گزشتہ تین دنوں میں سو سے زاہد لوگوں کو فورسز نے اغواء کیا ہے۔ بی این ایم

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان کے علاقوں مشکے آواران میں جاری فوجی آپریشنوں، بلیدہ فوجی آپریشن میں زخمی فاطمہ بلوچ کی ہسپتال سے اغوا، تربت میں بی این ایم کے ریجنل صدر سلیمان بلوچ کی قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین روز سے سو سے زائد افراد کو فورسز نے آواران،گیشکور اور مشکے سے حراست بعد لاپتہ کیا ہے۔ جبکہ مشکے میں تیس سے زائد خواتین و بچوں کو بھی فوجی کیمپ منتقل کیا گیا جس میں شیر خوار بچوں کے ساتھ چار دن کا بچہ بھی شامل ہے۔ ان کے بارے میں تاحال کوئی اطلاعات نہیں کہ وہ زندہ ہیں کہ نہیں۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ چار مارچ کو بلیدہ الندور میں فوجی آپریشن میں زخمی ہونے والے فاطمہ، اس کی بہن اور خاندان کے ایک اور مرد رکن کو تربت ہسپتال سے دوران علاج اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا ہے۔ بلوچ ہسپتال تربت سے بدھ کی صبح فوجی اہلکاروں نے زخمیوں کو زبردستی ایک ایمبولینس میں بٹھا کر علاج کے نام پر لاپتہ کیا۔ تاکہ وہ بلیدہ میں ہونے والی ریاستی غیرا نسانی بربریت کی چھپا سکیں مگر بلوچ قوم اس درندہ ریاست سے بخوبی واقف ہے۔  بی این ایم سلیمان بلوچ کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتی ، انہوں نے بی این ایم کے پلیٹ فارم سے بلوچ قومی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنی محنت، وطن دوستی اور صلاحیتیوں کی وجہ سے وہ کیچ ریجن کے صدر بنے۔ گزشتہ دن وہ آبسر میں اپنے گھر میں مقیم تھے کہ علی الصبح پاکستانی فورسز نے گھر پر چھاپہ مار کر اندھا دھند فائرنگ کی اور گھر کے کمرے میں گھس کر سلیمان بلوچ کو قریب سے گولی مار کر قتل کردیا۔ پاکستان ایسی بربریت سے بلوچ قوم کو اپنی حق آزادی سے دستبردار نہیں کر سکتی۔ مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ گیشکور سے آواران تک تاحال پاکستانی فوج نے زمینی آپریشن میں شدت لاتے ہوئے سو کے قریب افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا ہے،جبکہ کئی فراد کو شدید تشدد بعد نیم مردہ حالت میں آواران ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے یا ویرانوں میں پھینکا گیا ہے۔جن کے اجسام پر غیر انسانی تشدد کے نشانات واضح ہیں۔ ان علاقوں میں تمام افراد کے شناختی کارڈ ضبط کر کے پندرہ مارچ کو مردم شماری کے لیے ملٹری کیمپ آنے کیلئے سخت وارننگ بھی دی گئی ہے۔اس سے واضح ہے کہ بلوچ قوم کی جانب سے مسترد شدہ مردم شماری کو زبردستی عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔  ترجمان نے کہا کہ آواران کا علاقہ مزار گوٹھ آج تیسرے روز بھی فوجی محاصرے میں رہا۔آواران میں جاری آپریشن میں تاحال دو درجن کے قریب لاپتہ افراد کے نام سامنے آ سکے ہیں۔آواران کے علاقے بزداد میشود دو روز قبل آپریشن میں ۸ افراد،زاہد ،نیاز،ناصر،شعیب،بدل ،فدا جبکہ مزار گوٹھ سے دو بچے والدسمیت لاپتہ کیے گئے ہیں۔ جو محمد یار ولد وھیدی،نیک صالح ولد وھیدی،اور وھیدی ہیں۔آہری کے علاقے سے بشیر، نظر محمد،نذیر،میر جان ،کریم جان، ،سید ،خیر بخش سمیت کئی افراد حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔،آواران مالار ماچی اور بزداد جوسے عالم ولد لعل بخش اور پیر بخش، سمیت دیگر چار افراد کو لاپتہ کیا گیا۔بزداد میشود سے لعل بخش، نیاز،اسداللہ، اسماعیل،،بزرگ ئار محمد،چولو پٹھان، ناصر جمعہ،شعیب جمعہ،ماسٹر حمزہ احمد، بدل،عطا ولد حوالدر برکت کو لاپتہ کیا گیا۔ مرکزی ترجمان نے کہا کہ اس وقت بلوچستان ایک مقتل گاہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی انسانی حقوق کے عالمی ادارے ریاست کی جانب سے کھلی دہشت گردی اور بربریت پر خاموش ہیں ۔ مرکزی ترجمان نے پارٹی کے بیرونی ممالک سمیت تمام زونوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ریاستی دہشت گردی ، خواتین و بچوں کی اغوااور آپریشنوں کے خلاف اپنے اپنے ممالک میں احتجاجی شیڈول ترتیب دیں

مزید خبریں اسی بارے میں

Close