عالمی یوم خواتین کے موقع پر بی آر پی کا بلوچ خواتین کے اغوا کے خلاف جنیوا میں ریلی

جینوا ( ریپبلکن نیوز)بلوچ ریپبلکن پارٹی سوئٹزرلینڈ چیپٹر کی جانب سے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے متعلق 34وایں اجلاس کے دوران ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا، جو جنیوا شہر کے مرکز سے ہوتا ہوا اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے مظاہرے کا شکل اختیار کرنے کے بعد اختتام پزیر ہوا، مظاہرے کی قیادت بلوچ قومی رہنما و بی آر پی کے قائد نواب براہمدغ بگٹی نے کی جبکہ پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی، یورپ کے آئرگنائز منصور بلوچ، ریاض گل بگٹی اور اقوام متحدہ میں بی آر پی کا نمائدہ برائے انسانی حقوق عبدل نواز بگٹی بھی شریک تھے۔

ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بی آرپی سوئٹزرلینڈ چیپٹر صدر شیر باز بگٹی، نائب صدر قادر بخش بگٹی اور جنرل سیکریٹری محمد نواز بگٹی نے بلوچستان میں پاکستانی افواج کے جنگی جرائم کے ارتکاب اور خاص کر بلوچ خواتین کے اغوا کی شدید مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی یوم خواتین کے موقع پر ہمارے اس ریلی کے انعقاد کا مقصد پاکستانی افواج کے ہاتھوں بلوچ خواتین کے اغوا اور ان پر غیر انسانی جرائم کو دنیا کے سامنے لانا ہے
شیرباز بگٹی نے کہا کہ مظاہرے کا مقصد بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ریاستی فورسز کی جنگی جرائم کو اجاگر کرنے کے ساتھ خاص طور پر ڈیرہ بگٹی، کوہستان مری سمیت بولان اور مشکے میں بلوچ خواتین پر ریاستی ظلم و جبر اور حراست بعد لاپتہ کرنے کی پالیسی کے بارے میں عالمی اقوام کو آگاہی دینا تھا۔
شیرباز بگٹی نے کہا کہ آج کے دن دنیا بھر میں یوم خواتین منایا جارہا ہےاور خواتین کے بنیادی حقوق کے بارے میں آگاہی دینے کے ساتھ ساتھ ان کی معاشرتی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جارہا ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ عالمی یوم خواتین کے موقع پر بھی بلوچ خواتین ریاستی دہشت گردی کی ذد میں ہیں۔
شیرباز بگٹی نے کہا کہ اس سال کی شروع سے ڈیرہ بگٹی سے دو سو سے زائد خواتین اور ان کے بچوں کو پاکستانی افواج نےاغوا کر نے کے بعد لاپتہ کردیا ہے اور اب یہ سلسلے کو مشکے بلوچستان بھر میں پھیلایا جارہا ہے جہاں سے ریاستی فورسز آپریشن کے دوران سیکڑوں کی تعداد میں بلوچ خواتین اور بچوں کو حراست بعد لاپتہ کرچکا ہے جو کئی ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک غائیب ہیں اورانکے اہل خانہ کو اتنا بھی حق نہیں دیا جاتا کہ وہ اپنے مائیں اور بہنوں کی بازیابی کیلئے کوئی احتجاج کرسکیں۔ انہوں نے کہا ایک طرف پاکستان دنیا کو بیوقوف بنانے کیلئے خواتین پر تشدد کے خاتمے کیلیے قوانین بنانے کی باتیں کرتا ہے دوسری جانب پاکسانی فوج بلوچستان میں بلوچ خواتین کو اٹھا کر ازیت گاہوں  میں ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین  صورتحال میں پاکسانی افواج کے ظلم و بربریت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور خاص طور پر خواتین کو ہدف بنانے کا ایک نیا منصوبہ متعارف کیا گیا ہے جس کے نتائج نہایت ہی خطرناک ہو سکتے ہیں ،  انسانی حقوق کی تنظیمیں بلوچستان میں پاکستانی جرائم کا نوٹس لیتے ہوئے لاپتہ بلوچ خواتین کی بازیابی کیلے موثراقدامات اٹھائیں

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker