تین دنوں کے دوران شیر خوار بچوں سمیت تیس سے زاہد لوگوں کو اغواء کیا گیا ہے۔ بی ایس او آزاد

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے گزشتہ تین روز کے دوران مشکے کے مختلف علاقوں سے شیر خوار بچوں سمیت تیس سے زائد خواتین و بچوں کی اغواء نما گرفتاری کو قابض فورسز کی بدترین اخلاقی شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ فورسز کی بربریت سے بلوچستان کا کوئی بلوچ بھی محفوظ نہیں ہے۔ مارو اور پھینکو پالیسی، سب کچھ جلا دو پالیسی اور نوجوانوں کو سالوں لاپتہ رکھنے کی پالیسیوں میں ناکامی کے بعد قابض ریاست نے باقاعدہ طور پر بلوچ خواتین کے اغواء کی پالیسی اپنائی ہے۔ اسی پالیسی کے تحت گزشتہ تین دنوں کے دوران صرف مشکے سے 30سے زائد خواتین اغواء کیے جاچکے ہیں۔ بی ایس او آزاد کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی فورسز بنگلہ دیش میں کی گئی جنگی جرائم اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنام ہیں، اب وہی عمل بلوچستان میں بھی دہرانے کا آغاز کیا جا چکا ہے،آواران کے علاقے بزداد، ہارونی ڈن اور تیرتیج کے خواتین کو بھی فورسز نے گزشتہ روز سے محصور کرکے 15لوگوں کو اغواء کیا۔ ان علاقوں میں فورسز کسانوں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں، اور نہ ہی دکانداروں کو ڈیزل اور پٹرول رکھنے کی اجازت دی جارہی ہے، جو کہ عام لوگوں کی معاشی قتل عام کے مترادف ہے، بی ایس او آزاد نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی، مشکے، اورمکران سمیت بلوچستان بھر سے خواتین کا اغواء اور انہیں قتل کرنے کے باوجود خواتین کے حقوق کے محافظ تنظیموں کی خاموشی سے ان کی اصلیت واضح ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مہذب ممالک اسی طرح خاموش رہے تو بلوچ خواتین کے خلاف ریاستی جبر بنگلہ دیش میں ہونے والی تشدد سے کئی گنا شدید تر ہو سکتا ہے۔ فورسز گھروں کی خواتین کو اغواء کرکے معاشرے کو خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ڈر اور خوف کے مارے اپنے حقوق کی جدوجہد سے دستبردار ہوجائیں۔ بی ایس او آزاد نے ان تمام تر جبر کے باوجود عالمی اداروں کی خاموشی اور عالمی میڈیا کی عدم توجہی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ عوام کے خلاف جبر روکوانے کے لئے ضروری ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی ادارے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker