بی ایل ایف ،یو بی اے تضاد اور مصالحتی کمیٹی ۔ تحریر: رہزن بلوچ

بی ایل ایف ،یو بی اے تضاد اور مصالحتی کمیٹی
میرا علم و شعور تو اتنا وسی نہیں کہ دنیا کی تمام مصحلتی کمیٹیوں یا عدل و انصاف کا تاریخ اور عدالتی اوراق بیان کر سکو. ہاں عدل و انصاف کا وہ طریقہ جو میں نے اپنے بسنے والے معاشرے میں دیکھا اور سنا یا جو بلوچ معاشرے میں کار فرما ہیں.
بلوچ معاشرے میں عدل و انصاف کے تین طریقے رائج الوقت ہیں .
1 پہلا طریقہ معاشرے کے سردار ، وڈیرا ، میر و موتبر جو لوگوں کے تنازعات کا فیصلہ کرتے ہیں اور ان کے پاس ایک محدود طاقت ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کو اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرا سکے.جس میں دونوں فریق با خوشی اپنا مسئلہ لے کے آتے ہیں یا ایک کی درخواست پر دوسرے کو بلایا جاتا ہے.
2 دوسرا طریقہ معاشرے کے وہ باعزت ،با وقار و ہر دل عزیز شخصیت ہوتے ہیں جو اپنے ایمان اور انصاف سے پہچانے جاتے ہیں. جن کے پاس دونوں فریقین با خوشی اپنا مسئلہ لے جاتے ہیں اور جس کے پاس کوئی طاقت نہیں ہوتی کہ اپنے فیصلے پر ان کو عمل درآمد کرا سکے. اس لیے وہ فیصلہ کرنے سے پہلے ان دونوں سے رضامندی لیتا ہے کہ وہ جو فیصلہ اپنے ایمان سے کرے گا دونوں اس پر کاربند رہیں گے اس کے بعد وہ انکا فیصلہ کرتا ہے.
3 تیسرا طریقہ مصالحتی ارکان کا ہوتا ہے جو قبائل ،علامہ یا معاشرے میں با عزت اور با وقار حیثیت رکھتے ہیں جو قوم دوست ،انسان دوست اور امن پسند ہوتے ہیں جو کسی بهی جگڑے یا جنگ و جدل میں سامنے آتے ہیں اور مصلحت کا مثالی کردار ادا کرتے ہیں. جو پہلے تو وہ دونوں فریقوں کے درمیان (جنگ بندی) یا دونوں فریقوں کو مزید جگڑے یا مسائل کو بگاڑنے سے روکتے ہیں پهر تین چار مصالحتی سفید ریش دونوں فریقوں سے اجازت اور اختیار لیتے ہیں کہ وہ ان کے فیصلے کے پاسدار رہیں گے. پهر وہ فریقین اور گواہوں کے بیانات لیے ہیں فیصلے سے پہلے دونو فریقین کو آمنے سامنے بٹھا کر انکے دستخط لے کر پهر اپنا فیصلہ سناتے ہیں .
اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف بی ایل ایف اور یو بی اے کے درمیان تضاد اور اس پر مصالحتی کمیٹی کا فیصلہ. جب یو بی اے کے ترجمان مرید بلوچ کا بیان 24 فروری 2019 کوم میڈیا آیا کہ” شہید جنرل اسلم بلوچ کی بنائی گئی کمیٹی نے بی ایل ایف‘ یو بی اے تنازع کا تصفیہ کردیا ” یہ دیکھ کر دل خوش ہوا کہ آزادی پسند تنظیموں میں نزدیکی بڑه رہا ہے اور اپنے اندر کے مسائل کو حل کر رہے ہیں.
لیکن بد قسمتی سے کچھ گھنٹے بعد کمیٹی کا بیان میڈیا میں آیا ان کے بقول” یو بی اے ترجمان نے مصالحتی کمیٹی کے فیصلوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا –اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا. جب میں دونوں یو بی اے اور کیمٹی کے بیان کا موازنہ کیا تو مجھے صرف شیر جان کا تیل ٹینکر چوری کرنے پر جرم 12 لاکھ ادا کرنے کے فقرے کے علاوہ باقی سب ایک جیسا تها. لیکن حیرانی تو اس وقت ہوئی جب بی ایل ایف نے یو بی اے کے اور مصالحتی کمیٹی کے فیصلے سے انکار کردیا بی ایل ایف کے بقول” بی ایل ایف یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے ترجمان مرید بلوچ کے بیان اور مصالحتی کمیٹی کے فیصلے کو قانونی اصولوں، بلوچی رسم و رواج، انقلابی روایات و ضوابط اور تنظیمی ڈسپلن کی تقاضوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کرتا ہے”۔
اب بات مصالحتی کمیٹی پر آتی ہے کہ اس نے دونوں تنظیموں کے درمیان مصالحت کا کردار ادا کیا اور دونوں تنظیموں کو مزید تضاد سے بچایا اور ان دونوں تنظیموں کے تصفیہ کا بیڑا اٹھایا. اب ظاہر ہے مصالحتی کمیٹی کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے کہ وہ اپنا فیصلہ دونوں تنظیموں کو اپنانے پر مجبور کرے. اس لئے فیصلے سے پہلے دونوں تنظیموں کے مرضی سے اختیارات لیے ہونگے.اور جب اختیارات کمیٹی کو ملے تو اس نے تحقیق کی گواہوں اور دونوں فریقوں کے بیانات لے ہونگے .کمیٹی کو قریباً چار ماہ لگے اس نتیجے تک پہنچنے پر.
اب سوال اٹھتا ہے بی ایل ایف جیسے آزادی پسند تنظیم کو یہ شوبھا نہیں دیتا کہ وہ اس طرح چھ تنظیموں کے نو رکنی کمیٹی کو بلوچی رسم و رواج، انقلابی روایات و ضوابط اور تنظیمی ڈسپلن کی تقاضوں کے خلاف قرار دے کر اس مسترد کردے. کم از کم میں اسے انقلابی فیصلہ نہیں کرار دے سکتا. اب کل کو مصالحتی کمیٹی مجبوراً دونوں تنظیموں کے دستخط شدہ فیصلہ قوم کے سامنے لائے گا. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چھ تنظیموں کے نو رکنی مصالحتی کمیٹی کو آزادی پسند تنظیم نہیں مانے گا تو بلوچ قومی تحریک میں موجود تضادات کا حل کون کرے گا؟؟؟؟
تحریر: رہزن بلوچ

 

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button