پنجگور: اسیران کے رشتہ داروں کا اپنے پیاروں کی رہائی کیلے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے مظاہرہ

پنجگور (ریپبلکن نیوز ) بلوچستان کے ضلع پنجگور میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے پنجگور کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنےوالےلاپتہ افراد کے اہلخانہ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر پنجگور کے دفتر کے سامنے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے احتجامی مظاہرہ کیا گیا۔

احتجاج شامل مظاہرین نے کہا ہےکہ ہمارے بچوں کو گزشتہ چار پانچ سالوں سےمختلف مقامات اور گھروں پر چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا،  کئی سال گزرنے کے باوجود بھی انکا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے،  ممتاز کے والدہ نے کہا کہ میرے دوبیٹوں کو مختلف مقامات پر ایف سی کے اہلکاروں نے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا، مختار احمد کو ایک سال پہلے پکنک سے اورممتازکو 2016  کو بازار سے گرفتار کیاگیا۔

احتجاج میں شامل دیگر لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے اپنے پیاروں کا نام بتاتے ہوئے کہا ہے کہ عرض محمد سکنہ پروم خیر بخش ولد حضور بخش سکنہ پروم کو 16/10/2014 میں عبدالرب ولد اللہ بخش کوکوئٹہ سے التیاز ولدصبر آللہ گھرسے چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا ہےکہ گزشتہ چار پانچ سالوں سے ہمارےپیارے لاپتہ ہیں ہم نے انکی بازیابی کیلئے تمام قانونی و  آئینی راستے اختیار کئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے بچے بےقصور ہیں اگر انکا کوئی قصور ہے تو انہیں منظر عام پر لایا جائے اور انہیں عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر قصور وار پائے گئے تو انہیں باقاعدہ قانونی صورت میں عدالتوں میں سزا دیا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بچوں کی عدم بازیابی کی وجہ سے گھروں میں ماتم ہے ہم انکی یاد میں نہ جی سکتے ہیں نہ مر سکتے ہیں، انکے چھوٹے چھوٹے بچے بابا کرکے رات بھر سوتے نہیں ہیں، گھر کو چلانے والے بھی یہی ہیں گھر میں دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے پیاروں کو منظر عام پر نہیں لایا گیا تو ایف سی کیمپ کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close