواستہ اپنی مکرو عزائم کی نذر کر دینگے۔ اور پھر بلوچ قوم کی اعتماد و اعتبار آزادی کے نام سے ہمیشہ اُٹھ جائیگی۔ اور پھر یہ قوم اپنے دل سےآزادی خواہش نکال دی گی

۔ جو اپنےزاتی، خاندانی، سیاسی و گروہی مفادات کی خاطر طبقاتی سیاست کو پروان چھڑا کر قومی سوچ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
جس طرح بی ایل ایف نے بی ایل اے کے معطل شدہ ساتھیوں کو اپنے اندر پناہ دے کر یا ان سے غیر قانونی اتحاد کرکے قومی تحریک کے اصولوں کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ اُسی طرح بی آر اے کے منحرف و باغی کمانڈر کو بی آر اے کے نام پر اُن سے اتحاد کرکے تحریک دشمن جرم کا ارتکاب کیا ہے۔۔
ہم سب کا ماننا ہے کہ تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے اتحاد و اشتراک _عمل ضروری ہے۔ اور سوشل میڈیا میں اتحاد اتحاد کا رونا دھونا روز کا معمول بن چکا ہے۔ مگر کیا ایسے حالات میں بی ایل ایف کے ساتھ اتحاد کی باتیں مناسب ہیں۔ ؟؟
کیا غلطیوں ، کوتاہیوں ، اور قومی جرائم کو قومی رائے لیئے بغیر معاف کرنا جائز ہے۔۔۔۔؟؟
کیا یہ اختیار کسی سیاسی، عسکری تنظیم یا اُسکے قاہدین کو حاصل ہے کہ وہ قوم کے بیگناہ قتل کیئے گئے فرزندوں کی خون معاف کر دیں ۔؟؟
کیا عسکری تنظیموں کو بلوچستان اور بلوچ قوم کی سیاہ و سفید اور حال و مستقبل کی قسمت کے فیصلے کا حق حاصل ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
میرے خیال میں کہیں بھی اکثریت پر اقلیت کی سوچ یا قانون مسلط کرنے کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ اِس لیئے ضروری ہے کہ ہمارے آزادی پسند دوست اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کرکے خود کو عوامی عدالت کیلئے پیش کریں ۔ اور تحریک کو اِز سر نو قومی سوچ کے مطابق استوار کرکے طبقاتی و گروہی سوچ کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکیں۔
کیونکہ طبقاتی سوچ کے پیچھے دشمن کے آلہ کار و معاونوں کی ہاتھ کار فرما ہے۔۔۔

تحریک کو آئی سی یو سے نکال کر وارڈ منتقل کرنے کیلئے بہت جلد مگر سخت فیصلوں کا وقت آگیا ہے۔ ہم ایف بی ایم کے لیڈر جناب حیربیار مری اور بی آر پی کے لیڈر جناب براہمدغ بگٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اہم قومی مفادات اور کمزور قومی تحریک میں نئی روح پھونکنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کی آغاز کریں ورنہ تحریک اور جنگ سے فرار کے راستے ڈھونڈنے والے موقع پرست ، شہدا کی عظیم شہادت اور لاپتہ افراد کی قربانیوں کو خدا نخواستہ اپنی مکرو عزائم کی نذر کر دینگے۔ اور پھر بلوچ قوم کی اعتماد و اعتبار آزادی کے نام سے ہمیشہ اُٹھ جائیگی۔ اور پھر یہ قوم اپنے دل سےآزادی خواہش نکال دی گی۔

تحریر: تحریر غلام شاہ بلوچ

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button