گوادر کے لوگوں پر ایسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں تاکہ وہ اپنی زمینیں غیر بلوچوں کو فروخت کردیں۔ بی ایس او آزاد

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب میں سی پیک کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ میڈیا اور پیسوں کے بدلے چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کی تعریف کے لئے زمین آسمان ایک کرنے والے لکھاریوں کے مطابق سی پیک منصوبہ بلوچوں کے لئے خوشحالی کا باعث بنے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیندک، ریکوڈک، گڈانی پاور پلانٹ جیسے بڑے استحصالی منصوبے جس طرح بلوچوں کی معاشی و معاشرتی نسل کشی کا باعث بنے، سی پیک منصوبہ ان سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہے۔ سی پیک منصوبہ کسی ایک شہر کو متاثر نہیں کررہا بلکہ بلوچستان کے باالخصوص وہ تمام علاقے جن سے یہ راہداری ممکنہ طور پر گزرے گی، اس کے منفی اثرات ابھی سے نکل مکانی ، قتل عام اور جبری گمشدگیوں کی صورت میں واضح ہونا شروع ہوئے ہیں۔ گوادر کے مقامی لوگوں کے لئے ایسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں تاکہ وہ مجبوراََ اپنی زمینیں غیر بلوچوں کو بیچ دیں اور اپنی زمینوں سے دستبردار ہوجائیں۔ اس منصوبے کی شکل میں بلوچوں کی مستقبل کو کثیرالجہتی خطرات کا سامنا ہے جنہیں جھوٹے دعوئے اور خوشنماء وعدوں سے چھپایا جا سکتا ہے اور نہ کہ بندوق کے زور پر اس منصوبے کی تباہ کاریوں کے خلاف لکھنے اور بولنے والوں کو خاموش کیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان کے وہ تمام منصوبے جو کہ ریاست پاکستان نے زبردستی کامیاب کروائے ہیں، ان کے اثرات بلوچ نسل کشی، بلوچ عوام کی معاشی قتل عام اور بے دخلیوں کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ البتہ سیندک ، ریکوڈک یا سوئی کی نسبت سی پیک کی ہولناکیاں بلوچوں کے لیئے زیادہ ہونگی کیوں کہ اس میں اہم پارٹنر یا مالک کے طور پر چین بھی شامل ہے جس کے پاس اس اہم اقتصادی منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیئے بلوچوں کی نسل کشی کے لیئے پاکستان کی فوج اور ان کی اپنی جدید ٹیکنالوجی موجود ہے ۔ ان دونوں کے سہارے چین بڑی بے دردی سے بلوچوں کی نسل کشی کا آغاز کرنے جارہی ہے جس میں کرایہ کے قاتل کے طور پر پاکستان کی فوج اس کے ہم رکاب ہے جبکہ چین کے پاس اپنی جدید تریں ٹیکنالوجی بھی ہے جن سے وہ آسانی کے ساتھ پاکستان کے سب سے بڑے رقبے کے مالک محدود بلوچوں کو چن کر نشانہ بناسکتی ہے۔ اس منصوبے کو تکمیل تک پہنچنے میں ایک اندازے کے مطابق بیس سال کا عرصہ لگ سکتا ہے، اس کے مغربی روٹ کی فعالیت اس امر سے مشروط ہے کہ آس پاس آباد بلوچوں کو اپنے جدی پشتی زمینوں کی ملکیت سے بلا مشروط ایسے کربناک حالات پیدا کر کے دستبردار کیا جائے کہ جس میں سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔اس فارمولے پر عمل درامد کرتے ہوئے چین نے پاکستان کی فوج کی مدد سے گوادر سے لے کرتربت تا آواران ابتدائی طور پر سخت زمینی و فضائی آپریشن شروع کی ہے، جس میں اقتصادی راہداری منصوبے کی مغربی روٹ کے قرب وجوار میں آباد مقامی باشندوں کی اکثریت اپنے گھر بار زمین اور مال و ملکیت چھوڑ کر خالی ہاتھ یہاں سے نکلنے پر مجبور کردی گئی ہے ۔ اس وقت کی صورتحال یہ ہے کہ گوادر سے آواران تک اکثر چھوٹے گاؤں اور دیہات آبادی سے خالی ہوگئے ہیں ۔مقامی آبادی اپنی برسوں کی جدی پشتی ملکیت چھوڑ کر جان بچانے کی خاطر مختلف مقامات اور شہروں میں منتشر ہوگئے ہیں جبکہ فوج کی بربریت سرچ آپریشن اور فضائی نگرانی کی صورت میں تسلسل کے ساتھ جاری ہے حتی کہ جن لوگوں میں ہجرت کی سکت نہیں تھی ان کے مکانات ’’جو زیادہ تر جھونپڑیوں پر مشتمل تھے‘ کو بھی آگ لگا کر تباہ کردیئے گئے ہیں اور انہیں بزور طاقت کسی بھی صورت نقل مکانی پر مجبور کردیاگیا ہے ۔ مستقبل کے لیئے مقامی آبادی کے خلاف سول اور عسکری سرکار کی منصوبہ بندی حکام کے اعلانات اور در پردہ اطلاعات کے مطابق کہیں زیادہ خطرناک ہیں جن کی صورت برسر زمین نظر آرہی ہیں ۔ مستقبل کے پلاننگ میں گوادر سے آواران تک بیشتر علاقے کو مکمل فوجی حصار میں لیا جا ئیگا جس کی منصوبہ بندی ابھی سے کی جارہی ہے ۔بلوچستان کی صوبائی حکومت عملا معطل اور ایف سی بلوچستان میں ایک متوازی حکومت کے طور پر تمام ریاستی امور حتیٰ کہ صوبائی عام معاملات کو بھی اپنے کنٹرول میں لے چکی ہے جن میں انتظامی معاملات سے لے کر صحت ،تعلیم اور صوبائی حکومت کی ترقیاتی اسکیمیں تک ایف سی کی کنٹرو ل میں ہیں ۔صوبائی حکومت کے منصوبے جن میں سڑکوں کی تعمیر شامل ہے براہ راست ایف سی نے اپنے کنٹرول میں لیئے ہیں جن میں ضلع کیچ کے بلیدہ ٹو تربت اور تربت ٹو تمپ سڑک کی تعمیر کا منصوبہ بطور مثال موجود ہے اسی طرح آواران بازار سے تیرتیج ایف سی کیمپ تک کے روڈ کا ٹھیکہ بھی ایف سی نے لیا ہوا ہے ، وہاں پر کام کرنے والے غیر بلوچ ہیں۔پنجگور اور آواران میں ایسے درجنوں منصوبوں کا ٹھیکہ ایف سی نے صوبائی حکومت سے حاصل کیئے ہیں۔ بلوچستا ن کے اکثر بلوچ ایریاز میں اسکول ایف سی کے قبضے اور کنٹرول میں ہیں ۔ مشکے، آواران، کولواہ، دشت، پروم ، تمپ سمیت کئی شہروں کے پرائمری ، ہائی اسکول اور حتیٰ کہ گورنمنٹ انٹرکالج مشکے کو بھی اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے، جہاں کم از کم 2013اور2014کے بعد سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہوکررہ گئی ہیں۔محکمہ تعلیم سے وابستہ افیسران اپنی ملازمت کے چھن جانے اورلاپتہ ہونے کے ڈر سے ان تمام معاملات پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، دیہی علاقوں میں صحت کے بنیادی مراکز پر ایف سی اور آرمی کا قبضہ ہے حتی کہ اساتذہ اور میڈیکل اسٹاف کی ڈیوٹیوں کی نگرانی کا زمہ بھی فوج کے انہی اداروں نے لے لیا ہے جنہیں سرحدوں میں ہونا چاہیے تھا ۔ اسکولوں میں ایف سی کی طرف سے واضح مداخلت کر کے تعلیم پر بریک لگایا ہوا ہے اسکولوں کے اسٹاف اور محکمہ ایجوکیشن کے افیسران کو ہرسرکاری اہم ایام مثلا 14اگست، 11نومبر،6ستمبر وغیرہ کی تقریبات میں لازمی شرکت کرنے کی ہدایت کرتے ہیں جن میں طلباء کی رضامندی بحر طور شامل نہیں ہوتی اب ایسے تمام پروگرامات ایف سی خود اپنی نگرانی میں ترتیب دیتی ہے۔