شہید کہری مری و انکے خاندان کے افراد نے بہادری کی مثال قائم کردی

کوئٹہ / مضمون (ریپبلکن نیوز) 21 نومبر 2007 بلوچ رہنما بالاچ مری کے شہادت کا دن ہے، بابا کہری کا شمار بالاچ مری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا، بالاچ مری علاقائی صورت حال اور صلاح مشورے کے لیے اکثر بابا سے رائے لیتے تھے اور وہ ہمیشہ بابا کہری کے رائے کا احترام کرتے تھے۔

بالاچ مری کےشہادت کے کئی سال بعد ، 21 نومبر کے ہی دن 2011میں چمالنگ میں پاکستانی فوج اور مزاحمت کاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھی غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ بلوچستان کے اس علاقے میں شدید ترین جھڑپ تھی، اس میں پاکستانی فوج کے40 سے زیادہ اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے،  ہلاک ہونے والوں میں میجر اور کئی افسر شامل تھے۔ اس لڑائی میں ایک بلوچ مزاحمت کار بھی شہید ہوا تھا، وہ کوئی اور نہیں بابا کہری کا بڑا بیٹا دریحان مری تھا، اس کے 2 سال بعد اس کا بتیجھا تروگل مری اپنے 10 ساتھیوں کے ساتھ ایک مہینے کے طویل پیدل گشت پر نکلتے ہیں،  30 دن کے بعد جب وہ واپس آئے تو ساتھیوں نے کہا آپ گھر جائے بہت تھک گئے ہو لیکن وہ انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کافی سگنت اس وقت چھٹی پر ہیں میں اس وقت نہیں جاسکتا، کچھ دیر چلنے کے بعد کہی دور سے فائرنگ کی آواز سنائی دیتی ہے ، اس وقت تروگل صرف تین ساتھیوں کے ساتھ کیمپ کی طرف آرہا تھا،  تروگل نے رابطہ آن کیا تو پتہ چلا بی آر اے کے ایک کیمپ پہ پاکستانی فوج نے حملہ کیا ہے اور ساتھی گھیرے میں ہیں۔

مزید مضامین:

سوشل میڈیا کی طاقت اور منقسم بلوچ کارکنان

سرنڈر شدہ بلوچ مزاحمتکاروں کی جنگِ آزادی میں دوبارہ واپسی

عدم برداشت ایک ذہنی مرض ہے، جلد ہی اپنا علاج کروائیں

تروگل نے اپنے کمانڈر سے رابطہ کیا اور صورت حال سے آگاہ کیا اور کہاہمیں اس وقت بی آر اے کی مدد کرنی چاہیے کمانڈر نے کہا ٹھیک ہے  آپ لوگ جائیں میں کچھ اور ساتھیوں کو روانہ کردیتا ہوں،  تروگل اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں پہنچتا ہے کافی تیز گرمی کے اور مسلسل ایک مہینے کے سفر کے بعد بھی وہ دوڑتے ہوئے ساتھیوں کی مدد کے لیے پہنچ جاتا ہے اور باہر کی طرف سے فوج پر اچانک حملہ کردیتا ہے۔

شہید کہری مری اپنے دو بیٹوں سمیت قابض پاکستانی فورسز کے حملے میں شہید ہوگئے جبکہ انکا بھائی شدید زخمی حالت میں گرفتار ہوا، جو تاحال لاپتہ ہے۔

 

قابض فوج اس حملے سے پریشان ہوکر اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوجاتا ہے، اس موقع بی آر اے کے ساتھیوں نے ریاستی فورج پر جوابی حملہ کیا، دو طرفہ فائرنگ سے پاکستانی فوج حواس باختہ ہوجاتا ہے، اور بی آر اے اپنے مورچے سمبھال لیتا ہے اور شدید جھڑپیں شروع ہوجاتی ہیں۔

شام تک قابض فوج کے 22 اہلکار  ہلاک اور کئی زخمی ہوجاتے ہیں،  بی آر اے اور بی ایل اے کے تین ساتھی بھی شہید ہوتے ہیں، تروگل مری نے لڑائی کے دوران کئی فوجیوں کا پیچھا کیا، ایک ایک کرکے ان کو نشانہ بناتا گیا۔ 7 فوجی بچ کر ایک غار میں چھپ گئے،  شام کے وقت ساتھیوں نے رابطہ کیا اور پوچھا آپ کہا ہوں تو تروگل نے کہا میں نے کچھ فوجی غار میں دھکیل دیئے ہیں اب وہ ڈر سے باہر نہیں آرہے، اتنے میں قابض فوج کے کئی ہیلی کاپٹر آتے ہیں اور پھر سے فائرنگ شروع ہوجاتی ہے۔

کئی گھنٹے لڑنے کے بعد وہ فضائی حملے کی زد میں آجاتا ہے او سینے میں گولی لگنے کے باعث وہ شدید زخمی ہوجاتا ہے،  ایک ساتھی تروگل کے پاس آیا تو روگل نے مسکرا کر کہا کہ پانی پلا دو صبح سے کچھ نہیں پیا، یہ کہتے ہوئے تروگل اس دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے۔

 اس طرح کئی ساتھیوں کو باحفاظت نکالنے والا کوئی اور نہیں بابا کہری کا بہادر بھتیجا تھا اور وہ صرف 27 سال کا تھا، آج کئی برس بعد پھر بہادری کی ایک اور مشال قائم ہوگئی ہے۔ کچھ دن پہلے بابا کہری اپنے دو بیٹوں نجیب اللہ مری اور ڈاڈا عرف طفیل مری کے ساتھ شہید ہوگیا۔ اس حملے میں ان کا بھائی زخمی حالت میں قابض ریاستی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوا، جو اب تک لاپتہ ہے۔

 اس جھڑپ میں پاکستانی فوج کے 12 اہلکار ہلاک ہوئے تھے،  پہلے لڑائی میں پاکستانی فوج کے 40 اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ بڑا بیٹا دریحان مری شہید ہوا تھا، دوسری لڑائی میں 22 فوجی ہلاک اور بھتیجا تروگل شہید ہوا اور  تیسری لڑائی میں 12 اہلکار ہلاک تو کہری مری اپنے دو بیٹوں سمیت شہید ہوا۔

تحریر: میر ساول بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker