بلوچ عوام کے خلاف پوری ریاستی مشینری متحرک ہے۔بی ایس او آزاد

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے ترجمان نے خاران، واشک اور رخشان کے مختلف علاقوں میں دو درجن سے زائد نئے فوجی چوکیوں کے قیام اور درجنوں نوجوانوں کی گرفتاری کو بلوچستان میں جاری استحصالی منصوبوں کی تکمیل کے لئے کی جانے والی بلوچ نسل کشی کی کاروائیوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ عوام کے خلاف پوری ریاستی مشینری متحرک ہے۔ فوج سمیت ریاست کے تمام ادارے بلوچ قتل عام میں باقاعدہ طور پر شریک ہیں، ان کاروائیوں میں بیرونی سرمایہ کار کمپنیوں کی مالی معاونت ریاستی فورسز کو حاصل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ خاران کے علاقے یک مچ سے بیسیمہ تک بننے والی زیر تعمیر سڑک کی سیکیورٹی کے نام پر ایف سی اور آرمی کی 25سے زائد نئی چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔ ان چوکیوں پر موجود اہلکار آئے روز بلوچ بزرگوں اور نوجوانوں کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں۔ انہی چوکیوں سے اور چھاپوں کے دوران خاران سے درجنوں نوجوانوں کو حال ہی میں اٹھا کر لاپتہ کیا جا چکا ہے۔ بی ایس او آزاد کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں مکمل میڈیا بلیک آؤٹ کی وجہ سے فورسز آزادی کے ساتھ دیہاتوں کو نظر آتش کرنے، لوگوں کو اغواء کرنے کی کاروائیاں کررہے ہیں۔ گوادر سے ملحقہ علاقہ دشت گزشتہ کئی مہینوں سے فوجی کاروائیوں کی زد میں ہے۔ آئے روز کی کاروائیوں سے تنگ آ کر لوگ نکل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جو لوگ نکل مکانی نہیں کرسکے ہیں ان کے گھروں کو نظر آتش کیا جارہا ہے اور گھروں میں موجود نوجوانوں کو اٹھا کر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ رواں مہینے کے پہلے ہفتے میں دشت سے کم از کم 7فراد گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ایک دہائی سے زائد کے عرصے سے ریاستی ادارے بلوچ فرزندان کو مسلسل اغواء کرنے اور ان کی لاشیں پھینکنے میں مصروف ہیں، لیکن ان غیر انسانی پالیسیوں کے خلاف عالمی ردعمل سامنے نہ آنے کی وجہ سے یہ کاروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ان کارواوئیوں کا دائرہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں ہیں بلکہ کراچی میں بھی ایسی کاروائیوں گزشتہ سالوں سے جاری ہیں۔ بی این ایم کے شہید چیئرمین غلام محمد بلوچ کے فرزند کو کراچی میں ان کے گھر سے فورسز اٹھا کر لے گئے، جبکہ ملیر کورٹ کے سامنے سے اسی مہینے اغواء ہونے والے نبی بخش بگٹی کی لاش اغواء کے اگلے روز شیرشاہ سے برآمد ہوئی۔ بلوچستان اور کراچی سے اغواء ہونے والے بیس سے زائد کارکنوں کی لاشیں کراچی سے برآمد ہوگئی ہیں۔ ترجمان نے عالمی اداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ نسل کشی کی ان کاروائیوں کو روکنے اور بلوچ مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لئے وہ اپنا کردار ادا کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close