گوادر تا آواران بشمول ضلع کیچ اور پنجگور کے تمام علاقوں کو فوجی حصار میں لینے کی مکمل منصوبہ بندی فوج اور حکوم کی ترجیحات میں شامل ہے۔ سی پیک منصوبے کی حفاظت کے لئے اس منصوبے کو تکمیل تک پہنچانا فوج اور حکومت کے لئے از حد ضروری ہوگیا ہے، اس کی قیمت مقامی آبادیوں کی انخلا ء یا بلوچ قتل عام کی صورت میں بہرطور مقامی بلوچوں کو ادا کرنا ہوگا۔اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیئے اگلے سال 2017میں ایف سی کو دو حصوں میں منقسم کر نے کی پلاننگ ہے۔ ایف سی کی تعیناتی جوکہ بلوچستان میں پہلے سے ایک درجن کے قریب پراکسی گروہوں کی تشکیل اورہزاروں عام لوگوں کی گمشدگی کا سبب بن گئی، اسے وسعت دینے کے لئے دوسرا ایف سی ہیڈکوارٹر تربت میں تعمیر کیا جارہا ہے جو کہ ایک آئی جی کے کمانڈ میں ہوگا ۔ اقتصادی راہداری کو کامیاب بنانے اور بلوچستان سے سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے کے ساتھ بلوچ نسل کشی کے لیئے اس کے علاوہ بھی کئی خطرناک منصو بے بنائے گئے ہیں۔گوادر جو کہ سی پیک کا ماخذ ہے ،وہاں کا پورا ایریا ایک فوجی زون میں تبدیل کردیاگیا ہے ایف سی، کوسٹ گارڈ اور نیوی کے علاوہ ایک بریگیڈیئر کی نگرانی میں پہلے مرحلے پر وہاں دس ہزار ریگولر آرمی تعینات کردی گئی ہے ۔اسی طرح فوج کی آئندہ منصوبہ بندی میں ضلع کیچ بھی شامل ہے جہاں مقامی انتظامیہ کے مطابق ڈی بلوچ سے میرانی ڈیم تک ایف سی ہیڈ کوارٹر کی تعمیر کے لیئے فوج پچاس ہزار ایکڑ زمین استعمال کریگی اور ظاہر ہے کہ اسے مقامی آبادی سے خرید کر نہیں بلکہ زبردستی چھین کر اپنا قبضہ جمایا جائے گا۔ساتھ میں دشت کے پہاڑی علاقہ ( لوڈی ئے جنگجاہ ) جو میرانی ڈیم کے قریب پڑتا ہے وہاں بھی ایک فوجی کیمپ بنانے کے لیئے مقامی انتظامیہ کو ایف سی نے نوٹس کردیا ہے ۔ انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق ایک آفیشل میٹنگ میں بھی مزکورہ مقام پر فوجی حکام نے کیمپ کی تعمیر کے لیئے مشاورت کی اور اسے’’ آئیڈیل‘‘ جگہ کہا۔ حال ہی میں فو ج کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کیچ کے توسط سے تحصیل تربت کے شمالی ایریا کلگ سھرانی تا گھنہ تقریبا ایک ہزار ایکڑزمین پاکستان آرمی کو فوجی مقاصد کے لیئے دینے کے اشتہارات اخبارات میں دیئے گئے ہیں، تلار اور ڈی بلوچ میں آرمی پہلے سے ہی موجود ہے۔اس کے ساتھ اگر صرف ضلع کیچ میں فوجی کیمپ ، چیک پوسٹوں اور چوکیوں کا جائزہ لیا جائے تو ہوش اڑا دینے کو کافی ہونگے کیوں کہ مقامی آبادی کی تعداد سے کہیں زیادہ اس علاقے میں فوج کو لانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ مستقبل میں یہاں پہ فوجی اڈوں کی تفصیل کچھ یوں بنتی دکھائی دے رہی ہے’’ ایف سی کیمپ تربت، ایف سی کیمپ آبسر، ایف سی کیمپ تمپ، ایف سی کیمپ مند اور ایف سی کیمپ ہوشاپ ، آرمی کیمپ ہیرونک، آرمی کیمپ گیشکور، آرمی کیمپ بالگتر، آرمی کیمپ تلار ، آرمی کیمپ ڈی بلوچ یہ قدرے بڑے فوجی اڈے ہیں، راستے میں قائم چیک پوسٹ ان کے علاوہ ہیں جبکہ آئندہ سال کے منصوبو ں میں ایف سی ہیڈ کوارٹر تربت، ایف سی کیمپ دشت ( لوڈی جنگجاہ )ایف سی کیمپ ذرین بگ دشت، ایک ہزار ایکڑ پر محیط آرمی کیمپ سھرانی کلگ تربت صرف ایف سی اور پاکستان آرمی کے منصوبوں میں شامل ہیں جبکہ پاکستان نیوی کے دو کیمپ بھی تربت اور دشت میں موجود ہیں جنہیں 2017تک مکمل فعال کر کے فوجی مقاصد کے لیئے استعمال کیا جائیگا۔ تربت ایئرپورٹ سے متصل نیوی کیمپ اسی سال مکمل ہوا تھا اور اسے 2017میں مکمل فعال بنا کر استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ دشت کنچتی میں 30سے40ہزار ایکڑ پر مشتمل نیوی کیمپ مقامی لوگوں کی زمینوں پر قبضہ جما کر قائم کیا گیا ہے سی پیک کی سیکیورٹی کے لئے اسے بھی جلد فعال کیے جانے کا امکان ہے کیوں کہ یہ اقتصادی راہداری منصوبہ اور موجودہ ایم ایٹ سڑک کے عین قریب واقع ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے اسے رتو ڈیرو تک لے جایا جائیگا اور یہاں سے بڑی حد تک آسانی سے علاقے کی نگرانی ہوسکتی ہے ایم ایٹ منصوبہ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں فوج نے شروع کیا گیا تھا۔ فوجی مقاصد کے تحت بننے والے ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد مکران ڈویژن کا بیشتر علاقہ چھاؤنی کی صورت اختیار کریگی اور لا محالا مقامی آبادی کو مختلف بہانوں سے نقل مکانی اور ہجرت پر مجبور کیا جائیگا، جس کی شروعات ابھی سی کی جاچکی ہے ۔سی پیک کا ابتدائی مرحلہ ابھی شروع نہیں ہوا ہے اور مقامی آبادی کو پوری طرح فوجی شکنجے میں لا یا گیا ہے۔ روز سرچ آپریشن اور فضائی نگرانی کے ساتھ بالخصوص دیہی علاقوں میں لوگوں کے مکانات کو نذر آتش کرنے، نہتے لوگوں کو گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کرنے اور لوٹ مار کی کاروائیاں زور و شور سے جاری ہیں ۔ جن علاقوں میں فوجی آپریشن ہورہی ہے یا لوگوں کو اغواء اور ان پر تشدد کا حربہ استعما ل کیا جارہا ہے وہاں پہ میڈیا پر سخت بندشیں لگائی ہوئی ہیں۔ ایسے واقعات پر مبنی معمولی خبریں بھی لوکل میڈیا پر چلانا آرمی کو گوارا نہیں اورایسا کرنے کی صورت میں بغاوت کا الزام ہے اور بغاوت کا مطلب واضح طورپر موت اور سالوں کی گمشدگی ہے۔ ان چشم کشا حقائق سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں چائنا پاکستان درمیان ہونے والی تجارت بلوچ عوام سے کیسی بھیانک قیمت وصول کرنے والی ہے۔بلوچستان کے تمام علاقوں، خصوصاََ وہ علاقے جہاں پر سرمایہ کاری کے منصوبے زیر تعمیر ہیں پہلے سے ہی شدید ترین فوجی آپریشن کی زد میں ہیں۔ اب سی پیک کے نام پر بننے والی طویل سڑک کے ملحقہ علاقے بھی اس سزا کا حقدار ٹہرائیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانیت کے علمبردار صحافی اور دیگر متعلقہ عالمی تنظیمیں بلوچستان کی سنگین صورت حال اور ان سرمایہ کاریوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہ کن صورت حال کا نوٹس لیکر اپنی نمائندہ ٹیمیں بلوچستان بھیجیں، تاکہ کنٹرولڈ میڈیا اور ریاست کے جھوٹے پروپگنڈوں کی حقیقت اور بلوچ عوام کی حالت زار کوعالمی سطح پر آشکار کیا جا سکے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close