نصیرآباد میں فوجی آپریشن کے خلاف کراچی میں بی ایچ آر او کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ

کراچی(ریپبلکن نیوز)بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں جاری فوجی آپریشنوں کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں ہیومین رائٹس کارکنوں اور طلباء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر آپریشن کو فوری بند کرنے اور دوران آپریشن گرفتار ہونے والے خواتین و بچوں اور عام لوگوں کی رہائی کے حوالے سے مطالبے درج تھے۔ پریس کلب کے سامنے شرکاء نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن فوری طور پر بند کیے جائیں۔ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گُل بلوچ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام آئے روز کی آپریشنوں اور گرفتاریوں سے تنگ ہو چکے ہیں۔بلا تفریق آپریشنوں کی وجہ سے معاشرے میں اجتماعی حوالے سے ایک خوف کا ماحول پیدا ہوچکا ہے۔ احساس عدم تحفظ اور غیر یقینی کی صورت حال نے عام لوگوں کو ذہنی اذیت کا شکار بنا دیا ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ بلوچستان میں جاری آپریشن ختم ہونے کے بجائے روز بہ روز شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ان آپریشنوں میں بیشتر لوگ غیر قانونی طریقے سے نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ لوگوں کو مارنا یا اغواء کرکے لاپتہ کرنا ایک غیر قانونی و غیر انسانی عمل ہے، لیکن اس طرح کے اعمال فورسز کے اہلکار دیدہ دلیری کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر کررہے ہیں۔گزشتہ چند دنوں سے بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جارہا ہے۔ اب تک کی میڈیا اطلاعات کے مطابق 200کے قریب لوگ گرفتار کرکے لاپتہ کیے جاچکے ہیں جن میں بیشتر تعداد خواتین و بچوں کی ہے، جبکہ اس کے علاوہ چھ افراد کو فورسز نے دوران آپریشن فائرنگ کا نشانہ بنا کر قتل کردیا۔ اس طرح کی کاروائیاں عام لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتے ہیں، لیکن بلوچستان حکومت اور وفاقی حکومت طاقت کے بے تحاشا استعمال کی پالیسی پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اسے جائز بھی قرار دیتے ہیں جو کہ افسوسناک ہے۔بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن نے انسانی حقوق کے کارکنوں کی گمشدگیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سلمان حیدر اور دوسرے کارکنوں کی گمشدگی ایک حساس مسئلہ ہے، ریاست کو ہر مسئلے کو طاقت سے حل کرنے کا رویہ ترک کرنا چاہیے ۔ بی ایچ آر او نے مطالبہ کیا کہ اگر کوئی شخص کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث ہے تو اسے گرفتاری کے بعد عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ گرفتار شخص انفرادی طور پرآئینی طریقے سے عدالتوں میں اپنی صفائی پیش کرسکے۔ لیکن بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بیشتر قیدیوں کو عدالتی کاروائیوں سے دور رکھا جارہا ہے۔ نصیر آباد سے گرفتار ہونے والے سینکڑوں لوگوں سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں سے گرفتار ہونے والے ہزاروں لوگوں کو عدالتوں میں پیش کرنے کے بجائے انہیں لاپتہ رکھا جا رہا ہے، اس طرح کے اعمال بذاتِ خود ریاستی قانون کی خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ بی بی گل بلوچ نے مطالبہ کیا کہ لوگوں کی بلا جواز گرفتاریوں کو روکنے اور ہزاروں گمشدہ لوگوں کی بازیابی کے لئے عدلیہ، میڈیا، انتظامیہ اور حکومت کے زمہ دار اپنا کردار کریں۔ – 

مزید خبریں اسی بارے میں

Close