میری والدہ کو میرے سامنے سرمچاروں نے گولیاں مار کر قتل کیا۔ فرزند جمیلہ بلوچ

کوئٹہ/رپورٹ (ریپبلکن نیوز) ایک ہفتہ قبل بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب میں قتل ہونے والی بلوچ خاتون کے بیٹے نے ریپبکن نیوز کو اپنا ایک ویڈیو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انکی والدہ کو ایک آزادی پسند مسلح تنظیم کے سرمچاروں نے ان کے گھر میں گھس کر ان کے سامنے قتل کیا ہے۔

مقتول جمیلہ بلوچ کے فرزند نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ رات کے وقت تین مسلح افراد ان کے گھر کے باہر آئے جس پر انہیں محسوس ہوا کہ گھر کے باہر کوئی ہے، تو انہوں نے اپنی والدہ سے دریافت کیا کہ گھر کہ باہر کچھ لوگ ہیں تو والدہ نے کہا کہ جاکر دیکھو شائد فوجی ہوں گے، تو باہر دیکھنے پر پتہ چلا کہ وہ سرمچار تھے، جس پر مقتول کے بیٹے نے اپنی والدہ کو آگاہ کیا تو انہوں نے جواب دیا  کہ یہ ہمارے بھائی ہٰیں یہ ہمیں کچھ نہیں کریں گے۔

جمیلہ بلوچ کے فرزند نے کہا کہ سرمچار گھر میں داخل ہوئے ہم پر بندوقیں تھان لیں، اور ایک مسلح شخص نے مجھے قابو میں کرلیا۔ جبکہ میری والدہ نے ان سے درخواست کی کہ انہیں نا مارا جائے اگر وہ کسی بُرے عمل میں ملوث ہیں تو انہیں ثبوت پیش کیا جائے۔ جس پر سرمچاروں نے کہا کہ تمیں ثبوت پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ میرے والدہ کی باتوں کو سنیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ اسی وقت میرے والدہ کو فائرنگ کر کے قتل کردیا۔اور وہاں سے چلے گئے۔ مقتول جمیلہ بلوچ کے فرزند نے کہا ہے کہ انکی والدہ بے گناہ تھی، اور انہوں نے ہر وقت سرمچاروں کی حمایت کرتے ہوئے ان کے مختلف کاموں کو بھی انجام دیا ہے۔

خیال رہے کہ جمیلہ بلوچ سرنڈر شدہ سرمچار یونس بلوچ کی بہن تھی جو ایک وقت میں مسلح تنظیم کا سرمچار تھا جو ریاستی قابض فورسز کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا تھا جسے بعد میں بلوچستان لبریشن فرنٹ نے ہلاک کردیا تھا۔ جبکہ کہا جاتا ہے کہ جمیلہ بلوچ کے قتل میں بھی بلوچستان لبریشن فرنٹ ملوث ہے۔ لیکن بی ایل ایف کی جانب سے اس بات کی تردید کی گئی ہے، جبکہ انہوں نے جمیلہ بلوچ کو شہید کا درجہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس قتل کے پھیچے کرداروں کو جلد نے نقاب کریں گے۔

اسی بارے میں:

سرنڈر شدہ سرمچار یونس کی بہن کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا

ہوشاب میں قتل ہونے والی جمیلہ بنت صوالی کی قتل بلوچ روایات و عالمی جنگی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے – بی ایس او آزاد

اقبال ولد صوالی کوجرم ثابت ہونے پر ہلاک کیا خوشاپ میں خاتوں کے قتل سے کوئی تعلق نہیں- بی ایل ایف

جمیلہ بلوچ کے قتل کی بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ سمیت ڈاکٹر اللہ نظر اور بلوچ نیشنل موومنٹ و بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد نے بھی سخت الفاظوں میں مذمت کی ہے، لیکن بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اس معاملے کو مشکوک بھی قرار دیا ہے، جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس قتل میں ان کا تنظیم کئی نا کئی ضرور ملوث ہے، جبکہ اب تک وہ قوم کو اس معاملے پر مزید تفصیلات فرائم کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

جمیلہ بلوچ کے قتل پر آزادی پسند طلبا تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آگنائزیشن آزاد کے ترجمان نے اس کی سخت الفاظوں میں مذمت کرتے ہوئے اسے بلوچ روایات اور عالمی جنگی قوانین کی سخت خلاف ورزی قرار دیا جبکہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے بھی اس کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بچوں اور خواتین کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ نے جمیلہ بلوچ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا۔

بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اپنے جارہ کردہ بیان میں اس واقعہ کو مشکوک قرار دیتے ہوئے خود کو تمام تر معاملات سے بری الزمہ کردیا ہے، جس سے یقینا بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں۔ اگر جمیلہ قومی تحریک کے خلاف یا بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف تھی تو اسے کس حیثیت سے شہید کا درجہ دیا جا رہا ہے۔۔!

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close